Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زندگی کے آخری لمحات

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری لمحات کے حالات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: حملہ کے بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: اے امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ! جنت کی بشارت قبول کیجیے، جب لوگوں نے کفر کیا تو سیدنا عمرؓ اسلام لائے، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑا تو آپؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کیا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آپؓ سے خوش تھے، آپؓ کی خلافت پر کسی نے اختلاف نہ کیا اور اب آپؓ رخصت ہورہے ہیں تو شہادت کی موت پا رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ پھر دوبارہ کہو! میں نے اپنی بات پھر دہرائی۔ آپ کہنے لگے: قسم ہے اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں! اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں قیامت کی ہولناکی سے نجات پانے کے لیے زمین کے سارے خزانے نچھاور کر دیتا۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق: صفحہ 383)

اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری مصاحبت اور آپ کی رضا مندی کے متعلق جو کچھ ذکر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے جس سے اس نے مجھے نوازا اور جو میری بے چینی اور غم دیکھ رہے ہو وہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے ہے۔ اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہو تو عذاب الہٰی کو دیکھنے سے پہلے اس سے نجات پانے کے لیے اسے فدیہ دے دوں۔

(صحیح البخاری: مع الفتح: فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 3692)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اللہ کے عذاب سے اس قدر لرزاں تھے باوجودیہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اسی دنیا میں جنت کی بشارت دے چکے تھے اور خود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حکومت اسلامیہ کے قیام، عدل، زہد اور جہاد جیسے اعمال صالحہ کے لیے اپنی ساری توانائی صرف کر دی تھی، لہٰذا مقام عبرت ہے تمام مسلمانوں کے لیے کہ وہ اللہ کے سخت عذاب اور روز قیامت کی ہولناکیوں کو یاد کریں اور خوف کھائیں۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 19 صفحہ 33)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری لمحات کی منظر کشی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس طرح کرتے ہیں: ’’میں جان کنی کے وقت آخری لمحات میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کا سر ان کے فرزند عبداللہ کے زانو پر تھا۔ سیدنا عمرؓ نے اپنے بیٹے سے کہا: میرا رخسار زمین پر رکھ دو، عبداللہ نے کہا: کیا میرے زانو اور زمین میں کوئی فرق ہے؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے، میرا رخسار زمین پر رکھ دے۔ آپ نے دوسری یا تیسری مرتبہ یہ بات کہی۔ پھر آپ نے اپنے دونوں پاؤں آپس میں ملا لیے۔ اس وقت آپ کو یہ کہتے ہوئے میں نے سنا کہ: ’’بربادی ہے میری اور میری ماں کی اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف نہ کیا۔‘‘ آپ یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ روح جسم سے جدا ہوگئی۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الفاروق: صفحہ 383)

یہ ہے امیرالمؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خشیت الہٰی کی ایک مثال کہ دنیا ہی میں جنت کی بشارت مل جانے کے باوجود موت کے وقت زبان سے جو آخری کلمہ ادا کرتے ہیں اس میں کہتے ہیں کہ: ’’اگر اللہ کی مغفرت سے محرومی ہوئی، اور اے نفس! تیری بربادی ہو۔‘‘ آپ ایسی بات کیوں نہ کہتے جب کہ آپ کو اللہ کی معرفت حاصل تھی اور جس شخص کو جتنا زیادہ اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اتنی ہی اللہ کی خشیت اس کے دل میں پنہاں ہوتی ہے۔ سیدنا عمرؓ کا اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصرار کرنا کہ میرے رخسار کو زمین پر رکھ دو، یہ بھی اللہ کی تعظیم اور دعا کی جلد از جلد قبولیت کے لیے کسر نفسی کی ایک علامت تھی، جو ہمیں بتاتی ہے کہ آپ کا تعلق الہٰی کس قدر مضبوط اور معتمد تھا۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 19 صفحہ 44، 45)