زہد
علی محمد الصلابیقرآن کے سایہ میں زندگی گزار کر، نبی صادق و امین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختیار کر کے اور حیاتِ فانی کا جائزہ لے کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بخوبی سمجھ لیا تھا کہ دنیا ابتلاء و آزمائش کا گھر اور آخرت کی کھیتی ہے چنانچہ آپؓ نے دنیا داری، اس کے حسن و زیبائش اور چمک دمک سے خود کو دور رکھا تھا۔ ظاہر و باطن ہر اعتبار سے اپنے ربّ کے سامنے خود کو جھکا دیا تھا اور ایسے حقائق کی جڑیں آپؓ کے دل میں پیوست ہو چکی تھیں جو اس دنیا سے زہد و بے نیازی پر آپؓ کی معاون و مددگار ہوتی تھیں۔ وہ حقائق یہ ہیں:
اس بات پر کامل یقین تھا کہ ہم اس دنیا میں ایک اجنبی یا مسافر کے مشابہ ہیں، جیسا کہ ارشادِ نبویﷺ ہے:
کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ۔
(سنن الترمذی: کتاب الزہد: حدیث: 2333۔ یہ حدیث صحیح ہے)
ترجمہ: ’’تم دنیا میں اس طرح زندگی گزارو گویا کہ اجنبی ہو یا مسافر۔‘‘
اللہ ربّ العزت کے نزدیک اس دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ بس اتنی ہی قابلِ قدر ہے کہ جتنے میں اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کر لی جائے۔ فرمانِ نبوی ہے:
لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَائٍ۔
(سنن الترمذی: کتاب الزہد: حدیث: 2320)
ترجمہ: ’’اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مکھی کے پر کے بھی برابر ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ بھی پانی نہ پلاتا۔‘‘اور فرمایا:
إِنَّ الدُّنْیَا مَلْعُوْنَۃٌ مَلْعُوْنٌ مَا فِیْہَا إِلَّا ذِکْرُ اللّٰہِ وَمَا وَالَاہُ وَعَالِمٌ أَوْمُتَعَلِّمٌ۔
(سنن الترمذی: کتاب الزہد:حدیث: 2322 امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث ’’حسن غریب‘‘ ہے۔ )
ترجمہ: ’’دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے، مگر اللہ کا ذکر اور جو اس کی رضا کے لیے کام کیے ہوں، یا عالم یا متعلّم۔‘‘
دنیا کی زندگی بہت جلد ختم ہونے کے قریب ہے، ارشادِ نبوی ہے:
بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔ قَالَ: وَضَمَّ السَّبَابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔بعثت أنا والساعۃ کہاتین بالسبابۃ والوسطٰی۔
(صحیح مسلم: کتاب الفتن وأشراط الساعۃ: حدیث: 135، 132، 2950)
’’میری بعثت اور قیامت کے درمیان ان دونوں کی طرح فاصلہ ہے ۔‘‘راوی کہتا ہے: پھر آپ نے سبابہ شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی اٹھائی۔
اور یہ کہ آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، آخرت ہمیشہ کا ٹھکانا ہے، جیسے کہ قوم فرعون کے مومن فرد نے کہا تھا:
يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الۡقَرَارِ ۞مَنۡ عَمِلَ سَيِّـئَـةً فَلَا يُجۡزٰٓى اِلَّا مِثۡلَهَا وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ۞(سورۃ غافر: آیت 39، 40)
(اخلاق النصر فی الصحابۃ: دیکھئے السید محمد نوح: صفحہ 48 ،49)
ترجمہ: ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو معمولی فائدے کے سوا کچھ نہیں اور یقیناً آخرت، وہی رہنے کا گھر ہے جس نے کوئی برائی کی تو اسے ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بے حساب رزق دیے جائیں گے۔‘‘
یہ حقائق سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں رچ بس گئے تھے جس کی وجہ سے آپؓ نے دنیا اور اس کی چمک دمک کو نظر انداز کردیا تھا اور اس سے بے نیاز ہو کر زندگی گزارنے لگے تھے۔ ذیل میں زہد سے متعلق حضرت عمر فاروقؓ کے چند واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ہے:
ابوالاشہب (آپ کا نام جعفر بن حیان سعدی ہے)کا بیان ہے کہ ایک گھور کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ کے پاس سے حضرت عمرؓ کا گزر ہوا آپؓ وہاں تھوڑی دیر ٹھہر گئے، آپؓ کے ساتھیوں کو یہ عمل ناگوار گزرا، آپؓ نے ان سے فرمایا: یہ تمہاری دنیا ہے جس پر تم فدا ہو اور اس پر مرمٹ رہے ہو۔
(الزہد: الامام أحمد: صفحہ 118)
سالم بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم ہمیں دنیا کی لذتوں کی پروا نہیں ہے، ہم یہ نہیں چاہتے کہ بکری کے چھوٹے بچے کو بھوننے کا حکم دیں، پھر وہ ہمارے کھانے کے لیے تیار کیا جائے اور بہترین روٹی تیار کرنے کا حکم دیں اور ہمارے لیے روٹیاں پکائی جائیں اور کشمش کا شربت بنانے کا حکم دیں کہ ہمارے لیے تیار کیا جائے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں کو دستر خوان پر رکھا جائے تو چکور کی آنکھوں کی طرح تمام چیزیں اس پر چمک رہی ہوں، پھر اس کو کھائیں اور پییں، بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اپنی نیکیوں کو بچا کر رکھیں، اس لیے کہ ہم نے اللہ کا فرمان سنا ہے:
اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰـتِكُمۡ فِىۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا ۞( سورۃ الأحقاف: آیت 20)
ترجمہ: '’تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں۔‘‘
ابو عمران جونی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا: ہم کھانے والوں سے زیادہ کھانے کی لذت کو جانتے ہیں، لیکن ہم اسے اس دن کے لیے چھوڑ رہے ہیں جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں ہے۔
يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَمَا هُمۡ بِسُكٰرٰى وَلٰـكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيۡدٌ ۞(سورۃ الحج: آیت 2)
’’جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اس سے غافل ہوجائے گی جسے اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی۔‘‘
سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا کے بارے میں غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر دنیا کو ترجیح دوں تو آخرت کا نقصان اٹھاتا ہوں اور اگر آخرت چاہتا ہوں تو دنیا کا نقصان اٹھاتا ہوں۔ لہٰذا جب معاملہ اس طرح ہے تو فانی دنیا ہی کا نقصان اٹھانا بہتر ہے۔
(الحلیۃ: جلد 1 صفحہ 50۔ یہ روایت انقطاع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ مناقب عمر: ابن الجوزی: صفحہ 138 )
ایک مرتبہ آپ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے حالانکہ آپؓ خلیفہ تھے اور آپؓ کی تہبند میں بارہ پیوند لگے تھے۔
(الزہد: لإمام أحمد: صفحہ 124۔ یہ روایت متعدد طرق سے منقول ہے)
ایک مرتبہ سیدنا عمرؓ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے اور آپؓ کی لنگی میں بارہ 12 پیوند لگے تھے، ان میں ایک سرخ رنگ کے چمڑے کا تھا۔
(الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 328 اس کی سند صحیح ہے۔)
ایک مرتبہ جمعہ کے موقع پر آپؓ گھر سے دیر سے نکلے اور اپنی تاخیر کا عذر بیان کرتے ہوئے کہا: میں اپنے یہ کپڑے دھو رہا تھا اور میرے پاس اس کے علاوہ دوسرے کپڑے نہ تھے۔
(محض الصواب فی فضائل الأمیر المومنین الخطاب: جلد 2 صفحہ 566)
عبد اللہ بن عامر بن ربیعہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حج کے دوران مدینہ سے مکہ تک میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ رہا، ہم حج سے واپس بھی آ گئے، لیکن راستے میں آپؓ کے لیے کہیں کوئی شامیانہ یا خیمہ نہیں لگایا گیا، بلکہ چادر اور چٹائی وغیرہ درخت پر ڈال دیتے اور آپؓ اس کے نیچے بیٹھ کر سایہ حاصل کر لیتے۔
(الطبقات، ابن سعد: جلد 3 صفحہ 279 اس کی سند صحیح ہے۔)
یہ ہیں امیر المؤمنین سیّدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ جو مشرق سے مغرب تک اپنی رعایا پر حکومت کرتے ہیں اور زمین پر ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے ہیں۔
ایک مرتبہ امّ المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا آپؓ کے پاس آئیں، دیکھا کہ آپؓ تنگی اور دنیا سے بے تعلقی کی زندگی گزار رہے ہیں، جس کی علامتیں آپؓ کے جسم پر ظاہر ہیں، تو کہا: اللہ تعالیٰ نے بڑے احسانات کیے ہیں اور روزی آپ کے لیے کشادہ کر دی ہے، اگر آپؓ عمدہ کھانا اور نرم کپڑا پہنتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ آپؓ نے فرمایا: معاملہ تمہارے سپرد کرتا ہوں تم خود فیصلہ کر لو، پھر آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تنگ گزر بسر کا حوالہ دیا اور برابر رسول اللہﷺ کے نامساعد حالات اور آپؓ کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی تنگ دستی کا ذکر کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کو رلا دیا، پھر فرمایا: میرے دو ساتھی تھے، وہ ایک ہی راستہ پر چلے، اگر میں بھی ان ہی کی طرح تنگ دستی کی زندگی گزار لوں تو شاید فارغ البالی اور کشادہ دستی کے وقت ان دونوں کے ساتھ رہ سکوں۔
(الزہد: لإمام أحمد: صفحہ 125، الطبقات: جلد 3 صفحہ 277)
دنیا آپؓ کی نگاہوں کے سامنے اور قدموں کے نیچے آ چکی تھی۔ آپؓ کے عہدِ خلافت میں اس کی بیشتر سلطنتیں فتح ہو چکی تھیں اور دُنیا ذلیل وخوار ہو کر آپؓ کے قدموں پر گر رہی تھی۔ لیکن کبھی آپؓ نے اس کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں اور نہ کبھی دل میں اس کی خواہش پیدا ہوئی۔ بلکہ دین الہٰی کو قوت دینے اور مشرکوں کی شان و شوکت توڑنے میں ہی آپؓ نے پوری بھلائی اور سعادت سمجھی، گویا آپؓ کی شخصیت میں زہد و تقویٰ ایک نمایاں صفت تھی۔
(الفاروق أمیر المؤمنین: دیکھئے لماضۃ: صفحہ 11)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! حضرت عمر بن خطابؓ رضی اللہ عنہ ہم سے ہجرت میں مقدم نہ تھے، میں جانتا ہوں کہ آپؓ کس چیز میں ہم سے افضل تھے، آپؓ ہمارے مقابلہ میں سب سے زیادہ زاہد اور دنیا سے بے زار شخص تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ: أخرجہ ابن ابی شیبۃ: جلد 8 صفحہ 149 اس کی سند جید ہے۔ ابن عساکر: جلد 52 صفحہ 244)
-
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا زہد و تقویٰ اور نماز جنازہ
-
زہد اور شکر
-
زہد
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے زہد و ورع کی مثالیں
-
ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا
-
مسلک اہل بیت
-
اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم
-
سیرت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ
-
کمالات نبوت کے آئینہ دار
-
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا زہد و تقویٰ اور نماز جنازہ
-
شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک روایت
-
اصحاب صفہ رضی اللہ عنہم
-
صفہ میں قیام کرنے کا مقصد
-
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
-
اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
-
امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات
-
علامہ محمد عبدالستار تونسوی رحمۃ اللہ کی حیات وخدمات
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عقیدہ میں
-
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل
-
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مختصر سوانح و فضائل
-
مختصر احوال و فضائل سیدنا علی بن محمد المعروف سیدنا نقی رحمۃ اللہ
-
شیخین رضی اللہ عنہم کے بعد دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہ کی تعلیمات
-
تعارف لفظ اہل بیت رضی اللہ عنہم
-
سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
-
مقدمہ
-
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حلال کی تلاش
-
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور قرآن
-
خوف الہٰی
-
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعض اہم اوصاف اور چند فضائل
-
سقیفہ بنی ساعدہ
-
شوریٰ کی کاروائی میں سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی
-
حکمت کی باتیں جو زبان زد ہوئیں
-
اہم شخصی اوصاف
-
خلافت صدیقی پر اجماع
-
مدنی زندگی میں آپﷺ کے مواقف
-
مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن مجید کی روشنی میں
-
منصب خلافت اور خلیفہ
-
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی عاتکہ اور کستوری
-
ام سلیط زیادہ حق دار ہیں
-
ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی خبر گیری
-
عبادات کا اہتمام
-
علم اور تعلیم و تربیت کی قدرت و صلاحیت
-
زہد اور شکر
-
طلب علم پر رغبت دلانے والے فاروقی اقوال
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا
-
شامی درس گاہ
-
فرمان فاروقی سنت کو لازم پکڑو یقینا تمہیں حکومت ملے گی کی مختصر توضیح
-
افسران کی تقرری کے وقت چند شرائط کی پابندی کا معاہدہ
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے گورنران ریاست کی چند اہم صفات و خصوصیات
-
زہد
-
گورنران کے مادی حقوق
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خطبہ
-
بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء
-
تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ
-
تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ
-
تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ
-
مسلمانوں کی امانت و دیانت کے چند بے نظیر نمونے
-
معرکۂ فحل سے کچھ پہلے رومیوں کے پاس سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی سفارت
-
اے ابوعبیدہ تمہارے علاوہ ہم سب کو دنیا نے بدل دیا
-
زندگی کے آخری لمحات
-
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا اہتمام
-
لوگوں کی دینی تعلیم و تربیت اور اسلام کی نشر و اشاعت
-
جنگی قائدین کی تائید
-
جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ کرنا اور اہل یمن کو جہاد پر نکلنے کا حکم
-
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرنا اور معرکہ اجنادین و یرموک
-
موت کا وقت قریب آ گیا
-
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے القاب
-
امہات المؤمنین اور دیگر صحابیات کا تذکرہ
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ڈھلتی رات سرگوشیاں
-
دوسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عہد عمر رضی اللہ عنہما میں
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سخاوت کا بیان
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے زہد و ورع کی مثالیں
-
عمدہ التحقیق در افضلیت ابوبکر صدیق بجواب زہدہ التحقیق
-
منکرین حدیث کی تعریف و شناخت
-
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی بیعت کرنے والوں کا زہد
-
مسئلہ فدک
-
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم جناب ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مدینے سے باہر کیوں اور کس کے کہنے پہ نکالا ؟
-
میدان کربلا میں اکیس صحابی رسول کی شہادت (اہل سنت و اہل تشیع معتبرکتب)
-
مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف
-
امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ
-
شیعہ کی سیاسی تاریخ
-
قتل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اجماع کا رافضی دعوی اور اس پر رد
-
ابو ذر اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلاف کی حقیقت اور اس بارے عثمان رضی اللہ عنہ کا موقف
-
شیعہ اور اہل بیت رضی اللہ عنهم
-
شیعہ سے 185 سوالات
-
مطالبہ میراث کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کردار
-
دھوکہ نمبر 14
-
دھوکہ نمبر 16
-
دھوکہ نمبر 71
-
دھوکہ نمبر 85
-
ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)
-
پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات
-
جنگ سے فرار کبیرہ گناہ ہے صحابہ رضی اللہ عنہم دو بار فرار کے مرتکب ہوئے ایک احد کے دن دوسرا حنین میں۔
-
شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید
-
فصل:....صالح و طالح کی عدم مساوات
-
اکثر فلاسفہ کا قول:عالم کا مادہ اس کی صورت پر متقدم ہے
-
کیا اہل سنت میں بھی غلو پایا جاتا ہے؟ .... ایک اعتراض اور اس کا جواب
-
فصل:....قریش کی امامت وخلافت
-
فصل:....شیعہ اور یقین نجات
-
فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام
-
فصل:....موسی بن جعفر
-
فصل: ....علی بن موسی الرضا
-
فصل:....فضائل علی ھادی العسکری
-
فصل:....محمد بن حسن مہدی
-
فصل:....عصمت آئمہ اور رافضی کا غرور
-
فصل: ....حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اور لقب صدیق ؟
-
فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات
-
فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق رافضی پر رد
-
فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض
-
فصل:....رافضی دعوی کا فساد
-
واجب الاتباع مذہب کے بیان میں
-
فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام
-
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کی بیعت کرنے والوں کا زہد
-
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کا اثبات
-
ملحدین کی ریشہ دوانیوں کا سبب رافضی حماقتیں
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جاہل اور ظالم کی رافضی تقس
-
شیعہ کے بیان کردہ جھوٹے اوصاف
-
امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پچیسویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بتیسویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تینتیسویں دلیل:
-
باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر احادیث نبویہ سے استدلال
-
فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نویں دلیل: حدیث: سلام امارت]
-
فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل :دیگراحادیث]
-
فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت
-
فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ
-
چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر استدلال فصل :....آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور حد درجہ عالم و شجاع تھے
-
فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ عدیم المثال تھے
-
فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم تصوف
-
فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]
-
فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]
-
فصل:....[سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خانہ تلاشی کا واقعہ ]
-
فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]
-
آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت
-
شیعہ کا اپنی پیدائشی برتری کا عقیدہ
-
ملک عبد العزیز رحمۃ اللہ بن محمد بن سعود پر قاتلانہ حملہ
-
دروزی معاشرے کی اقسام اور دروزی معاشرے میں خواتین کی حالت
-
آیت استخلاف فی الارض
-
ایران میں سنی مسجد گرانے کا واقعہ
-
صفات کمال کا مفصل اثبات اور صفات نقص کی مجمل اور مختصر نفی :
-
نفرت کے وجوب اور اعتماد کے خاتمہ کے قول پر تبصرہ :
-
انبیائے کرام علیہم السلام افضل ترین مخلوق ہیں:
-
ملائکہ کی حقیقت
-
فتنہ خلق قرآن اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا دور ابتلاء:
-
دین اور اختلاف کا وقوع
-
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بقول اہل سنت رسول اللہﷺ کی رحلت کے چھ ماہ بعد ہوا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال یا اڑھائی برس رسول خداﷺ کے بعد ہوا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے 26 ذی الحجہ 24ھ کو انتقال فرمایا تو کیا وجہ تھی کہ دونوں بزرگوں کو جو نبی اکرمﷺ کے بعد کافی عرصہ کے بعد انتقال کرتے ہیں۔ روضہ رسولﷺ میں دفن ہونے کے لئے جگہ مل گئی اور رسول خداﷺ کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ ئ مادر حضرت حسنین رضی اللہ عنہما کو باپ کے پاس قبر کی جگہ نہ مل سکی کیا خود حضرت فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا نے باپ سے علیحدگی قبر کی وصیت کی تھی یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حکومت وقت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا یا مسلمانوں نے بضعئہ رسولﷺ کو قبر رسولﷺ کے پاس دفن نہ ہونے دیا فاعتبروا یاولی الابصار۔
-
اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف نہ تھا تو ان تینوں حکومتوں کے دور میں کسی جنگ میں شریک کیوں نہ ہوئے جب کفار سے جنگ کرنا بہت بڑی عبادت و سعادت ہے اور اگر کثرت افواج کی وجہ سے ضرورت محسوس نہ ہوئی تو جنگ جمل و جنگ صفین میں بنفس نفیس کیوں ذوالفقار کو نیام سے نکال کر میدان میں اترے کیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ شجاع تھے؟ یا حکومت وقت کے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے تعلقات اچھے نہ تھے کہ سیف اللہ کا خطاب حضرت خالد بن ولیدؓ کو مل گیا نیز تعلقات اچھے ثابت کرتے ہوئے تاریخ طبری سے جو دو مکالمے مولانا شبلیؒ نے کتاب الفاروق صفحہ 285 پر نقل کیے ہیں پیش نظر رہیں انصاف سے یہ دونوں مکالمے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے مابین ہیں پڑھ کر فیصلہ صادر فرمائیں۔
-
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)
-
رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔
-
علم حقیقت کے ماخذ
-
تاریخ میں اسماعیلیوں کا منفی کردار
-
مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام
-
شیعہ اور اہل بیت