Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زہد

  علی محمد الصلابی

قرآن کے سایہ میں زندگی گزار کر، نبی صادق و امین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختیار کر کے اور حیاتِ فانی کا جائزہ لے کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بخوبی سمجھ لیا تھا کہ دنیا ابتلاء و آزمائش کا گھر اور آخرت کی کھیتی ہے چنانچہ آپؓ نے دنیا داری، اس کے حسن و زیبائش اور چمک دمک سے خود کو دور رکھا تھا۔ ظاہر و باطن ہر اعتبار سے اپنے ربّ کے سامنے خود کو جھکا دیا تھا اور ایسے حقائق کی جڑیں آپؓ کے دل میں پیوست ہو چکی تھیں جو اس دنیا سے زہد و بے نیازی پر آپؓ کی معاون و مددگار ہوتی تھیں۔ وہ حقائق یہ ہیں:

 اس بات پر کامل یقین تھا کہ ہم اس دنیا میں ایک اجنبی یا مسافر کے مشابہ ہیں، جیسا کہ ارشادِ نبویﷺ ہے:

کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ۔ 

(سنن الترمذی: کتاب الزہد: حدیث: 2333۔ یہ حدیث صحیح ہے)

ترجمہ: ’’تم دنیا میں اس طرح زندگی گزارو گویا کہ اجنبی ہو یا مسافر۔‘‘

 اللہ ربّ العزت کے نزدیک اس دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ بس اتنی ہی قابلِ قدر ہے کہ جتنے میں اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کر لی جائے۔ فرمانِ نبوی ہے:

لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَائٍ۔

(سنن الترمذی: کتاب الزہد: حدیث: 2320)

ترجمہ: ’’اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مکھی کے پر کے بھی برابر ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ بھی پانی نہ پلاتا۔‘‘اور فرمایا:

إِنَّ الدُّنْیَا مَلْعُوْنَۃٌ مَلْعُوْنٌ مَا فِیْہَا إِلَّا ذِکْرُ اللّٰہِ وَمَا وَالَاہُ وَعَالِمٌ أَوْمُتَعَلِّمٌ۔

(سنن الترمذی: کتاب الزہد:حدیث: 2322 امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث ’’حسن غریب‘‘ ہے۔ )

ترجمہ: ’’دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے، مگر اللہ کا ذکر اور جو اس کی رضا کے لیے کام کیے ہوں، یا عالم یا متعلّم۔‘‘

 دنیا کی زندگی بہت جلد ختم ہونے کے قریب ہے، ارشادِ نبوی ہے:

بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔ قَالَ: وَضَمَّ السَّبَابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔بعثت أنا والساعۃ کہاتین بالسبابۃ والوسطٰی۔

(صحیح مسلم: کتاب الفتن وأشراط الساعۃ: حدیث: 135، 132، 2950) 

’’میری بعثت اور قیامت کے درمیان ان دونوں کی طرح فاصلہ ہے ۔‘‘راوی کہتا ہے: پھر آپ نے سبابہ شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی اٹھائی۔

 اور یہ کہ آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، آخرت ہمیشہ کا ٹھکانا ہے، جیسے کہ قوم فرعون کے مومن فرد نے کہا تھا:

يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الۡقَرَارِ ۞مَنۡ عَمِلَ سَيِّـئَـةً فَلَا يُجۡزٰٓى اِلَّا مِثۡلَهَا وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ۞(سورۃ غافر: آیت 39، 40)

(اخلاق النصر فی الصحابۃ: دیکھئے السید محمد نوح: صفحہ 48 ،49)

ترجمہ: ’’اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو معمولی فائدے کے سوا کچھ نہیں اور یقیناً آخرت، وہی رہنے کا گھر ہے جس نے کوئی برائی کی تو اسے ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بے حساب رزق دیے جائیں گے۔‘‘

یہ حقائق سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں رچ بس گئے تھے جس کی وجہ سے آپؓ نے دنیا اور اس کی چمک دمک کو نظر انداز کردیا تھا اور اس سے بے نیاز ہو کر زندگی گزارنے لگے تھے۔ ذیل میں زہد سے متعلق حضرت عمر فاروقؓ کے چند واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ہے:

ابوالاشہب (آپ کا نام جعفر بن حیان سعدی ہے)کا بیان ہے کہ ایک گھور کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ کے پاس سے حضرت عمرؓ کا گزر ہوا آپؓ وہاں تھوڑی دیر ٹھہر گئے، آپؓ کے ساتھیوں کو یہ عمل ناگوار گزرا، آپؓ نے ان سے فرمایا: یہ تمہاری دنیا ہے جس پر تم فدا ہو اور اس پر مرمٹ رہے ہو۔ 

(الزہد: الامام أحمد: صفحہ 118)

سالم بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم ہمیں دنیا کی لذتوں کی پروا نہیں ہے، ہم یہ نہیں چاہتے کہ بکری کے چھوٹے بچے کو بھوننے کا حکم دیں، پھر وہ ہمارے کھانے کے لیے تیار کیا جائے اور بہترین روٹی تیار کرنے کا حکم دیں اور ہمارے لیے روٹیاں پکائی جائیں اور کشمش کا شربت بنانے کا حکم دیں کہ ہمارے لیے تیار کیا جائے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں کو دستر خوان پر رکھا جائے تو چکور کی آنکھوں کی طرح تمام چیزیں اس پر چمک رہی ہوں، پھر اس کو کھائیں اور پییں، بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اپنی نیکیوں کو بچا کر رکھیں، اس لیے کہ ہم نے اللہ کا فرمان سنا ہے:

 اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰـتِكُمۡ فِىۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا ۞( سورۃ الأحقاف: آیت 20)

ترجمہ: '’تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں۔‘‘

ابو عمران جونی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا: ہم کھانے والوں سے زیادہ کھانے کی لذت کو جانتے ہیں، لیکن ہم اسے اس دن کے لیے چھوڑ رہے ہیں جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں ہے۔

يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَمَا هُمۡ بِسُكٰرٰى وَلٰـكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيۡدٌ‏ ۞(سورۃ الحج: آیت 2)

’’جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اس سے غافل ہوجائے گی جسے اس نے دودھ پلایا اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی۔‘‘

سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا کے بارے میں غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ اگر دنیا کو ترجیح دوں تو آخرت کا نقصان اٹھاتا ہوں اور اگر آخرت چاہتا ہوں تو دنیا کا نقصان اٹھاتا ہوں۔ لہٰذا جب معاملہ اس طرح ہے تو فانی دنیا ہی کا نقصان اٹھانا بہتر ہے۔ 

(الحلیۃ: جلد 1 صفحہ 50۔ یہ روایت انقطاع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ مناقب عمر: ابن الجوزی: صفحہ 138 )

ایک مرتبہ آپ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے حالانکہ آپؓ خلیفہ تھے اور آپؓ کی تہبند میں بارہ پیوند لگے تھے۔

(الزہد: لإمام أحمد: صفحہ 124۔ یہ روایت متعدد طرق سے منقول ہے)

ایک مرتبہ سیدنا عمرؓ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے اور آپؓ کی لنگی میں بارہ 12 پیوند لگے تھے، ان میں ایک سرخ رنگ کے چمڑے کا تھا۔ 

(الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 328 اس کی سند صحیح ہے۔)

ایک مرتبہ جمعہ کے موقع پر آپؓ گھر سے دیر سے نکلے اور اپنی تاخیر کا عذر بیان کرتے ہوئے کہا: میں اپنے یہ کپڑے دھو رہا تھا اور میرے پاس اس کے علاوہ دوسرے کپڑے نہ تھے۔

(محض الصواب فی فضائل الأمیر المومنین الخطاب: جلد 2 صفحہ 566)

عبد اللہ بن عامر بن ربیعہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حج کے دوران مدینہ سے مکہ تک میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ رہا، ہم حج سے واپس بھی آ گئے، لیکن راستے میں آپؓ کے لیے کہیں کوئی شامیانہ یا خیمہ نہیں لگایا گیا، بلکہ چادر اور چٹائی وغیرہ درخت پر ڈال دیتے اور آپؓ اس کے نیچے بیٹھ کر سایہ حاصل کر لیتے۔ 

(الطبقات، ابن سعد: جلد 3 صفحہ 279 اس کی سند صحیح ہے۔)

یہ ہیں امیر المؤمنین سیّدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ جو مشرق سے مغرب تک اپنی رعایا پر حکومت کرتے ہیں اور زمین پر ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے ہیں۔

ایک مرتبہ امّ المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا آپؓ کے پاس آئیں، دیکھا کہ آپؓ تنگی اور دنیا سے بے تعلقی کی زندگی گزار رہے ہیں، جس کی علامتیں آپؓ کے جسم پر ظاہر ہیں، تو کہا: اللہ تعالیٰ نے بڑے احسانات کیے ہیں اور روزی آپ کے لیے کشادہ کر دی ہے، اگر آپؓ عمدہ کھانا اور نرم کپڑا پہنتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ آپؓ نے فرمایا: معاملہ تمہارے سپرد کرتا ہوں تم خود فیصلہ کر لو، پھر آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تنگ گزر بسر کا حوالہ دیا اور برابر رسول اللہﷺ کے نامساعد حالات اور آپؓ کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی تنگ دستی کا ذکر کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کو رلا دیا، پھر فرمایا: میرے دو ساتھی تھے، وہ ایک ہی راستہ پر چلے، اگر میں بھی ان ہی کی طرح تنگ دستی کی زندگی گزار لوں تو شاید فارغ البالی اور کشادہ دستی کے وقت ان دونوں کے ساتھ رہ سکوں۔ 

(الزہد: لإمام أحمد: صفحہ 125، الطبقات: جلد 3 صفحہ 277)

دنیا آپؓ کی نگاہوں کے سامنے اور قدموں کے نیچے آ چکی تھی۔ آپؓ کے عہدِ خلافت میں اس کی بیشتر سلطنتیں فتح ہو چکی تھیں اور دُنیا ذلیل وخوار ہو کر آپؓ کے قدموں پر گر رہی تھی۔ لیکن کبھی آپؓ نے اس کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں اور نہ کبھی دل میں اس کی خواہش پیدا ہوئی۔ بلکہ دین الہٰی کو قوت دینے اور مشرکوں کی شان و شوکت توڑنے میں ہی آپؓ نے پوری بھلائی اور سعادت سمجھی، گویا آپؓ کی شخصیت میں زہد و تقویٰ ایک نمایاں صفت تھی۔ 

(الفاروق أمیر المؤمنین: دیکھئے لماضۃ: صفحہ 11)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! حضرت عمر بن خطابؓ رضی اللہ عنہ ہم سے ہجرت میں مقدم نہ تھے، میں جانتا ہوں کہ آپؓ کس چیز میں ہم سے افضل تھے، آپؓ ہمارے مقابلہ میں سب سے زیادہ زاہد اور دنیا سے بے زار شخص تھے۔ 

(مصنف ابن ابی شیبۃ: أخرجہ ابن ابی شیبۃ: جلد 8 صفحہ 149 اس کی سند جید ہے۔ ابن عساکر: جلد 52 صفحہ 244)