Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

1۔ خلفائے راشدینؓ کی سیرت اور ان کی تابناک تاریخ ایمان اور صحیح اسلامی جذبات کے مصادر میں سے ہے، جس سے امت برابر ایمانی روشنی حاصل کر رہی ہے اور اس سے سامان دعوت لے کر لوگوں کے دلوں میں انوار حق روشن کر رہی ہے تاکہ اسلامی دعوت و تاریخ اعدائے اسلام کے باطل جھونکوں سے بجھنے نہ پائے۔

2۔ مسلمان بلکہ پوری انسانیت کو آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل، حقائق اور ان کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے آثار کی معرفت حاصل کریں اور اس علو منزلت کو جانیں جس کی وجہ سے وہ بشریت کی تاریخ میں نادر مثالی حیثیت کے حامل قرار پائے۔

3۔ اسلامی تاریخ عام طور سے اور صدر اول کی تاریخ خاص طور سے تزویر، تشکیک اور تحریف و تبدیل اور حذف و اضافہ کا شکار ہوئی ہے۔ یہ بدترین کارنامے روافض و مستشرقین، یہود و نصاریٰ اور لادینی ذہنیت کے حاملین نے انجام دیے ہیں۔ اس لیے امت پر فرض کفایہ ہے کہ وہ حقائق کی تصحیح کریں۔ جو شخص اپنے اندر صدر اول کی تاریخ کی تصحیح کی صلاحیت رکھتا ہے اس کو اسے افضل ترین عبادت تصور کرتے ہوئے اپنی مقدور بھر جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تاکہ نوجوانان امت کے سامنے ان کے اسلاف کی صالح مثال ہو، جس کی وہ اقتداء کریں اور ان کے منہج پر چل کر اپنی سیرت وکردار کی اصلاح کریں اور وہ تابناک عہد تازہ کر دیں۔

4۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت دروس و عبر سے بھری ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکرؓ کی شخصیت تاریخ اسلام میں سب سے عظیم ہے۔ یہ صحابی جلیل دور جاہلیت ہی سے مکارم اخلاق اور صفات حمیدہ سے متصف رہے، نہ کبھی کسی بت کو سجدہ کیا اور نہ شراب پی۔

5۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انساب کے عالم تھے اور عربوں کے دلوں میں آپؓ کی جو محبوب ترین خصوصیت تھی، وہ یہ کہ انساب میں عیب نہیں نکالتے تھے اور نہ ان کے عیوب اور نقائص کا تذکرہ فرماتے۔ آپؓ قریش میں سب سے بڑے انساب کے ماہر اور قریش کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ آپؓ تجارت میں مشہور تھے، اپنا مال پوری فیاضی وسخاوت کے ساتھ خرچ کرتے اور جاہلیت میں یہ بات آپ کے سلسلہ میں معروف تھی۔

6۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک عظیم گراں مایہ خزانہ تھے، جسے اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کر رکھا تھا، قریش کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے۔ بلند اخلاق اور نرم خوئی کی وجہ سے لوگ آپؓ کے گرویدہ ہو جاتے اور آپؓ کا شمار ان عظیم لوگوں میں ہوتا تھا جو دوسروں سے مانوس ہوتے اور لوگ ان سے مانوس ہوتے ہیں۔

7۔ دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جدوجہد اس دین پر ایمان اور اللہ و رسول کی فرمانبرداری کی وہ تصویر پیش کرتی ہے جو ایک مومن صادق کی تصویر ہوتی ہے جس کو اس وقت تک قرار و سکون نہیں آتا جب تک لوگوں کے درمیان وہ چیز عام نہ ہو جائے جس پر وہ ایمان لایا ہے۔

8۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہوئے، دین کی خاطر آپؓ کو اذیت پہنچائی گئی، آپؓ کے سر پر مٹی ڈالی گئی، مسجد حرام میں جوتوں سے پٹائی ہوئی، یہاں تک کہ چہرے اور ناک کا پتہ نہیں چل رہا تھا، لوگ اٹھا کر گھر لائے۔

9۔ جرأت اور شجاعت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ممتاز صفات میں سے تھے۔ آپؓ حق کے بارے میں کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے، دین حق کی نصرت اور اس پر عمل پیرا ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرنے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے۔

10 ستائے ہوئے مسلمانوں کی گردن آزاد کرانے کی پالیسی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ منہج مستضعفین کو تعذیب سے نجات دلانے کے لیے اسلامی قیادت کے تیار کردہ منصوبہ میں شامل کیا گیا۔ آپؓ نے اسلامی دعوت کو مال اور افراد کے ذریعہ سے قوت بخشی، مسلمان غلام اور لونڈیوں کو خرید کر اللہ واسطے آزاد کر دیتے۔

11۔ آپؓ نے علم انساب کو دعوت الی اللہ کے وسائل کے طور پر استعمال کیا۔ اسی لیے عرب کے بازاروں میں قبائل کو دعوت دیتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہتے۔

12۔ مدینہ کی طرف ہجرت کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق سفر رہے۔ اسلام کی دعوت کے طلوع سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کا دایاں بازو رہے۔ پوری خاموشی اور گہرائی و گیرائی کے ساتھ سرچشمہ نبوت سے حکمت وایمان، یقین وعزیمت، تقویٰ واخلاص کا جام نوش فرماتے رہے۔ اس صحبت کے نتیجہ میں صلاح و صدیقیت، ذکر و بیدار مغزی، حب و صفائے عزیمت وپختگی کے ثمرات چنے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ وغیرہ (مثلاً لشکر اسامہ کو روانہ کرنا، حروب ارتداد) میں نمایاں اور قابل قدر مؤقف اختیار کیا۔ آپ نے فاسد کو درست کیا، منہدم کو تعمیر کیا، بکھرے ہوؤں کو جوڑا اور منحرف کو سیدھا کیا۔

13۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے، کوئی غزوہ آپ سے نہ چھوٹا اور احد کے روز جب سب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ڈٹے رہے اور تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عظیم پرچم آپؓ کو عطا کیا۔

14۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مدنی زندگی دروس و عبر سے بھری ہوئی ہے۔ فہم اسلام اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلہ میں ہمارے لیے زندہ مثال سیدنا ابوبکرؓ نے چھوڑی ہے۔ آپ کی شخصیت عظیم صفات کے ساتھ ممتاز ہے۔ بہت سی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی مدح و تعریف اور دیگر صحابہ کرامؓ پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت و فوقیت بیان فرمائی ہے۔

15۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اللہ پر عظیم ایمان کے مالک تھے۔ آپؓ نے حقیقت ایمان کو سمجھا تھا اور کلمہ توحید آپؓ کے قلب وروح میں پیوست ہو چکا تھا، اس کے آثار آپؓ کے اعضاء وجوارح میں نمایاں ہو چکے تھے۔ ان آثار کے ساتھ آپؓ نے زندگی گذاری، آپؓ بلند اخلاق سے متصف اور برے اخلاق سے پاک رہے، شریعت الہٰی کی پابندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کے حریص رہے اور آپؓ کا ایمان باللہ آپؓ کی حرکت وہمت، نشاط وسعی، جہد ومجاہدہ، جہاد و تربیت اور عزت و سربلندی کا باعث رہا اور آپؓ کے دل میں بہت زیادہ ایمان ویقین تھا۔ اس سلسلہ میں صحابہ میں سے کوئی آپؓ کے مساوی نہ تھا۔

16۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والے اور سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والے تھے۔ اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ امت کے سب سے بڑے عالم ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ بہت سے لوگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور علم وفضل میں تمام صحابہ پر تقدم و فوقیت کا سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیشہ رہنا تھا۔ آپؓ ہمیشہ رات ہو یا دن، سفر ہو یا حضر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے۔ آپؓ عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر مسلمانوں کے مسائل کے سلسلہ میں گفتگو فرماتے۔ مدینہ سے جو پہلا حج کیا گیا اس کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو مقرر فرمایا اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ مناسک حج کا علم انتہائی دقیق ہے۔ اگر وسعت علم نہ ہوتی تو آپؓ کو امیر نہ بناتے۔ اسی طرح نماز میں آپ کو نیابت سونپی۔ اگر علم نہ ہوتا تو آپ کو نائب نہ مقرر کرتے۔ آپ کے سوا کسی دوسرے کو نہ تو حج میں اور نہ نماز میں نیابت سونپی اور زکوٰۃ کی تفصیلی کتاب جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا تھا، انس رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حاصل کی اور زکوٰۃ سے متعلق یہ سب سے صحیح ترین روایت ہے۔ اسی پر فقہاء وغیرہ نے ناسخ ومنسوخ کو سمجھنے کے سلسلہ میں اعتماد کیا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ آپؓ ناسخ حدیثوں کے بڑے عالم تھے۔ آپؓ سے کوئی ایسا قول منقول نہیں جو نصوص کتاب وسنت کے مخالف ہو۔ یہ آپؓ کے انتہائی درجہ مہارت و علم کی دلیل ہے۔

17۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ مضطرب و پریشان ہو کر ہوش وہواس کھو بیٹھے لیکن اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے امت کو ثبات عطا فرمایا اور اس موقع پر آپؓ نے عظیم مؤقف اختیار فرمایا اور اعلان کیا: ’’جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتے رہے ہوں وہ سن لیں! محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے ہیں وہ جان لیں اللہ تعالیٰ زندہ وجاوید ہے، اس پر موت طاری نہیں ہو سکتی۔‘‘ اسی طرح سقیفہ بنی ساعدہ میں آپ کا عظیم مؤقف سامنے آیا، امت کو کسی فتنہ سے دوچار کیے بغیر انصار کو اپنی رائے پر مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے مان لیا کہ یہی حق ہے چنانچہ آپؓ نے کتاب و سنت سے انصار کی فضیلت بیان کر کے ان کی تعریف کی۔

18۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے سقیفہ بنی ساعدہ کی گفتگو کے بعد ہی دعوائے امارت سے دست بردار ہو کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی اور آپؓ کی فرماں برداری کو قبول کیا اور آپؓ کے چچا زاد بھائی بشیر بن سعد انصاری سقیفہ بنی ساعدہ کے اجتماع میں سب سے پہلے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرنے والے شخص تھے۔ کسی صحیح نص کے ذریعہ سے چھوٹے یا بڑے کسی خلفشار کا ثبوت نہیں ملتا اور نہ کسی انقسام اور پارٹی بندی کا ثبوت ملتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک خلافت کا متمنی اور امیدوار رہا ہو، جیسا کہ بعض تاریخ نگاروں کا زعم ہے۔ اسلامی اخوت برابر برقرار رہی بلکہ صحیح نصوص کے مطابق اس میں مزید اضافہ ہوا اور تقویت حاصل ہوئی۔

19۔ متعدد آیات کریمہ اور احادیث نبویہ وارد ہوئی ہیں جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور اہل سنت والجماعت کا سلف سے لے کر خلف تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع رہا ہے کیونکہ ایک طرف آپ کی فضیلت و بزرگی اور خدمات جلیلہ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو دیگر صحابہ پر نماز کی امامت کے لیے مقدم کیا جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مراد ومقصود کو سمجھ لیا اور خلافت میں بھی آپؓ کو مقدم رکھنے پر اجماع و اتفاق فرمایا۔

20۔ اسلامی خلافت ہی وہ طریقہ کار ہے جسے امت اسلامیہ نے حکومت کے لیے طریقہ واسلوب کے طور پر اختیار کیا اور اس پر اجماع و اتفاق فرمایا جس کے ذریعہ سے امت اپنے امور و مسائل اور اپنے مصالح کی حفاظت کرتی رہی۔ خلافت کی نشوونما امت کی ضرورت اور تسلیم سے مرتبط رہی۔ اسی وجہ سے مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کے انتخاب میں جلدی کی۔ خلافت ہی مسلمانوں کا نظام حکومت ہے جس نے اپنے اصول مسلمانوں کے دستور کتاب وسنت سے حاصل کیے ہیں۔ فقہائے امت نے اسلامی خلافت کی بنیاد پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ شوریٰ اور بیعت یہ دو اصل ہیں جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے۔

21۔ علامہ ابوالحسن علی ندوی نے خلافت نبوت کے شرائط و متطلبات پر گفتگو کرتے ہوئے سیرت صدیقی کی روشنی میں دلائل و براہین سے ثابت کیا ہے کہ خلافت کی تمام شرائط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اندر موجود تھیں۔

22۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت کی بیعت عامہ کے بعد امت کو جو خطاب فرمایا، اپنے ایجاز کے باوجود چنندہ اسلامی خطبات میں سے ہے، اس کے اندر آپؓ نے حکومت کی قیادت کے لیے اپنے طریقہ کار کو بیان فرمایا اور حاکم و محکوم کے مابین تعامل کے سلسلہ میں عدل و رحمت کے اصول مقرر کیے اور اس بات پر زور دیا کہ حاکم کی اطاعت اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر موقوف ہوتی ہے اور امت کے قوت و غلبہ میں جہاد فی سبیل اللہ کی اہمیت کے پیش نظر اس کا خاص طور سے ذکر فرمایا اور معاشرہ کو زوال وفساد سے محفوظ رکھنے میں فواحش ومنکرات سے اجتناب کی اہمیت کے پیش نظر اس پر زور دیا۔

23۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت کے لیے تیار کردہ پالیسی کو نافذ کرنے کا ارادہ فرمایا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنا معاون و مساعد بنایا۔ چنانچہ امین امت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بیت المال کے امور یعنی وزارت مالیہ کا عہدہ سونپا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو قضاء کا محکمہ (وزارت عدل) حوالے کیا اور خود بھی قضاء کی ذمہ داری سنبھالتے رہے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو محکمہ کتاب (وزارت برید ومواصلات) حوالے کیا، اور بسا اوقات دیگر وقت پر موجود صحابہ جیسے علی بن ابی طالب یا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم یہ کام کرتے رہے۔ مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ رسول کا لقب دیا اور صحابہ کرامؓ نے یہ ضرورت محسوس کی کہ آپؓ کو منصب خلافت کے لیے فارغ کیا جائے چنانچہ امت نے آپ کے ضروری اخراجات کی کفالت کی۔

24۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے درمیان خلیفہ رسول کی حیثیت سے زندگی گذاری۔ چنانچہ آپؓ لوگوں کی تعلیم، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر برابر کرتے رہے، آپ کے کارناموں سے رعایا میں ہدایت وایمان اور اخلاق کی کرنیں پھوٹیں۔

25۔ دور صدیقی دور رشد کا آغاز ہے۔ دور نبوی سے متصل اور قریب ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت نمایاں ہے۔ خلافت راشدہ کا دور عام طور سے قضا اور خاص طور سے، دور نبوی میں ثابت شدہ تمام امور کی مکمل محافظت اور پھر نصاً ومعناً اس کی تنفیذ و تطبیق میں دور نبوی کے قضا کا امتداد تھا۔

26۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مختلف شہروں میں امراء و گورنر مقرر فرماتے اور ان کے ذمہ ادارت، حکومت، امامت، زکوٰۃ کی وصولی اور دیگر امور ولایت سونپتے۔ امراء اور گورنروں کے انتخاب وتقرر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا فرماتے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپؓ کے مقرر کردہ جو امراء و گورنر اپنے عہدہ پر فائز تھے ان میں سے کسی کو بھی آپؓ نے معزول نہیں کیا اِلایہ کہ کسی دوسری جگہ پر ان کی ضرورت واہمیت کے پیش نظر ان کی رضا ورغبت سے منتقل کیا ہو جیسا کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا۔ امراء اور گورنروں کے اختیارات بدرجہ اولیٰ انہی اختیارات کا امتداد تھے جو عہد نبوی میں موجود تھے۔ خاص کر وہ امراء و گورنر جن کی تعیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوئی تھی۔

27۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اسی طرح زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تاخیر سے متعلق بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں، جن کا صحت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوائے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت کے کہ علی و زبیر رضی اللہ عنہما فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں بیعت سے پیچھے رہ گئے۔ تو اس کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین میں مہاجرین کی ایک جماعت کی مشغولیت تھی، جن میں علی رضی اللہ عنہ پیش پیش تھے۔ چنانچہ زبیر بن عوام اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما دونوں نے وفات نبوی کے دوسرے دن بروز منگل ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

28۔  جس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے متعلق سوال کیا گیا تو آپؓ نے فاطمہ اور عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ’’ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم انبیاء جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوا کرتا ہے۔ آل محمد اس مال سے کھاتے رہیں گے۔‘‘ اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کرتے تھے اس کو میں چھوڑ نہیں سکتا، میں اسے ضرور کروں گا، مجھے خوف ہے کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤں گا۔‘‘

اور تاریخی حیثیت سے یہ ثابت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے دوران مدینہ کے فے، مال فدک اور خیبر کے خمس میں سے اہل بیت کا حق برابر دیتے رہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے آپ نے احکام میراث اس میں نافذ نہ کیا۔

29۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطاب میں خلیفہ رسول کی حیثیت واضح کی اور یہ بتلایا کہ وہ اللہ کے خلیفہ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہیں اور وہ بشر ہیں معصوم نہیں، وہ اس کی استطاعت وطاقت نہیں رکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت و رسالت کے ساتھ رکھتے تھے۔ وہ اپنی سیاست وپالیسی میں متبع ہیں مبتدع نہیں۔

30۔ لشکر اسامہ کو روانہ کرنے کے دروس و عبر میں سے یہ ہے کہ حالات کے اندر تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے لیکن حالات کی تبدیلی اور شدائد ومحن اہل ایمان کو امور دین سے مشغول نہیں کر سکتے اور تحریک دعوت کسی ایک فرد سے مرتبط نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واجب ہے، اہل ایمان کے درمیان اختلاف رونما ہو سکتا ہے لیکن اس کا حل کتاب وسنت ہے، دعوت عمل سے مربوط ہے اور اس سے خدمت اسلام میں نوجوانوں کے مقام و مرتبہ اور جہاد میں اسلامی آداب کا پتہ چلتا ہے۔ لشکر اسامہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہا۔ اس کے اثر سے شمال میں ارتداد کی تحریک سرد پڑ گئی اور اس کے لیے یہ کمزور ترین خطہ ثابت ہوا۔

31۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو عرب قبائل ارتداد کا شکار ہوئے اس کے مختلف اسباب تھے، من جملہ ان اسباب کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کا صدمہ، دین و نصوص کی کم فہمی، جاہلیت کا اشتیاق، نظام سے فرار اور اسلامی حکومت کے خلاف خروج، قبائلی عصبیت، حکومت و بادشاہت کی طمع، دین کے ذریعہ سے دنیا کمانا، مال میں بخیلی، حسد، خارجی اثرات جیسے یہود و نصاریٰ اور مجوس کی سازشیں۔

32۔ ارتداد کی مختلف اقسام تھیں: کچھ لوگوں نے اسلام کو کلی طور سے ترک کر دیا اور دوبارہ وثنیت اور بت پرستی میں لگ گئے، کچھ لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، کچھ لوگ ترک صلاۃ کے مرتکب ہوئے اور کچھ لوگ اسلام کا اعتراف کرتے ہوئے نماز قائم رکھتے ہوئے زکوٰۃ کی ادائیگی سے رک گئے، کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر خوشی منائی اور جاہلی عادات ورسوم کو اختیار کر لیا اور کچھ لوگ حیرانی اور تردد کا شکار ہو کر اس انتظار میں لگ گئے کہ غلبہ کس کو ملتا ہے۔ علمائے فقہ اور سیرت نگاروں نے ان سب کی وضاحت فرمائی ہے۔

33۔ مرتدین کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مؤقف میں ذرا بھی نرمی اور سودے بازی اور تنازل نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اصلی ہیئت وشکل میں دین کی سلامتی وبقا آپؓ ہی کی مرہون منت ہے۔ سب نے اس کو تسلیم کیا اور تاریخ نے اس بات کی شہادت دی کہ ارتداد کی تند و تیز آندھی کے سامنے (جو اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر تلی تھی) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو مؤقف اختیار کیا وہ انبیاء و رسل کا مؤقف تھا جو انہوں نے اپنے اپنے دور میں باطل کے سامنے اختیار کیا تھا اور یہی خلافت نبوت تھی جس کا حق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ادا کیا اور قیامت تک کے لیے مسلمانوں کی مدح وثنا اور دعا کے مستحق قرار پائے۔

34۔  یقیناً یہ بنیادی حقائق میں سے ہے کہ تمام لوگ ارتداد کا شکار نہ ہوئے تھے، بہت سے قائدین، قبائل، افراد اور جماعتیں ہر علاقہ میں اسلام کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہیں۔

35۔ حروب ارتداد کے دوران میں یمن میں خواتین کی دو مختلف ومتضاد تصویریں سامنے آئیں: ایک پاک باز و باعصمت خاتون کی تصویر، جس نے رذائل کے خلاف جنگ کی اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر شیاطین انس وجن کی قوت کو کچلنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی جیسے فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کی چچا زاد بہن اور شہر بن باذان کی بیوی آزاد فارسیہ کی شخصیت، اور دوسری تاریک تصویر حضرموت کی یہودی اور ان کی ہم نوا خواتین کی تصویر، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے شاداں وفرحاں ہوئیں اور فسق و فجور کے ساتھ رنگین راتیں قائم کیں، رذائل ومنکرات کا بازار گرم کیا ان کے ساتھ شیطان اور اس کے کارندوں نے ننگا ناچ ناچا اور اسلام سے لوگوں کے پھرنے اور اسلام کے خلاف بغاوت و جنگ کی دعوت پر جشن منایا۔

36۔ حق پر ثبات، اسلام کی دعوت اور اپنی قوم کو ارتداد کے خطرناک نتائج سے آگاہ کرنے اور ڈرانے کے سلسلہ میں بعض اہل یمن کا عظیم مؤقف رہا، انہی میں سے بادشاہان یمن میں سے مران بن ذی عمیر ہمدانی اور عبداللہ بن مالک الارحبی رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور کندہ کی شاخ بنو معاویہ کے شرحبیل بن سمط اور ان کے بیٹے تھے۔

37۔ حروب ارتداد کے بعد یمن مرکزی قیادت کے تحت متحد ہوا، جس کا دارالخلافہ مدینہ تھا۔ یمن کو تین اداری حصوں میں تقسیم کیا گیا، قبائل کو اساس نہ بنایا گیا: صنعاء، جند اور حضرموت۔ اور امارت و سرداری میں قبائلی عصبیت کو اساس نہ بنایا گیا، قبائل کی حیثیت فوجی یونٹ کی رہی اور اصل مقیاس ایمان، تقویٰ اور عمل صالح قرار پائے۔

38۔ معرکہ بزاخہ میں طلیحہ اسدی کی شکست فاش سے بہت سے قبائل دائرۂ اسلام میں واپس آگئے۔ چنانچہ بنو عامر اس معرکہ کے بعد یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے: ہم جہاں سے نکلے تھے وہاں واپس ہو جائیں گے۔ چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اہل بزاخہ، اسد، غطفان اور طے سے اور جن شرائط پر بیعت لی ان سے بھی بیعت لی۔

39۔ مالک بن نویرہ کے قتل کا اصل سبب اس کا کبر وغرور اور تردد تھا۔ اس کے اندر جاہلیت کا حصہ باقی رہا، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ رسول کی فرماں برداری اور بیت المال کے حق زکوٰۃ کی ادائیگی میں ٹال مٹول کیا۔

40۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مالک بن نویرہ کے قتل کی تحقیق کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا دامن اتہام قتل سے بری ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سلسلہ میں حقائق امور کا دیگر صحابہ کرامؓ کے مقابلہ میں زیادہ علم تھا، اس لیے کہ آپؓ خلیفہ تھے اور ساری خبریںآپ کو پہنچتی تھیں۔

41۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو والی مقرر کرنا اور ان سے تعاون لینا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کمال کی دلیل ہے کیونکہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اندر شدت تھی، آپ کی نرم طبیعت سے ان کی شدت نے مل کر اعتدال کی راہ لی کیونکہ مجرد نرمی اور مجرد سختی سے خرابی پیدا ہو سکتی ہے لہٰذا آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو مشیر رکھ کر اور خالد رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کر کے اعتدال پیدا کیا۔ یہ وہ کمال ہے جسے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔

42۔ مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا بحرین کے فتنہ کو مٹانے اور علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی فوج سمیت شامل ہونے میں بڑا اچھا اور عظیم کردار رہا۔ آپؓ اپنی فوج لے کر بحرین سے شمال کی طرف روانہ ہوئے اور قطیف اور ہجر پر قبضہ کرتے ہوئے دجلہ کے دہانے تک پہنچ گئے اور اپنے راستہ میں فارسی فوج اور فارسی نائبین وامراء کا قصہ تمام کیا۔ ان کی مہم کی خبریں برابر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہنچتی رہیں ان کے بارے ان کے ساتھیوں سے دریافت کیا تو قیس بن عاصم منقری نے ان کے بارے میں شہادت دی: یہ شخص گمنام اور مجہول النسب نہیں اور نہ رزیل آدمی ہے، یہ تو مثنیٰ بن حارثہ شیبانی عظیم شخصیت کے مالک ہیں۔

44۔ یمامہ میں لشکر خالد کے سامنے بنو حنیفہ کی ہزیمت و شکست تحریک ارتداد کے لیے کمر توڑ ثابت ہوئی۔ معرکہ یمامہ میں شہداء کی فہرست میں بہت سے حفاظ قرآن شامل تھے۔ جس کے نتیجے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے قرآن کو جمع کروایا اور یہ عظیم ذمہ داری صحابی جلیل زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے سپرد کی۔

45۔ دور صدیقی اور سیدنا ابوبکرؓ کے بعد خلفائے راشدینؓ کے دور میں تمکین وغلبہ کی تمام شرائط وجود میں آئیں اور اللہ رب العالمین کے بعد امت کو ان شرائط کی تذکیر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بڑا ہاتھ رہا۔ اسی لیے آپؓ نے اعراب کے زکوٰۃ کی عدم وصولی کے مطالبہ کو مسترد کر دیا، لشکر اسامہ کو روانہ کرنے پر مصر رہے، مکمل شریعت کا التزام کیا، چھوٹی یا بڑی کسی چیز سے تنازل قبول نہ کیا۔

46۔ حروب ارتداد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تیاری معنوی اور مادی ہر پہلو کو شامل تھی۔ آپ نے فوج تیار کی، فوجی دستے اور ان کے لیے پرچم مقرر کیے، قائدین وجرنیل منتخب کیے، مرتدین سے خط کتابت کی، صحابہ کو مرتدین سے قتال پر ابھارا، اسلحہ، گھوڑے، اونٹ جمع کیے، مجاہدین کو سازوسامان کے ساتھ تیار کیا، بدعت، جہالت، نفس پرستی کے خلاف جنگ کی، شریعت کو نافذ کیا، وحدت و اتحاد کے اصول اپنائے، کسی ذمہ داری کے لیے ذمہ دار کو مکمل فارغ کر دینے اور اس کے لیے مطلوبہ صلاحیت کے اصول کو اپنایا۔ چنانچہ خالد رضی اللہ عنہ کو فوج کی قیادت کے لیے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو جمع قرآن کے لیے، ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو جنگی خط کتابت کے لیے مقرر کیا اور امن اور نشر و اشاعت وغیرہ شعبوں کا بھرپور اہتمام کیا۔

47۔ دور صدیقی میں شریعت الہٰی کے نفاذ کی برکات صحابہ کرام کے غلبہ وتمکین کی شکل میں نمودار ہوئیں۔ اپنے اور اپنے اہل وعیال پر اللہ کے شعائر کو نافذ و قائم کرنے کے حریص بنے اور شریعت کے نفاذ میں اخلاص سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قوت وطاقت بخشی، مرتدین پر ان کو فتح نصیب فرمائی اور امن واستقرار عطا فرمایا۔

48۔ حروب ارتداد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو جہاد کیا یہ اللہ کی طرف سے آئندہ اسلامی فتوحات کی تیاری تھی۔ اس دوران میں پرچم ممتاز ہوئے، قدرتیں اور صلاحیتیں نمودار ہوئیں، طاقتیں ابھریں، جنگی قیادتوں کا انکشاف ہوا، قائدین نے انواع واقسام کے جنگی اسلوب اور منصوبے وضع کیے، سچی، مطیع و فرمانبردار، منضبط اور بیدار مغز عسکریت کی صلاحیتیں نمودار ہوئیں، جن کے سامنے قتال کے مقاصد و اہداف عیاں تھے اپنی کوششوں اور قربانیوں کا مقصد انہیں معلوم تھا، اسی لیے کار کردگی ممتاز رہی اور فدائیت عظیم رہی۔

49۔ جزیرئہ عرب اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ اللہ کے فضل و کرم اور پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جہاد سے پرچم اسلام کے نیچے متحد ہوا۔ اسلامی دارالخلافہ مدینہ کو پورے جزیرہ عرب پر کنٹرول حاصل ہوا۔ ایک زعیم و قائد کی قیادت میں ایک اصول و فکر کے تحت پوری امت چلنے لگی، یہ انتصار و غلبہ اسلامی دعوت اور امت کی وحدت کی فتح تھی، جو اختلاف وعصبیت کے عوامل و اسباب پر غلبہ پا کر حاصل ہوئی اور یہ اس بات کی دلیل و برہان تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت انتہائی شدید بحران و مشکلات پر غلبہ حاصل کرنے پر قادر تھی۔

50۔  تاریخی واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ دین اسلام کے خلاف تمرد وعصیان کی ہر کوشش خواہ فرد کی طرف سے ہو یا جماعت کی طرف سے یا حکومت وسلطنت کی طرف سے، اسے بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمرد وعصیان اللہ کے حکم (قرآن) کے خلاف تمرد وعصیان ہے جس کی حفاظت اور اس پر قائم رہنے والی جماعت کی حفاظت کی ذمہ داری خود رب العالمین نے لے رکھی ہے۔

51۔ جوں ہی ارتداد کی جنگ ختم ہوئی اور جزیرہ عرب میں استقرار آیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتوحات کے منصوبے کی تنفیذ شروع کر دی، جن کی پلاننگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی۔ چنانچہ آپؓ نے شام وعراق کو فتح کرنے کے لیے لشکر تیار کر کے روانہ کیا۔

52۔ فتح عراق کے قائدین خالد وعیاض رضی اللہ عنہما کو جو تعلیمات اور اوامر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جاری کیے وہ ترقی یافتہ فوجی حکیمانہ شعور پر دلالت کرتے ہیں، جن کے آپ مالک تھے۔ آپ نے مختلف حکیمانہ اور ٹیکنیکل عسکری تعلیمات دیں، دونوں مسلم قائدین کے لیے عراق میں داخلہ کے جغرافیائی حدود اور علاقوں کی تحدید فرمائی گویا کہ آپ خود حجاز میں مرکز قیادت (آپریشن روم) سے جنگ کی قیادت فرما رہے ہیں اور آپ کے سامنے عراق کا مکمل نقشہ ( Map) پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔

53۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عراق میں متعدد معرکے سر کیے جو فتح عراق کا سبب بنے، جیسے معرکہ ذات السلاسل، معرکہ مذار، معرکہ ولجہ، معرکہ الیس، فتح حیرہ، معرکہ انبار، معرکہ عین التمر، معرکہ دومۃ الجندل، معرکہ حصید، معرکہ مصیخ اور معرکہ فراض۔

54۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب شام کو فتح کرنے کا ارادہ فرمایا تو کبار صحابہ سے مشورہ فرمایا، اہل یمن سے جہاد پر نکلنے کا مطالبہ کیا، قائدین فوج کے پرچم متعین کیے اور شام کی طرف چار لشکر روانہ کیے اور یزید بن ابی سفیان، ابو عبیدہ بن جراح، عمرو بن عاص، شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم فتح شام پر نکلنے والی اسلامی افواج کے قائدین تھے۔

55۔ فتح شام پر مکلف کی ہوئی فوج کو مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ ان کے مقابلہ میں رومی سلطنت کی ترقی یافتہ فوج تھی، جو تعداد اور جنگی سازوسامان کے اعتبار سے امتیازی حیثیت کی حامل تھی۔ قائدین نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے خط کتابت کی اور ان کو اس سنگین صورت حال سے آگاہ کیا، تو آپ نے انہیں مختلف شامی علاقوں سے انخلاء کر کے یرموک میں ایک ساتھ جمع ہونے کا حکم فرمایا اور پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو فتح عراق پر متعین نصف اسلامی فوج کو لے کر شام پہنچنے اور وہاں کمان سنبھالنے کا حکم فرمایا۔

56۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رومی فوج پر مختلف معرکوں میں فتح وانتصار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں سے اہم اجنادین اور یرموک کے معرکے ہیں۔

57۔ محقق خلافت صدیقی میں خارجہ پالیسی کے اہم خطوط ونقوش کا استنباط کر سکتا ہے، جو یہ ہیں: دوسری اقوام کے دلوں میں اسلامی خلافت کی ہیبت و رعب جمانا، جہاد کو جاری رکھنا، جس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، مفتوحہ اقوام کے درمیان عدل وانصاف قائم کرنا اور ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا، ان سے زور زبردستی کو دور کرنا اور ان کے اور اسلام کے مابین بشری موانع کا خاتمہ۔

58۔ فتوحات صدیقی کا مطالعہ کرنے والا آپؓ کے جنگی منصوبہ کی بنیادی پلاننگ معلوم کر سکتا ہے۔ اس عظیم خلیفہ نے اسباب کا استعمال کیسے کیا؟ اور کس طرح یہ محکم منصوبہ مسلمانوں کے لیے فتح وتمکینِ الہٰی کے نزول کا سبب رہا؟ انہی پلاننگ میں سے یہ ہیں: دشمن کے ملک میں اندر گھسنے سے احتراز کیا جائے، یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے تابع ہو جائے، فوج اکٹھی کرنا اور مکمل تیاری، فوج کو امداد وکمک بھیجنے کا باقاعدہ انتظام، مقاصد جنگ کی تحدید، میدان معرکہ کی ضروریات کو اہمیت وفوقیت دیا، میدان معرکہ سے برطرفی، اسلوب قتال میں تطور وترقی، قائدین کے ساتھ روابط کی حفاظت، خلیفہ کی ذکاوت وزیر کی۔

59۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قائدین اور لشکر کو دی گئی تعلیمات میں اللہ کے حقوق کو بیان کیا، جیسے دشمن کے سامنے ڈٹ جانا، قتال میں اخلاص، امانت داری، اللہ کے دین کی نصرت وتائید میں ٹال مٹول اور کوتاہی نہ کرنا اور آپ نے لشکر ورعایا پر قائدین کے حقوق متعین کیے، جیسے قائدین کی اطاعت کا التزام کرنا، ان کی فرمانبرداری میں جلدی کرنا، مال غنیمت کی تقسیم میں ان سے اختلاف نہ کرنا وغیرہ۔

اسی طرح آپ نے اپنے خطوط اور وصیتوں میں فوج کے حقوق کو بھی تفصیل سے بیان کیا جیسے ان کا جائزہ لینا اور ان کے حالات کو برابر معلوم کرتے رہنا، سفر کے دوران میں ان پر نرمی کرنا، ان پر عریف و نقیب متعین کرنا، دشمن سے جنگ کے لیے صحیح جگہ ان کو اتارنے کے لیے متعین کرنا، لشکر کی ضرورت کے مطابق زاد وچارہ کا انتظام کرنا، لشکر کی حفاظت کی خاطر بااعتماد مخبروں اور جاسوسوں کے ذریعہ سے دشمنوں کی خبر معلوم کرتے رہنا، انہیں جہاد پر ابھارنا، ثواب اور جہاد کی فضیلت ان سے بیان کرتے رہنا، ان میں سے ذی فہم لوگوں سے مشورے کرنا، حقوق اللہ کی ادائیگی کی ان کو تلقین کرنا اور زراعت وتجارت میں لگ کر جہاد سے مشغول ہونے سے ان کو منع کرنا وغیرہ۔

ان سب حقوق کو میں نے آپ کے خطوط اور قائدین کو بھیجی گئی وصیتوں سے اخذ کیا ہے۔

60۔  فتوحات اسلامی میں غور و فکر کرنے والا یہ دیکھتا ہے کہ توفیق الہٰی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فوج کے شامل حال رہی۔ اس ظفر یاب فوج نے روم وفارس کی شان و شوکت کو خاک میں ملایا اور ان ممالک کو جنگ کی تاریخ میں انتہائی معمولی وقت میں فتح کیا۔ ان فتوحات کے اہم اسباب یہ تھے: مسلمانوں کا اس حق پر ایمان جس کی خاطر وہ جنگ کر رہے تھے، جنگی صفات کا مسلمانوں کے اندر رچ بس جانا، ان اقوام کے ساتھ مسلمانوں کا عدل و انصاف اور نرمی، جزیہ اور خراج کی تعیین میں مسلمانوں کی رحمت وشفقت، ان کے ساتھ ایفائے عہد، مسلمانوں کے پاس افراد وقائدین کی عظیم ثروت، اسلامی جنگی منصوبہ بندی کا محکم ہونا، وغیرہ۔

61۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے اور موت کا وقت قریب آیا تو آپ نے ہونے والے خلیفہ کے انتخاب کے لیے مختلف عملی اقدام کیے: مہاجرین و انصار میں سے کبار صحابہ سے مشورہ کرنا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کے نام کی تجویز دی اور تمام صحابہ نے اس پر اتفاق کر لیا تو آپ نے فرمان نامہ لکھوایا ہے جو مدینہ اور دیگر شہروں میں لوگوں کو پڑھ کر سنایا جائے،  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے عزائم سے آگاہ کیا اور آئندہ اقدامات سے باخبر کیا اور پورے ہوش و ہواس کی حالت میں بزبان خود لوگوں کو یہ بات بتلائی تاکہ کسی طرح کا التباس پیدا نہ ہونے پائے، دعا کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور مناجات کرنے لگے، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اس بات کا مکلف کیا کہ وہ لوگوں کو یہ فرمان نامہ پڑھ کر سنائیں، اپنی وفات سے قبل عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی بیعت لی اور عمر رضی اللہ عنہ کو تنہائی میں تعلیمات دیں۔

62۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لیے جو اقدامات کیے وہ کسی حالت میں بھی شورائیت کے منافی اور اس سے متجاوز نہیں۔ اگرچہ یہ اقدامات وہ نہ تھے جو خود ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے وقت اختیار کیے گئے تھے اور اس طرح شورائیت اور اتفاق رائے سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت وجود میں آئی اور تاریخ میں اس کے بعد آپ کی خلافت کے سلسلہ میں کوئی اختلاف رونما نہ ہوا اور نہ آپ کے دور خلافت میں کوئی آپ کا مدمقابل بن کر کھڑا ہوا اور آپ کی خلافت کے دوران میں آپ کی خلافت واطاعت پر مسلمانوں کا اجماع رہا، سب کے سب ایک ہی وحدت میں پروئے ہوئے تھے۔

63۔۔۔  دنیا میں اللہ کے دین کی نشرواشاعت کے راستہ میں عظیم جہاد کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انسانی تمدن اس شیخ جلیل کی مقروض رہے گی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی دعوت کا پرچم بلند کیا، آپ کے لگائے ہوئے پودے کی حفاظت کی، عدل وحریت کے بیج کی نگہبانی کی اور اسے شہداء کے پاکیزہ خون سے سیراب کیا، جس سے ہر طرح کے ثمرات امت کو وافر مقدار میں ملے اور تاریخ میں علوم وثقافت اور فکر کو عظیم تقدیم حاصل ہوا۔ تہذیب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی مقروض رہے گی کیونکہ آپ کے جہاد اور صبر عظیم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی حفاظت فرمائی اور اسلام کو اقوام وامم اور مختلف ممالک میں عظیم فتوحات کے ذریعہ سے پھیلا دیا۔

64۔ میری یہ متواضع کوشش قابل نقد اور رہنمائی کی محتاج ہے۔ یہ ایک حقیر کوشش ہے جس سے مقصود خلافت راشدہ کے دور کی حقیقت کی معرفت ہے تاکہ اس سے ہم نفاذ شریعت اور لوگوں میں اس کی نشر و اشاعت میں استفادہ کریں۔ میں ناقدین کی خدمت میں شاعر کا یہ قول پیش کرتا ہوں:

إن تَجِد عیبا فَسُدَّ الْخَلَلَا

جلَّ مَنْ لا عیب فیہ وعَلَا

’’اگر آپ کو کوئی نقص و عیب نظر آئے تو اس خلل کو دور کر دیجیے، صرف اللہ جل وعلا کی ذات ایسی ہے جس کے اندر کوئی نقص وعیب نہیں ہے، صرف اسی کا کام اس سے پاک ہے۔‘‘

میں عرش عظیم کے مالک اللہ علی وعظیم سے دعا گو ہوں کہ اس ناچیز کی کوشش کو اچھی طرح قبول فرمائے اور اس میں برکت عطا کرے اور اسے میرے ان اعمال صالحہ میں شمار فرمائے جس سے مجھے اس کی قربت حاصل ہو، مجھے اور میرے ان دوستوں کو اجر و ثواب سے محروم نہ کرے جنہوں نے اس کی تکمیل میں میرا تعاون کیا ہے، اور ہم سب کو انبیاء وصدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت نصیب فرمائے۔

میں اپنی اس کتاب کو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم کرتا ہوں:

رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞( سورۃ الحشرآیت 10)

ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمایئے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار ! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔ 

اور آخر میں ابن الوردی شاعر کا یہ قول پیش کرتا ہوں، جو اس نے اپنے لخت جگر سے کہا تھا:

اطلُبِ العلم ولَا تَکْسَلْ فما

أَبْعَد الخَیْر علی أَہلِ الکَسَلْ

’’علم طلب کر، سستی مت کر، سستی کرنے والوں سے خیر بہت ہی دور ہوتا ہے۔‘‘

احْقفل لِلْفِقْہِ فِی الدِّیْنِ وَلا

تشتغل عنہ بمال وحَوَل

’’دین کا علم وفہم حاصل کرنے کے لیے جت جا اور مال ومتاع کے چکر میں اس سے مشغول نہ ہو۔‘‘

وَاہجُرِ النَّومَ وَحَصِّلْہ فَمَنْ

یَعْرِفِ المطلوب یَحْقِرْ مَا بَذَلْ

’’نیند کو خیرباد کہہ دے اور اس کو حاصل کرنے میں لگ جا، جو مطلوب کی قدر وقیمت پہچانتا ہے وہ اپنی تمام کوششوں کو حقیر سمجھتا ہے۔‘

‘لَا تَقُل قَدْ ذَہَبَتْ اَربَابُہٗ

کل من سار علی الدَّرْبِ وَصَلْ

’’یہ مت کہو کہ علم والے ختم ہو گئے۔ جو بھی صحیح راستہ پر لگتا ہے، منزل تک پہنچتا ہے۔‘‘

سبحانک اللہم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیہ۔وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین