تواضع
علی محمد الصلابیحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے راستے میں حضرت عباسؓ کے پرنالے کا پانی گرتا تھا، ایک مرتبہ جمعہ کے دن حضرت عمرؓ کپڑے پہن کر گھر سے نکلے، اتفاق سے اس دن حضرت عباسؓ کے گھر دو چوزے ذبح کیے گئے تھے، جب حضرت عمرؓ پرنالے کے نیچے پہنچے تو خون آلود پانی آپؓ کے اوپر گرنے لگا، آپؓ نے پرنالے کو اکھاڑنے کا حکم دے دیا اور واپس ہو گئے۔ ان کپڑوں کو اتار کر دوسرے کپڑے زیب تن کیے، پھر آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حضرت عباسؓ آپؓ کے پاس آئے اور کہا: اللہ کی قسم، وہ پرنالا اسی جگہ لگا تھا، جہاں اسے اللہ کے رسول نے لگایا تھا، تو حضرت عمرؓ نے حضرت عباسؓ سے کہا: میں آپ سے زور دے کر کہتا ہوں کہ میری پیٹھ پر چڑھ کر پرنالے کو اسی جگہ لگا دیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لگایا تھا، چنانچہ حضرت عباسؓ نے ویسا ہی کیا۔
(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 275)
حضرت حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کے دن میں حضرت عمرؓ سر پر اپنی چادر ڈالے ہوئے باہر نکلے آپؓ کے قریب سے گدھے پر سوار ایک غلام کا گزر ہوا، آپؓ نے کہا: اے غلام، اپنے ساتھ مجھے بھی بٹھا لو، غلام گدھے سے اتر کر نیچے آ گیا اور کہا: اے امیر المؤمنین آپ سوار ہو جائیں، آپؓ نے فرمایا: نہیں، تم آگے سوار ہو میں تمہارے پیچھے بیٹھتا ہوں، کیا تم مجھے نرم ملائم جگہ پر اور خود کو سخت جگہ پر بٹھانا چاہتے ہو۔ چنانچہ آپؓ غلام کے پیچھے سوار ہو گئے اور اسی حالت میں مدینہ میں داخل ہوئے اور لوگ آپؓ کو تعجب بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
(أصحابِ الرسول: محمود المصری: جلد 1 صفحہ 157 )
سنان بن سلمہ ہذلیؒ سے روایت ہے کہ میں بچوں کے ساتھ نکلا، ہم سب ’’بلح‘‘ (سبز کھجور) چن رہے تھے، اتنے میں عمرؓ بھی آ گئے، ان کے ہاتھ میں درّہ تھا، جب بچوں نے آپؓ کو دیکھا تو باغ میں منتشر ہو گئے لیکن میں کھڑا رہا، میرے تہبند میں کچھ کھجوریں تھیں جن کو میں نے اکٹھا کیا تھا۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ کھجوریں ہوا سے زمین پر گری پڑی تھیں، آپؓ نے میرے تہبند کی کھجوروں کو دیکھا، لیکن مجھے نہیں مارا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! اور بھی بچے ہیں جنہیں میں دیکھ رہا ہوں ابھی وہ لوگ مجھ سے ان کھجوروں کو چھین لیں گے۔ آپؓ نے فرمایا: نہیں، ہرگز نہیں۔ چلو میرے ساتھ چلو۔ پھر آپؓ مجھے لے کر میرے گھر والوں کے پاس آئے۔
(صلاح الأمۃ فی علو الہمۃ: سید العفانی: جلد 5 صفحہ 425)
ایک مرتبہ سخت گرمی کے موسم میں حضرت عمرؓ کی خدمت میں عراق سے ایک وفد آیا اس میں احنف بن قیسؓ بھی تھے، حضرت عمرؓ سر پر پگڑی باندھے ہوئے صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ کو تیل (رانگ) لگا رہے تھے۔ آپؓ نے کہا: اے احنف! اپنا کپڑا اتارو، اور آؤ اس اونٹ کو تیل لگانے میں میری مدد کرو۔ اس لیے کہ یہ صدقہ کا اونٹ ہے اس میں یتیموں، بیواؤں، اور مسکینوں کا حق ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین، اللہ آپ پر رحم کرے، صدقہ کے غلاموں میں سے کسی غلام کو کیوں نہیں حکم دے دیتے وہ یہ کام کر دے گا حضرت عمرؓ نے فرمایا: مجھ سے اور احنف سے بڑا غلام کون ہے؟ جو مسلمانوں کا حاکم ہے اس پر خیر خواہی اور امانت کی ادائیگی سے متعلق رعایا کا وہی حق ہے جتنا آقا کا غلام پر ہے۔
(اخبار عمر: صفحہ 343، أصحاب الرسول: محمود المصری: جلد 1 صفحہ 156 )
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو کندھے پر پانی کا ایک مشکیزہ اٹھائے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کے لیے یہ مناسب نہیں ہے۔ آپؓ نے فرمایا: جب وفود اطاعت و فرماں برداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرے پاس آئے تو میرے دل میں اپنی بڑائی کا احساس ہوا، اس لیے میں نے اس بڑائی کو توڑنا ضروری سمجھا۔
(مدارج السالکین: جلد 2 صفحہ 330 )
سیدنا حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک دن میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ باہر گیا، آپؓ ایک باغ میں داخل ہوئے، میرے اور آپؓ کے درمیان ایک دیوار حائل تھی۔ آپؓ باغ کے اندر تھے، میں نے اس وقت عمرؓ کو خود سے خطاب کرتے ہوئے سنا: ’’اے عمر بن خطاب! تو امیر المؤمنین ہے، کیا خوب، تو خطاب کا معمولی بیٹا ہے، تو اللہ سے ڈر، ورنہ وہ تجھے عذاب دے گا۔‘‘
(موطأ مالک: جلد 2 صفحہ 992 اس کی سند صحیح ہے۔)
حضرت جبیر بن نفیرؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ہم نے آپؓ سے زیادہ عدل پرور، حق گو، اور منافقین کے لیے سخت کسی شخص کو نہیں دیکھا، آپ رسول اللہﷺ کے بعد سب سے اچھے آدمی ہیں۔ عوف بن مالکؓ (مالک بن عوف اشجعی مشہور صحابی ہیں، فتح مکہ کے موقع پر اسلام لانے والوں میں سے ہیں) نے کہا: اللہ کی قسم تم جھوٹے ہو۔ ہم نے رسول اللہﷺ کے بعد بھی ایسے آدمی کو دیکھا ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ عوف نے کہا: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمرؓ نے فرمایا: عوف نے سچ کہا اور تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ اللہ کی قسم، یقیناً حضرت ابوبکرؓ کستوری کی خوشبو سے بھی اچھے تھے اور میں اپنے گھر کے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ تھا اسلام لانے سے پہلے۔ کیونکہ حضرت ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سے چھ سال قبل اسلام لا چکے تھے۔
(مناقب عمر: ابن الجوزی: صفحہ 14، محض الصواب: جلد 2 صفحہ 586 )
مذکورہ واقعہ سے حضرت عمرؓ کی تواضع اور آپ کی نگاہ میں فضلاء کا قدر و احترام نمایاں ہے۔ آپؓ کی یہ خاکساری صرف زندوں تک محدود نہ تھی بلکہ فوت شدگان کے لیے بھی آپؓ کا یہی طرزِ عمل ہوتا تھا۔ آپ قطعاً یہ بات پسند نہ کرتے تھے کہ فوت شدگان کے فضل و احترام کو نظر انداز کر دیا جائے یا ان کی کوئی یادگار باقی نہ رہے، بلکہ ہمیشہ آپؓ ان کو ذکرِ خیر سے یاد رکھتے تھے اور لوگوں کو بھی احترام وفات شدگان اور ان کی قربانیوں کی قدر کرنے پر ابھارتے رہتے تھے، اس لیے کہ اس سے اعمالِ صالحہ کی یاد یکے بعد دیگرے ہر نسل میں باقی رہتی ہے اور اسے ہر جماعت اپنے بعد والی جماعت کو بتاتی رہتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ کسی انسان کی قربانیوں اور اعمالِ صالحہ کو اس کی وفات ہو جانے یا اس کے غائب ہوجانے کی وجہ سے بھلایا نہیں جا سکتا اور یہ وفاداری اور ایمان داری کی اعلیٰ مثال ہے۔
(شہید المحراب: صفحہ: 144)
سیدنا عمرؓ عزت و احترام کے بارے میں کسی کے فضل و سبقت کو نظر انداز نہ کرتے تھے اور اس بات سے ہرگز راضی نہ تھے کہ متقدمین کی فضیلتوں کو طاق نسیاں میں رکھ دیا جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ جو امت اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو بھلا دیتی ہے یا نظر انداز کر دیتی ہے اس امت کی تباہی مقدر ہو جاتی ہے کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ انہی اعلیٰ نقوش پر لوگوں کی تربیت کی جائے! عمر فاروقؓ کی تربیت کتابِ الہٰی اور سنتِ رسولﷺ پر ہوئی تھی، جنہوں نے آپؓ میں ایسا نکھار پیدا کیا کہ تربیت و اخلاق کے موضوع پر قدیم و جدید کتابیں اس تربیت کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہیں، اور آج بھی ہمارے درمیان اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کی سنت موجود و محفوظ ہے، اور اس میں تربیت و اخلاق کے ایسے اصول ہیں جس کی نظیر ملنا ناممکن ہے۔ (شہید المحراب: صفحہ 144)