Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تواضع

  علی محمد الصلابی

ارشادِ الہٰی ہے:

وَعِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِيۡنَ يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ۞

(سورۃ الفرقان: آیت 63)

ترجمہ: اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) خطاب کرتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی پہلی صفت تواضع قرار دی ہے، خلیفہ راشد سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اس صفت سے متصف تھے اور آپؓ کے اندر یہ صفت آپؓ کے اخلاص و للہٰیت کا نتیجہ تھی۔ چنانچہ عبداللہ رومی سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تو وضو کا پانی خود لے لیتے تھے، آپؓ سے عرض کیا گیا: آپؓ کیوں زحمت اٹھاتے ہیں خادم کو کہہ دیا کریں کافی ہے۔ فرمایا: نہیں رات ان کی ہے اس میں آرام کرتے ہیں۔

(فضائل الصحابۃ: صفحہ، 742 اسنادہ صحیح)

یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے صفتِ رحمت سے متصف ہونے کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپؓ درازی عمر اور بلند مقام پر فائز ہونے کے باوجود رات کو اپنی خدمت خود کرتے تھے، خادم کو بیدار نہیں کرتے تھے، خادم کو اللہ تعالیٰ نے مخدوم کے لیے مسخر کر دیا ہے، ایک مسلمان کو سوچنا چاہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو اس کے لیے مسخر کیا ہے وہ بھی اسی کی طرح انسان ہے، اس کی طاقت بھی اسی طرح محدود ہے، وہ جذبات و احساسات رکھتا ہے، اس کو چاہیے کہ اس کے جذبات کا خیال رکھے، اور اس کو مکمل نیند لینے کا موقع دے، اور کسی کام کے ذریعہ سے اس کو مشقت میں مبتلا نہ کرے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد، 17، 18 صفحہ، 62)

حضرت عثمانِ غنیؓ کے تواضع اور نبی کریمﷺ‏ کے چچا کے احترام کا یہ عالم تھا کہ اگر آپؓ سواری پر سوار جا رہے ہوں اور راستے میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ مل جائیں تو ان کے احترام و تعظیم میں سواری سے اتر جاتے اور اس وقت تک سوار نہ ہوتے جب تک وہ چلے نہ جائیں۔

(التبیین فی انساب القرشیین: صفحہ، 153)