Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تواضع

  علی محمد الصلابی

 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کے والیان ریاست تواضع میں بہت مشہور ہیں، یہاں تک کہ جب وہ اپنے شہروں میں جاتے تو ان میں اور عوام میں فرق نہیں کیا جا سکتا تھا، وہ اپنے لباس، رہائش اور سواری و سفر وغیرہ میں عام لوگوں کی طرح رہتے تھے، کسی خاص چیز میں خود کو ممتاز نہیں رکھتے تھے۔ اس کی مثالوں میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا واقعہ قابل ذکر ہے۔ چنانچہ شاہ روم نے سیاسی گفت و شنید کے لیے حضرت ابو عبیدہؓ کے پاس اپنا ایک ایلچی بھیجا، وہ مسلمانوں کے پاس آیا اور حضرت ابو عبیدہؓ تک پہنچ گیا، لیکن ان میں اور حضرت ابو عبیدہؓ میں وہ تمیز نہ کر سکا اور نہیں جان سکا کہ اس میں حضرت ابو عبیدہؓ بھی ہیں یا نہیں اور اسی لیے دربار امارت کا خوف بھی محسوس نہ ہوا۔ بہرحال اس نے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہا: اے عرب کے لوگو! تمہارا امیر کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ دیکھو، یہی ہیں۔ اس نے دیکھا کہ آپ کمان کے سہارے زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں تیر ہیں۔ آپ انہیں الٹ پلٹ رہے ہیں۔ ایلچی نے حضرت ابو عبیدہؓ سے کہا: کیا آپؓ ان کے امیر ہیں؟ آپ نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر آپ زمین پر کیوں بیٹھے ہیں؟ اگر آپ مسند پر بیٹھیں تو کیا وہ آپ کے اللہ کے نزدیک آپ کی ذلت کا سبب ہے یا یہ چیز آپ کو احسان سے روکنے والی ہے؟ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا، تمہاری بات کی ضرور میں تصدیق کروں گا۔ میں درہم و دینار کا مالک نہیں ہوں اور نہ گھوڑا، ہتھیار اور تلوار کے علاوہ میرے پاس اور کچھ ہے۔ آج شام کو مجھے کچھ اخراجات کی ضرورت پڑی اور میرے پاس کچھ نہ تھا ایسے نازک وقت میں میں نے اپنے بھائی یعنی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کچھ قرض لیا اور انہوں نے مجھے قرض دیا ہے۔ اگر میرے پاس مسند، قالین ہوتی بھی تو میں اپنے مسلمان بھائیوں اور ہم نشینوں کو چھوڑ کر اس پر نہ بیٹھتا، بلکہ میں اس پر اپنے مسلمان بھائی کو بٹھاتا۔ اس لیے کہ ممکن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجھ سے زیادہ بہتر ہوں، ہم سب اللہ کے بندے ہیں، زمین پر چلتے ہیں، زمین پر بیٹھتے ہیں، زمین پر کھاتے ہیں، زمین پر سوتے ہیں، اس سے اللہ کے یہاں ہمارا مقام کچھ بھی کم نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس تواضع کی وجہ سے ہمارا ثواب بڑھا دیتا ہے، ہمارا مرتبہ بلند کر دیتا ہے اور ہم اس عمل کے ذریعہ اللہ کے سامنے تواضع و خاکساری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘

(فتوح الشام: ازدی: صفحہ 122، 123)