Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کلمہ طیّبہ

  جعفر صادق

کلمہ طیّبہ

کلمہ طیّبہ پر ایمان و اسلام کا دارو مدار ہے حقیقت میں مسلمان کے لیے پرور دگار عالم کے سامنے ایک قسم کا اقرار نامہ ہے، جس کے ذریعہ سے مسلمان غیر مسلم سے الگ ہو جاتا ہے۔

کلمہ طیبہ کو افضل الذکر بھی کہا گیا ہے، کلمہ طیبہ میں دو جملے ہیں، ایک اقرارِ توحید، دوسرا اقرارِ رسالت ہے، درمیان میں واؤ کا نہ لایا جانا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ مسلمان کو رسالت پر اسی طرح ایمان رکھنا چاہیئے جس طرح توحید پر، کیونکہ توحید کی نشر و اشاعت دنیا میں انبیاء کرامؑ نے کی ۔

رسولﷺ کے عہدِ نبوت سے پہلے کلمہ طیّبہ اس طرح پڑھا جاتا تھا:

لا الہ اللّٰہ آدم صفی اللّٰہ

لا الہ الا اللّٰہ نوح نجی اللّٰہ 

لا الہ الا اللّٰہ ابراہیم خلیل اللّٰہ 

لا الہ الا اللّٰہ اسماعیل ذبیح اللّٰہ 

لا الہ الا اللّٰہ موسٰی کلیم اللّٰہ

لا الہ الا اللّٰہ عیسٰی روح اللّٰہ 

لیکن رسول اللہﷺ کے دور میں کلمہ اس طرح پڑھا جائے گا۔

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ 

رسولﷺ کے اسمِ گرامی کے علاوہ باقی انبیاء کرامؑ کے کلمات میں لفظ رسول کہیں بھی مذکور نہیں، ورنہ پہلی جز میں سب انبیاء شریک ہیں۔

قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيۡنَـنَا وَبَيۡنَكُمۡ اَلَّا نَـعۡبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهٖ شَيۡــئًا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ؕ 

(سورۃ آل عمران: آیت 64)

ترجمہ: (مسلمانوں! یہود و نصاریٰ سے) کہہ دو کہ : اے اہلِ کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہو، (اور وہ یہ) کہ ہم اللّٰہ کے سواء کسی کی عبادت نہ کریں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللّٰہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ 

جب تمام پیغمبر اسی کلمہ طیّبہ کی دعوت دیتے گئے، اور رسولﷺ نے بھی اپنے وعظ میں اتحاد فے الکلمہ کا ثبوت دیا تو اب ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ وہ کون سا کلمہ ہے، جس کے ذریعہ ہم نجات حاصل کرسکتے ہیں۔یعنی اس کے دو جز یا تین جز ہیں۔

بعض لوگ اقرار توحید اور اقرار رسالت کے بعد سیدنا علیؓ کی ولایت کا اقرار بھی کلمہ طیّبہ میں ملا دیتے ہیں اسی لئے دلائل قاہرہ سے ثابت کیا جاتا ہے کہ حضرت آدمؑ سے لیکر حضرت عیسیٰؑ تک کسی ایک پیغمبر کے زمانہ میں بھی کلمہ دو جزوں سے آگے نہیں بڑھایا گیا کیونکہ جس قدر معزز ہستی رسولﷺ کے بعد ہو گی وہ خدا اور رسولِ خدا کے تابع ہی ہوگی۔

دیکھئیے!ہم سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو مانتے ہیں،سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو ماتنے ہیں لیکن ان کے ناموں کو کلمہ طیّبہ کا جز نہیں بناتے اور نہ اس کا شریعت میں کہیں ثبوت ہے۔ 

  1. کلمہ طیّبہ خلاصہ ایمان ہے اور باعثِ دخول جنت ہے۔
  2. کلمہ طیّبہ محورِ عقائد حقہ ہے ،اور سبب نجات ہے۔
  3. کلمہ طیّبہ پڑھنے اور قبول کرنے سے پہلے انسان رحمت سے بعید ہوتا ہے اور کلمہ طیّبہ پڑھنے کے بعد انسان مہبط رحمت بن جاتا ہے۔

ایمان کی جڑیں دو ہیں:

  1.  توحید
  2. رسالت 

اور یہی کلمہ طیّبہ کا مجموعہ ہے۔