Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

طاعون

  علی محمد الصلابی

18ھ میں ایک بھیانک و ہولناک حادثہ پیش آیا، 

(تاریخ القضاعی: صفحہ 294)

 تاریخی مصادر و مراجع میں اسے ’’طاعون عمواس‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عمواس ایک چھوٹی سی بستی ہے، جو ’’بیت المقدس‘‘ اور ’’رملہ‘‘ کے درمیان واقع ہے، یہیں سب سے پہلے طاعون کی وبا پھوٹی تھی اور پھر پورے شام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، اس لیے اس بستی کی طرف نسبت کرتے ہوئے اسے طاعون عمواس کہا جانے لگا۔ 

(خلاصۃ تاریخ ابن کثیر: محمد کنعان: صفحہ 236)

میرے محدود علم کے مطابق اس بیماری کا سب سے جامع تعارف جنہوں نے پیش کیا ہے وہ ابن حجر رحمہ اللہ ہیں۔ انہوں نے طاعون کے بارے میں متعدد اقوال ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ’’اہل لغت، فقہاء اور اطباء کے ذریعہ سے اس کی جو تعریف و حقیقت مجھ تک پہنچی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی عضو میں خون کے یکجا جم جانے یا خون میں ہیجان و تیزی ہو جانے کی وجہ سے اس عضو میں پھوڑے کی طرح خطرناک ورم ہو جانے اور اسے بے کار کر دینے کو طاعون کہتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر اسباب مثلاً فضا و موسم کی خرابی سے لاحق ہونے والے امراض کو مجازی طور پر طاعون کہا جاتا ہے، کیونکہ اس مرض کے تیزی سے پھیلاؤ اور موت کی کثرت میں دونوں مشترک ہوتے ہیں۔

(فتح الباری: جلد 10 صفحہ 180)

 اس بیماری کے اصل سبب کی تشخیص میں فرق کا لحاظ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ عام وبائی امراض اور طاعون میں فرق کیا جا سکے، اور یہ رخ متعین کیا جا سکے کہ وہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالکل صحیح ہے جس میں وارد ہے کہ ’’طاعون‘‘ مدینہ منورہ میں داخل نہ ہو سکے گا جب کہ ’’وباء‘‘ اس میں داخل ہو گی، اور پچھلی صدیوں میں اس کی مثال بھی گزر چکی ہے۔ 

( أبوعبیدہ عامر بن الجراح: محمد شراب: صفحہ 220 )

اس وقت طاعون کی بیماری اس لیے پھیلی تھی کہ مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان طویل خونریزی، مقتولین کی کثرت، فضا کے تعفن اور مردہ لاشوں کی سٹراند کی کثرت ہو گئی تھی، اور اسی کے نتیجہ میں اس کا پھیلنا ایک فطری عمل تھا، تاہم یہ سب کچھ اللہ کی حکمت و قدرت پر مبنی تھا۔

 ( الخلفاء الراشدون: النجار: صفحہ 224)