شرحبیل بن حسنہؓ
انہوں نے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کیا تھا، اور حبشہ کی طرف ہجرت بھی کی، حضرت ابوبکرؓ نے شام کی فتوحات کے لیے انھیں بھیجا تھا، اور حضرت عمرؓ نے شام کے علاقے کا آپ کو والی بنایا، آپ کاتبینِ رسول اللہﷺ میں سے ہیں، عمر بن شعبہ، مسعودی، یعقوبی، عراقی، ابن سیدالناس اور انصاری نے اس کی صراحت کی ہے۔
(حوالے کے لیے دیکھیے: الاستیعاب: جلد، 2 صفحہ، 141
المصباح المضئی: صفحہ، 8
التنبیہ والا شراف: صفحہ، 246
تاریخ یعقوبی: جلد، 2 صفحہ، 80
تہذیب الکمال: صفحہ، 4
العجالہ السنیہ: صفحہ، 245
عیون الاثر: جلد، 2 صفحہ، 315 بحوالہ نقوش جلد، 7 صفحہ،161)
”الوثائق السیاسیہ“ میں ایک وثیقہ جس کا نمبر، 23 آپؓ کا لکھا ہوا ہے، شام کے طاعونِ عمواس میں 18ھ کو وفات ہوئی۔