Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زکوٰۃ

  علی محمد الصلابی

زکوٰۃ ارکانِ اسلام کا ایک اہم معاشرتی و تمدنی ستون ہے اور پہلا اسلامی آسمانی قانون ہے، مال دار مسلمانوں کے مال میں اسے فرض کیا گیا ہے، اسے غلہ، پھل، سونا، چاندی، سامانِ تجارت، اور چوپایوں میں معروف و مقررہ نصاب کے مطابق ان سے لے کر فقراء و ضرورت مندوں کو دیا جائے گا، تاکہ مال داروں اور فقیروں میں اتحاد و یگانگت، باہمی معاشرتی غم خواری اور الفت و محبت کا ماحول پیدا ہو، بہرحال زکوٰۃ ایسا شرعی فریضہ ہے جس کا تعلق مال سے ہے، اور مال جیسا کہ معروف ہے کہ زندگی کی شہ رگ ہے، اس دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو مال کے سلسلہ میں خوش قسمت ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اس سلسلہ میں بدقسمت ہیں، خلق الہٰی میں یہ تفاوت اللہ کی سنت ہے، اس کی سنت میں کوئی رد و بدل ہونے والا نہیں ہے۔ چونکہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز میں مال کا بہت اثر ہے، اس لیے اسلام نے اپنے احکامات میں مال پر خصوصی توجہ دی ہے، زکوٰۃ کا غایت درجہ اہتمام کیا ہے، اس کے لیے مکمل، مبنی برحکمت اور پُر از رحمت نظام وضع کیا ہے، جو دلوں کو محبت و بھائی چارگی سے جوڑتا ہے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام فی عہد عمر بن الخطاب: عبد اللّٰه جمعان السعدی: صفحہ 8)

اسی لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے راستہ و طرز عمل پر چلے اور منظم شکل میں ’’بیت الزکوٰۃ‘‘ قائم کیا، اور جب مفتوحہ ممالک کے بیشتر باشندے اسلام لے آئے تو آپؓ نے اسلامی حکومت و سلطنت کے مختلف علاقوں میں زکوٰۃ کی وصولی کے لیے محصلین کو بھیجا۔ اس وصول یابی میں عدل پروری کی صفت خلافت راشدہ کی امتیازی شان تھی، اس میں بیت المال کے حقوق میں کسی قسم کی گڑبڑ کا قطعاً کوئی خطرہ نہ تھا۔ چنانچہ اسی نظام میں عدل کی روح کو تازگی بخشتے ہوئے حضرت عمرؓ نے اپنے اس محصل زکوٰۃ کو ڈانٹ پلائی جس نے زکوٰۃ میں زیادہ دودھ دینے والی اور بڑے تھن والی بکری وصول کی تھی۔ آپؓ نے فرمایا: 

’’اس بکری کے مالک نے اسے بخوشی تمہیں نہیں دیا ہے، لوگوں کو آزمائش میں مت ڈالو۔‘‘ 

(الموطأ مالک: جلد 1 صفحہ 256، عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 194)

باشندگان شام میں سے کچھ لوگ حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور کہا: ’’ہمیں کچھ مال، گھوڑے اور غلام ملے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان میں زکوٰۃ دیں، اور اپنے اموال پاک کریں۔‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’مجھ سے پہلے میرے دونوں ساتھیوں نے جو کیا ہے میں وہی کروں گا۔‘‘ پھر آپؓ نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشورہ لیا، ان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضرت علیؓ نے فرمایا: یہ بہتر ہے، بشرطیکہ مقررہ جزیہ کی شکل میں نہ ہو جو آپؓ کے بعد ان سے وصول کیا جائے۔ 

(مسند أحمد: حدیث 82۔ اس کی سند صحیح ہے۔ الموسوعۃ الحدیثیۃ)

ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری لکھتے ہیں کہ جب مسلمانوں کی ملکیت میں گھوڑوں اور غلاموں کی کثرت ہو گئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدنا عمر بن خطابؓ کو رائے دی کہ ان کے گھوڑوں اور غلاموں سے زکوٰۃ لی جائے، چنانچہ آپؓ نے یہ رائے پسند کی اور گھوڑوں و غلاموں کو سامانِ تجارت مان کر غلاموں پر خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے ایک دینار جو دس درہم کے مساوی ہے زکوٰۃ مقرر کی، اور عربی گھوڑوں پر دس درہم اور غیر عربی گھوڑوں پر پانچ درہم زکوٰۃ مقرر کی۔ آپؓ کا یہ عمل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خدمت گزار غلاموں، اور جہاد کے لیے تیار کیے گئے گھوڑوں پر آپؓ نے زکوٰۃ نہیں لی، کیونکہ ان کا شمار سامانِ تجارت میں نہیں ہوتا بلکہ جو لوگ خدمت کے غلاموں اور جہاد کے گھوڑوں کی زکوٰۃ ادا کرتے تھے آپؓ ان کو اس کے عوض دو کوئنٹل دو سو کلو گرام گندم دیتے، اور یہ مقدار بہرحال زکوٰۃ کی زیادہ قیمت ہے، آپؓ نے یہ اقدام اس لیے کیا کہ رسول اللہﷺ کی حدیث ہے:

 لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ فِیْ فَرَسِہٖ وَلَا فِیْ عَبْدِہٖ صَدَقَۃٌ۔

 (صحیح سنن الترمذی: رقم الحدیث: 628۔ امام ترمذی نے کہا کہ اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔)

’’مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘

آپؓ نے رکاز مالِ مدفون مل جانے کی صورت میں اس سے خمس لیا، آپؓ کی کوشش تھی کہ مال گردش کرتا رہے اور اس کو کاروبار میں لگایا جائے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ سال گزرنے کے بعد اس پر مفروضہ زکوٰۃ کا نصاب ہی ختم ہو جائے۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 194، 195) 

چنانچہ آپؓ کے پاس ایک یتیم کا مال تھا آپؓ نے اسے بغرضِ تجارت حکم بن ابی العاص ثقفی کو دے دیا۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 195، الأموال: ابن زنجویہ: جلد 3 صفحہ 990 یہ اثر صحیح ہے۔)

کیونکہ آپؓ خلافت کی ذمہ داریوں میں مشغول تھے، اور آپؓ کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ خود اس سے تجارت کرتے اور جب جلد ہی منافع کی بہتات ہو گئی اور دس ہزار درہم سے وہ مال ایک لاکھ تک پہنچ گیا تو آپؓ کو کمائی کے طریقے پر شک ہونے لگا، چنانچہ تحقیق کے بعد جب آپؓ اس نتیجہ پر پہنچے کہ تاجر نے حضرت عمرؓ کے یتیم کا حوالہ دے کر ناجائز فائدہ اٹھایا ہے تو آپ نے سارا منافع پھینک دیا، کیونکہ آپ نے اسے ناپاک سمجھا اور یتیم کے اصل مال کو واپس لے لیا۔

(الاموال: أبوعبید: صفحہ 455۔ یہ اثر صحیح ہے، بحوالہ: الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 195)

گویا آپؓ اسی نقطۂ نظر سے کام کر رہے تھے جسے اپنے امراء اور گورنروں پر واجب کیا تھا۔ وہ نقطۂ نظر یہ تھا کہ اسلامی سلطنت میں منصب و ذمہ داری کے استحصال کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے اور اسی بنیاد پر جب والیان ریاست کے مال میں تجارت کے ذریعہ سے اضافہ ہوتا تھا تو آپؓ اسے تقسیم کر لیا کرتے تھے۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 195)

جیسے کہ والیانِ ریاست کے تذکرہ میں ان شاء اللہ آپ دیکھیں گے۔ 

آپؓ نے بارش اور نہروں کی سیرابی سے تیار ہونے والی کھیتی میں عشرِ زکوٰۃ لی اور مشینوں و دیگر آلات کے ذریعہ سے سیراب ہونے والی کھیتی میں نصف عشر زکوٰۃ لی۔

(المصنف، ابن ابی شیبۃ: جلد 4 صفحہ 134، 135)۔ یہ اثر صحیح ہے، بحوالہ: عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 195)

آپؓ کا یہ عمل سنت کے بالکل موافق تھا۔ آپؓ محصلین کو نصیحت کرتے تھے کہ جب کھجوروں کا تخمینہ لگاؤ تو باغات کے مالکان پر نرمی کرو۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: ص195۔ یہ اثر سنداً صحیح ہے۔)

نیز آپؓ نے اس شہد سے عشر کے حساب سے زکوٰۃ لی جسے اس وادی سے نکالا گیا جو حکومت کے زیر نگرانی ہو۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 195۔ یہ اثر سنداً صحیح ہے۔)

آپؓ کے دورِ خلافت میں گیہوں کی پیداوار زیادہ ہو گئی تو آپؓ نے اپنے ایام خلافت سے پہلے صدقہ فطر میں دیے جانے والی اصناف مثلاً جو، کھجور اور کشمش کی جگہ گیہوں سے نصف وزن میں صدقہ فطر دینے کی اجازت دے دی۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 196۔ یہ اثر صحیح ہے۔)

 اس میں لوگوں کے لیے آسانی تھی اور زکوٰۃ میں بہترین مال بھی آ رہا تھا، اگرچہ جنس میں تفاوت تھا۔ 

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 313۔ عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 196)

سیدنا عمر فاروقؓ کے دور میں ہر سال اموال زکوٰۃ کی آمدنی کی مقدار غیر معروف و غیر متحقق ہے، جن لوگوں نے آمدنی کے اعداد و شمار کا ذکر کیا ہے وہ بہت مختصر اور جزوی نیز غیر دقیق ہیں۔ وہ اعداد و شمار مجموعی مقدار کا پتہ نہیں دیتے۔

بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے ’’ربذہ‘‘ کی زمین کو زکوٰۃ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ بنا دیا تھا، آپؓ ان میں سے راہِ جہاد کے لیے سواریاں دیتے تھے، ہر سال چالیس ہزار سواریاں جہاد فی سبیل اللہ کے لیے مہیا کرتے تھے۔ 

(الحیاۃ الاقتصادیۃ فی العصور الاسلامیۃ الأولی: دیکھئے محمد بطابنۃ: صفحہ 104)

آپؓ کے دورِ خلافت میں جن افسران کے ذمہ اس ادارے کی نگرانی تھی کتب مراجع و مصادر میں ان کے نام یہ ہیں:

انس بن مالک اور سعید بن ابو ذباب رضی اللہ عنہ ’’سرات‘‘ کے ذمہ دار تھے، اور حارث بن مضرب العبدی، عبد اللہ بن الساعدی، سہل بن ابی حثمہ، مسلمہ بن مخلد انصاری، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ’’بنو کلاب‘‘ کے ذمہ دار تھے۔ سعد الاعرج ’’یمن‘‘ اور سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ ’’طائف‘‘ کے والی تھے اور وہاں کی زکوٰۃ جمع کرتے تھے۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 196، 197)