زکوٰۃ
علی محمد الصلابیزکوٰۃ ارکانِ اسلام کا ایک اہم معاشرتی و تمدنی ستون ہے اور پہلا اسلامی آسمانی قانون ہے، مال دار مسلمانوں کے مال میں اسے فرض کیا گیا ہے، اسے غلہ، پھل، سونا، چاندی، سامانِ تجارت، اور چوپایوں میں معروف و مقررہ نصاب کے مطابق ان سے لے کر فقراء و ضرورت مندوں کو دیا جائے گا، تاکہ مال داروں اور فقیروں میں اتحاد و یگانگت، باہمی معاشرتی غم خواری اور الفت و محبت کا ماحول پیدا ہو، بہرحال زکوٰۃ ایسا شرعی فریضہ ہے جس کا تعلق مال سے ہے، اور مال جیسا کہ معروف ہے کہ زندگی کی شہ رگ ہے، اس دنیا میں ایسے لوگ ہیں جو مال کے سلسلہ میں خوش قسمت ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اس سلسلہ میں بدقسمت ہیں، خلق الہٰی میں یہ تفاوت اللہ کی سنت ہے، اس کی سنت میں کوئی رد و بدل ہونے والا نہیں ہے۔ چونکہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز میں مال کا بہت اثر ہے، اس لیے اسلام نے اپنے احکامات میں مال پر خصوصی توجہ دی ہے، زکوٰۃ کا غایت درجہ اہتمام کیا ہے، اس کے لیے مکمل، مبنی برحکمت اور پُر از رحمت نظام وضع کیا ہے، جو دلوں کو محبت و بھائی چارگی سے جوڑتا ہے۔
(سیاسۃ المال فی الإسلام فی عہد عمر بن الخطاب: عبد اللّٰه جمعان السعدی: صفحہ 8)
اسی لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے راستہ و طرز عمل پر چلے اور منظم شکل میں ’’بیت الزکوٰۃ‘‘ قائم کیا، اور جب مفتوحہ ممالک کے بیشتر باشندے اسلام لے آئے تو آپؓ نے اسلامی حکومت و سلطنت کے مختلف علاقوں میں زکوٰۃ کی وصولی کے لیے محصلین کو بھیجا۔ اس وصول یابی میں عدل پروری کی صفت خلافت راشدہ کی امتیازی شان تھی، اس میں بیت المال کے حقوق میں کسی قسم کی گڑبڑ کا قطعاً کوئی خطرہ نہ تھا۔ چنانچہ اسی نظام میں عدل کی روح کو تازگی بخشتے ہوئے حضرت عمرؓ نے اپنے اس محصل زکوٰۃ کو ڈانٹ پلائی جس نے زکوٰۃ میں زیادہ دودھ دینے والی اور بڑے تھن والی بکری وصول کی تھی۔ آپؓ نے فرمایا:
’’اس بکری کے مالک نے اسے بخوشی تمہیں نہیں دیا ہے، لوگوں کو آزمائش میں مت ڈالو۔‘‘
(الموطأ مالک: جلد 1 صفحہ 256، عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 194)
باشندگان شام میں سے کچھ لوگ حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور کہا: ’’ہمیں کچھ مال، گھوڑے اور غلام ملے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان میں زکوٰۃ دیں، اور اپنے اموال پاک کریں۔‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’مجھ سے پہلے میرے دونوں ساتھیوں نے جو کیا ہے میں وہی کروں گا۔‘‘ پھر آپؓ نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشورہ لیا، ان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضرت علیؓ نے فرمایا: یہ بہتر ہے، بشرطیکہ مقررہ جزیہ کی شکل میں نہ ہو جو آپؓ کے بعد ان سے وصول کیا جائے۔
(مسند أحمد: حدیث 82۔ اس کی سند صحیح ہے۔ الموسوعۃ الحدیثیۃ)
ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری لکھتے ہیں کہ جب مسلمانوں کی ملکیت میں گھوڑوں اور غلاموں کی کثرت ہو گئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدنا عمر بن خطابؓ کو رائے دی کہ ان کے گھوڑوں اور غلاموں سے زکوٰۃ لی جائے، چنانچہ آپؓ نے یہ رائے پسند کی اور گھوڑوں و غلاموں کو سامانِ تجارت مان کر غلاموں پر خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے ایک دینار جو دس درہم کے مساوی ہے زکوٰۃ مقرر کی، اور عربی گھوڑوں پر دس درہم اور غیر عربی گھوڑوں پر پانچ درہم زکوٰۃ مقرر کی۔ آپؓ کا یہ عمل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خدمت گزار غلاموں، اور جہاد کے لیے تیار کیے گئے گھوڑوں پر آپؓ نے زکوٰۃ نہیں لی، کیونکہ ان کا شمار سامانِ تجارت میں نہیں ہوتا بلکہ جو لوگ خدمت کے غلاموں اور جہاد کے گھوڑوں کی زکوٰۃ ادا کرتے تھے آپؓ ان کو اس کے عوض دو کوئنٹل دو سو کلو گرام گندم دیتے، اور یہ مقدار بہرحال زکوٰۃ کی زیادہ قیمت ہے، آپؓ نے یہ اقدام اس لیے کیا کہ رسول اللہﷺ کی حدیث ہے:
لَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ فِیْ فَرَسِہٖ وَلَا فِیْ عَبْدِہٖ صَدَقَۃٌ۔
(صحیح سنن الترمذی: رقم الحدیث: 628۔ امام ترمذی نے کہا کہ اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔)
’’مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ نہیں ہے۔‘‘
آپؓ نے رکاز مالِ مدفون مل جانے کی صورت میں اس سے خمس لیا، آپؓ کی کوشش تھی کہ مال گردش کرتا رہے اور اس کو کاروبار میں لگایا جائے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ سال گزرنے کے بعد اس پر مفروضہ زکوٰۃ کا نصاب ہی ختم ہو جائے۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 194، 195)
چنانچہ آپؓ کے پاس ایک یتیم کا مال تھا آپؓ نے اسے بغرضِ تجارت حکم بن ابی العاص ثقفی کو دے دیا۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 195، الأموال: ابن زنجویہ: جلد 3 صفحہ 990 یہ اثر صحیح ہے۔)
کیونکہ آپؓ خلافت کی ذمہ داریوں میں مشغول تھے، اور آپؓ کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ خود اس سے تجارت کرتے اور جب جلد ہی منافع کی بہتات ہو گئی اور دس ہزار درہم سے وہ مال ایک لاکھ تک پہنچ گیا تو آپؓ کو کمائی کے طریقے پر شک ہونے لگا، چنانچہ تحقیق کے بعد جب آپؓ اس نتیجہ پر پہنچے کہ تاجر نے حضرت عمرؓ کے یتیم کا حوالہ دے کر ناجائز فائدہ اٹھایا ہے تو آپ نے سارا منافع پھینک دیا، کیونکہ آپ نے اسے ناپاک سمجھا اور یتیم کے اصل مال کو واپس لے لیا۔
(الاموال: أبوعبید: صفحہ 455۔ یہ اثر صحیح ہے، بحوالہ: الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 195)
گویا آپؓ اسی نقطۂ نظر سے کام کر رہے تھے جسے اپنے امراء اور گورنروں پر واجب کیا تھا۔ وہ نقطۂ نظر یہ تھا کہ اسلامی سلطنت میں منصب و ذمہ داری کے استحصال کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے اور اسی بنیاد پر جب والیان ریاست کے مال میں تجارت کے ذریعہ سے اضافہ ہوتا تھا تو آپؓ اسے تقسیم کر لیا کرتے تھے۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 195)
جیسے کہ والیانِ ریاست کے تذکرہ میں ان شاء اللہ آپ دیکھیں گے۔
آپؓ نے بارش اور نہروں کی سیرابی سے تیار ہونے والی کھیتی میں عشرِ زکوٰۃ لی اور مشینوں و دیگر آلات کے ذریعہ سے سیراب ہونے والی کھیتی میں نصف عشر زکوٰۃ لی۔
(المصنف، ابن ابی شیبۃ: جلد 4 صفحہ 134، 135)۔ یہ اثر صحیح ہے، بحوالہ: عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 195)
آپؓ کا یہ عمل سنت کے بالکل موافق تھا۔ آپؓ محصلین کو نصیحت کرتے تھے کہ جب کھجوروں کا تخمینہ لگاؤ تو باغات کے مالکان پر نرمی کرو۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: ص195۔ یہ اثر سنداً صحیح ہے۔)
نیز آپؓ نے اس شہد سے عشر کے حساب سے زکوٰۃ لی جسے اس وادی سے نکالا گیا جو حکومت کے زیر نگرانی ہو۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 195۔ یہ اثر سنداً صحیح ہے۔)
آپؓ کے دورِ خلافت میں گیہوں کی پیداوار زیادہ ہو گئی تو آپؓ نے اپنے ایام خلافت سے پہلے صدقہ فطر میں دیے جانے والی اصناف مثلاً جو، کھجور اور کشمش کی جگہ گیہوں سے نصف وزن میں صدقہ فطر دینے کی اجازت دے دی۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 196۔ یہ اثر صحیح ہے۔)
اس میں لوگوں کے لیے آسانی تھی اور زکوٰۃ میں بہترین مال بھی آ رہا تھا، اگرچہ جنس میں تفاوت تھا۔
(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 313۔ عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 196)
سیدنا عمر فاروقؓ کے دور میں ہر سال اموال زکوٰۃ کی آمدنی کی مقدار غیر معروف و غیر متحقق ہے، جن لوگوں نے آمدنی کے اعداد و شمار کا ذکر کیا ہے وہ بہت مختصر اور جزوی نیز غیر دقیق ہیں۔ وہ اعداد و شمار مجموعی مقدار کا پتہ نہیں دیتے۔
بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے ’’ربذہ‘‘ کی زمین کو زکوٰۃ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ بنا دیا تھا، آپؓ ان میں سے راہِ جہاد کے لیے سواریاں دیتے تھے، ہر سال چالیس ہزار سواریاں جہاد فی سبیل اللہ کے لیے مہیا کرتے تھے۔
(الحیاۃ الاقتصادیۃ فی العصور الاسلامیۃ الأولی: دیکھئے محمد بطابنۃ: صفحہ 104)
آپؓ کے دورِ خلافت میں جن افسران کے ذمہ اس ادارے کی نگرانی تھی کتب مراجع و مصادر میں ان کے نام یہ ہیں:
انس بن مالک اور سعید بن ابو ذباب رضی اللہ عنہ ’’سرات‘‘ کے ذمہ دار تھے، اور حارث بن مضرب العبدی، عبد اللہ بن الساعدی، سہل بن ابی حثمہ، مسلمہ بن مخلد انصاری، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ’’بنو کلاب‘‘ کے ذمہ دار تھے۔ سعد الاعرج ’’یمن‘‘ اور سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ ’’طائف‘‘ کے والی تھے اور وہاں کی زکوٰۃ جمع کرتے تھے۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 196، 197)
-
شیعہ اور زکوٰۃ کی چوری
-
مانعینِ زکوٰۃ سے جہاد اور لشکر اسامہ کی روانگی میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے آپ کی گفت وشنید
-
عثمانی ارشادات لوگوں کے لیے زکوٰۃ کے قواعد و اصول واضح کرتے ہیں
-
قرض دیے ہوئے مال کی زکوٰۃ سے متعلق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان
-
زکوٰۃ کی مد سے قرض لے کر مصالح عامہ پر خرچ کرنا
-
فقراء و مسافرین کے کھانے پر زکوٰۃ سے خرچ کرنا
-
زکوٰۃ کی مد سے مسافر خانوں کی تعمیر
-
عام الرمادہ میں ادائیگی زکوٰۃ میں تاخیر کا جواز
-
زکوٰۃ کے اخراجات
-
مسلک اہل بیت
-
نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم (تحقیق)
-
خلیفہ اول بلافصل، جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یار غار و مزار، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم
-
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا
-
شیعہ اور زکوٰۃ کی چوری
-
دلیل القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اھل التقوی (پرہیز گار)
-
دلیل القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہل توبہ و رحمت (توبہ کرنے والے)
-
کیا سونے کے نصاب کو زکوٰة کا معیار قرار دیا جا سکتا ہے؟
-
عصاء رسولﷺ کس نے توڑا؟ حضرت جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ پر الزام کا جواب
-
اعتراض: امام بخاری رحمۃ اللہ کہتا ہے اللہ پاک بندے میں حلول کر کے اس کے اعضاء بن جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بندہ کے کان ہاتھ پاؤں بن جاتا ہوں وہ بندہ میرے کانوں سے سنتا ہے میرے پاؤں سے چلتا ہے میں بندہ کی آنکھ بن جاتا ہوں اور وہ میری آنکھ سے دیکھتا ہے وغیرہ وغیرہ
-
اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور اس کا رد
-
نماز تراویح
-
شیعہ اور سنی میں فرق
-
شیعہ لٹریچر میں منقبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک روایت
-
اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
-
صحابہ كرام رضی اللہ عنہم اور قرآن كريم
-
ایمان بچائیے!
-
اسلام کے ارکان میں سب سے پہلا رکن توحید اور رسالت کی شہادت دینا ہے
-
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ قرآن کی روشنی میں
-
خیر البشر بعد الانبیاء بالتحقیق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ احادیث کی روشنی میں
-
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات
-
خمس
-
سورۃ المائدہ آیت 55 سے امامت علی کا غلط استدلال اور اسکا رد
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
-
عمرۃ القضا اور ذات السلاسل میں
-
دور صدیقی میں اقتصادی بحران
-
آپ رضی اللہ عنہ کے ایمان کی عظمت
-
آپ رضی اللہ عنہ کا علم
-
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خلافت کا زیادہ مستحق ہونا
-
مقدمہ
-
مدنی زندگی میں آپﷺ کے مواقف
-
رسول اللہﷺ سوال کرنے والے کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہیں
-
مانعینِ زکوٰۃ سے جہاد اور لشکر اسامہ کی روانگی میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے آپ کی گفت وشنید
-
استحقاق خلافت پر شرعی نصوص کے واضح اشارے
-
لوگوں کے درمیان عدل و مساوات کو قائم کرنا
-
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نام و نسب خاندان اور فضائل و مناقب
-
آل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون ہیں؟
-
جب لوگوں نے کفر کیا تو تم ایمان لائے جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو تم آگے آئے جب انہوں نے بے وفائی کی تو تم نے وفاداری کا ثبوت دیا
-
فاروقی نظام احتساب یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
-
عبادات کا اہتمام
-
مالی سیاست، زمام حکومت سنبھالتے ہوئے جس کا اعلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا
-
یتیم پر عدم ظلم
-
عثمانی ارشادات لوگوں کے لیے زکوٰۃ کے قواعد و اصول واضح کرتے ہیں
-
قرض دیے ہوئے مال کی زکوٰۃ سے متعلق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان
-
زکوٰۃ کی مد سے قرض لے کر مصالح عامہ پر خرچ کرنا
-
ہر غلام کو بیت المال سے عطیہ
-
مال غنیمت کا خمس
-
عہد عثمانی میں اسلامی فتوحات کے لیے مال کی فراہمی میں مالی سیاست کی کامیابی
-
زمینوں کی جاگیر سے متعلق سیاست عثمانی
-
اراضی کو حکومتی چراگاہ میں تحویل کرنے کی عثمانی سیاست
-
عہد عثمانی میں عام اخراجات کے انواع و اقسام
-
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور بعض مشارکات
-
مشارکات حال حسین رضی اللہ عنہ
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ اندیشہ کہ کہیں مسلمان عیش و عشرت کے دلدادہ نہ ہو جائیں
-
عام الرمادہ میں ادائیگی زکوٰۃ میں تاخیر کا جواز
-
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات
-
وزارت خزانہ و وزارت عدل اور عہد فاروقی میں ان کی ترقی
-
تغلب کے نصاری سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوگنا صدقہ وصول کرنا
-
خراج لگان
-
عشور کسٹم آمدنی
-
اسلامی بیت المال اور دواوین رجسٹر و دفاتر کا انتظام
-
عہد فاروقی کے ملکی اخراجات
-
زکوٰۃ کے اخراجات
-
گورنروں کے وظائف
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی چند فقہی ترجیحات
-
طائف
-
یمن
-
زہد
-
تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ
-
فاروقی فتوحات کے چند اہم نتائج
-
اپنے بعد کے خلیفہ کے لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وصیت
-
مالی واقتصادی پہلو
-
شہروں پر والی مقرر کرنا
-
مالی امور کی ذمہ داری
-
مرتدین سے جہاد
-
ارتداد کے اسباب و اقسام
-
مرتدین کے سلسلہ میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مؤقف
-
مدینہ کی حفاظت کا منصوبہ
-
مدینہ پر حملہ آور ہونے میں مرتدین کی ناکامی
-
حکومت کی طرف سے سرکاری کارروائی
-
مرتدین کے نام سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خط
-
سیدنا مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کا لشکر حضر موت اور کندہ کے ارتداد کا قلع قمع کرنے کے لیے
-
ایمان کے خطباء
-
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا اپنی قوم کو نصیحت اور ان کے ساتھ نفسیاتی جنگ
-
سجاح بنو تمیم اور مالک بن نویرہ الیربوعی کا قتل
-
دروس و عبر اور فوائد
-
حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور مالک بن نویرہ کا قتل
-
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی ام تمیم سے شادی
-
حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ
-
حروب ارتداد کے اہم دروس وعبر اور فوائد غلبہ و تمکین کی شروط و اسباب اور شریعت الہٰی کے نفاذ کے آثار مجاہدین کے اوصاف
-
فتنہ ارتداد کے نتائج
-
عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے
-
لشکر پر ان حقوق کی ادائیگی لازم قرار دینا جن کو اللہ نے فرض کیا ہے
-
خلاصہ
-
انکارِ حدیث کا مطلب اور منکر حدیث کا مصداق کون؟
-
مرزا جہلمی کی شیطانی توحید
-
جاوید غامدی کے عقائد و نظریات کا اسلامی عقائد سے تقابلی جائزہ
-
فتنہ گوہرشاہی
-
فتنہ گوھر شاہی کی مختصر ہسٹری
-
عمررضی اللہ عنہ نے اہل بیت کو خمس سے محروم کر دیا، جبکہ وہ ذوی القربی کی حیثیت سے اس کے مستحق تھے، قرآن پاک میں ہے جو چیز بھی غنیمت میں آئے، اللہ کے لئے اور قرابت والوں، یتامی مساکین اور مسافروں کے لئے بھی.
-
مسئلہ قلم و دوات (واقعہ قرطاس) عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو رد کر دیا، جو کہ اللہ کی طرف سے وحی تھا
-
حضرت عمررضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں ظالم اور بعد از اسلام ذلیل تھے۔ نعوذباللہ (ازالۃ الخفاء )
-
جنگ صفین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کیا حیثیت رکھتی تھی؟
-
قرب الہی کے لیے وسیلہ ضروری ہے۔
-
اہل بیت کا کیا مطلب ہے اور اس کے مصداق کون لوگ ہیں؟
-
مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف
-
قرآن مجید کے پانچویں پارے کی ابتدا میں آیت متعہ موجود ہے۔ آپ کا پرچار ہے کہ متعہ زنا ہے۔ مہربانی کر کے آیت میں مستعمل لفظ متعہ کا ترجمہ اپنے معنوں میں کیجیے ؟
-
شیعہ کی سیاسی تاریخ
-
ابو ذر اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلاف کی حقیقت اور اس بارے عثمان رضی اللہ عنہ کا موقف
-
۔من کنت مولاہ فعلي مولاہ ۔جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا
-
مالک بن نویرہ کی حقیقت
-
لفظ آل و اہل بیت کے شرعی معنی ومصداق سے متعلق شیعوں سے چند سوالات
-
عقیدہ امامت سے متعلق شیعہ کو لاجواب کردینے والے چند سوالات
-
اعتراض : میں نے تم سے اس لیے قتال نہیں کیا کہ تم نماز پڑھو، روزہ رکھو، حج کرو یا زکوۃ ادا کرو۔ (حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ)
-
خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم تحریف قرآن کی زد میں
-
حدیث فدک
-
دھوکہ نمبر 42
-
دھوکہ نمبر 87
-
جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم
-
پاکستان میں شیعہ کے دہشت گردی اور ظلم و ستم اور ٹارگٹ کلنگ کے سنسنی خیز انکشافات
-
سپاہِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا پیغام
-
ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔
-
پاکستان کو سنی سٹیٹ قرار دلانا
-
تاریخ شیعیت (رافضیت)
-
تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)
-
سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ کو مدینہ سے دور ربذہ مقام پر جلا وطن کر دیا
-
عقیدہ امامت ہی فساد کی اصل جڑ ہے
-
شیعہ کی نگاہ میں مسئلہ امامت کی اہمیت اور اس کی تردید
-
فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد
-
روافض کا غلو
-
فصل:....افعال اختیاریہ پر دلالت نقل کی بابت رافضی کا کلام اور اس کا رد
-
فصل دوم : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت:
-
فصل:....قریش کی امامت وخلافت
-
فصل: ....اہل سنت پر قیاس کا طعنہ اور ا س کا رد
-
فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ
-
فصل:....شیعہ اور یقین نجات
-
فصل:....بارہ آئمہ کے خصائص پر رافضی کا کلام
-
فصل:....فضائل علی ھادی العسکری
-
فصل: ....خطبہ جمعہ اور خلفائے راشدین کا ذکر
-
فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب
-
فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب
-
فصل:....حضرت خالد بن ولید اور مالک بن نویرہ کا واقعہ
-
فصل:....بقول روافض اہل یمامہ مرتد نہ تھے
-
فصل:....بقول شیعہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شیطان سے بدتر ؟
-
فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام
-
فصل:....شہادت حسین رضی اللہ عنہ اور بدعات کی شروعات
-
فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ
-
فصل:....رافضی کا اہل سنت پر الزام
-
تیسری فصل اداء صدقہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انفرادیت
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور جہادفی سبیل اللہ
-
امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل
-
فصل: محبت علی رضی اللہ عنہ اور گناہ کی چھوٹ
-
امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد
-
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل:
-
امامت علی کی چوتھی دلیل:
-
امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:
-
امامت علی رضی اللہ عنہ کی چھٹی دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گیارھویں دلیل:
-
امامت علی رضی اللہ عنہ کی چوتھی دلیل؛ حدیث:نیابت مدینہ :
-
فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: حدیث طیر]
-
فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دسویں دلیل:حدیث غدیر خم اور حدیث سفینہ نوح
-
فصل:....[امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارھویں دلیل :دیگراحادیث]
-
چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر استدلال فصل :....آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور حد درجہ عالم و شجاع تھے
-
فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ عدیم المثال تھے
-
فصل :....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کثرت عبادت]
-
فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے
-
[حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے بڑے قاضی؟]:
-
فصل ششم: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت کے دلائل
-
فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]
-
آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت
-
آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت
-
آیت تطہیر
-
شیعیت اور یہودیت کا امامت کی وصیت پر ایک ہی نظریہ ہے
-
نصیریہ فرقہ کے شیعوں کا عقیدہ
-
اسماعیلیوں کے عقائد اور اسماعیلیوں کی عبادات
-
اسماعیلیوں کے ذرائع آمدن
-
ان کی کتابوں کا تذکرہ
-
مکارمہ اسماعیلیوں کے عقائد
-
اسماعیلی مکارمہ کے ذرائع آمدن
-
آیت غاز
-
مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد
-
رافضیوں کا غلو اور عبادات میں شرک
-
شیعہ علماء کے اعتقاد کے مطابق بنیادی اعمال کی بنیاد کیا ہے؟
-
کیا شیعہ علماء اللہ تعالی کے جسم کا عقیدہ رکھتے ہیں؟
-
جامعہ محمودیہ
-
شیعہ مذہب میں امامت کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟
-
کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں شیعہ نے اپنے ائمہ کے عقیدے کی اتباع کی ہے؟
-
یہود کی تاریخ
-
شیعہ ائمہ کے مزارات کی زیارت کے کون سے آداب ہیں جنہیں شیعہ علماء واجب قرار دیتے ہیں؟
-
شیعہ عقیدہ کی رو سے شیعہ مجتہدین کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ اور مجتہد کا رد کرنے والے کا حکم کیا ہے؟
-
دین اور اختلاف کا وقوع
-
قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد)
-
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)
-
کلام مجید شاہد ہے: اور ان لوگوں سے کہ گرد تمہارے ہیں باد یہ نشینوں سے منافق ہیں اور بعض لوگ مدینہ کے بھی سرکشی کرتے ہیں اوپر نفاق کے تو نہیں جانتا ان کو ہم جانتے ہیں ان کو شتاب عذاب کریں گے ہم ان کو پھر پھیرے جاویں گے طرف عذاب بڑے کے۔ (ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحبؒ) اس آیت کریمہ سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ میں بھی رسول خداﷺ کے زمانے میں منافق رہا کرتے تھے اس کے علاؤہ تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ مدینۃ الرسولﷺ میں کثرت سے منافق رہا کرتے تھے انتقال مصطفیٰﷺ کے بعد مسلمانوں کی دو پارٹیاں معرض وجود میں آئیں ایک حکومت کی اور دوسری بنی ہاشم کی پارٹی ارشاد فرمائیں کہ منافقین کی پارٹی میں شامل ہو گئے تھے جو لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں منافق تھے انتقالِ رسولﷺ کے بعد ان منافقین کو کیا آسمان نے اٹھا لیا یا انہیں زمین نگل گئی یا تمام منافقین حکومت سے تعاون کرتے ہی فرشتے 234 بن گئے ان منافقین کی نشان دہی تو کرو کہ وہ کہاں غائب ہو گئے جب کہ تاریخ شاہد ہے ان دو پارٹیوں کے علاؤہ کوئی تیسری پارٹی ہی رکھی تحقیق ضروری ہے۔
-
مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔
-
اگر کوئی شخص خلیفہ وقت کو نہ مانے اور اس کی علی الاعلان مخالفت کرے تو ایسے شخص کی کیا سزا ہے مگر یاد رہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ وقت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جنگیں کی ہیں واقعات جنگ جمل و صفین و نہروان کو پیش نظر رکھ کر فتویٰ صادر فرمائیں کہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے کی سزا کیا ہے؟ انصاف مطلوب ہے۔
-
اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والا جہنمی ہے تو اس سیدہ کا قاتل کیونکر رضی اللہ عنہ رہ سکتا ہے۔ مہربانی کر کے تاریخِ اسلام: جلد، 2 صفحہ، 44 نجیب آبادی ملاحظہ کر کے فتویٰ صادر فرمائیں۔
-
رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔
-
عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے
-
کیا کسی آدمی کو دین مصطفیٰﷺ میں کمی بیشی کرنے کا اختیار یا حق ہے اگر نہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اذان میں الصلاۃ خیر من النوم نماز تراویح با جماعت چار تکبیروں پر نماز جنازہ کا اتفاق کرانا متعہ کو حرام قرار دینا تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جائیں طلاق بائن قرار دینا اور قیاس کو اصول قائم کرنا کہاں تک درست ہے اور کیا یہ صراحتا مداخلت فی الدین نہیں جو ناجائز اور حرام ہے۔
-
کلمہ طیبہ اور چند فروعی مسائل
-
علم فقہ
-
حدیث قرطاس (علامہ ڈاکٹر خالد محمود)
-
ہجرت اور صدیقیؓ رفاقت
-
تفسیر آیت مباھلہ
-
کرامات صدیقیؓ
-
مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام
-
تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کی
-
عہدِ نبوتﷺ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سالارانہ خدمات
-
بحث نکاح سیدہ امِّ کلثوم رضی اللہ عنہا
-
مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ
-
عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد
-
معوّذتین کی قرآنیت
-
آیت تطہیر اور حدیث کساء
-
یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا