Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مال غنیمت کا خمس

  علی محمد الصلابی

جہاد کا آغاز رسول اللہﷺ‏ کے دور سے شروع ہوا اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ اور اسی طرح سیدنا عثمانِ غنیؓ کے دور میں جاری رہا جس کے نتیجہ میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی اور اسلامی سلطنت کو وسعت ملی۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں بہت زیادہ فتوحات ہوئیں جس کی وجہ سے بہت زیادہ مالِ غنیمت بیت المال کو حاصل ہوا اور اسی میں سے خمس بھی تھا۔ اسی طرح بیت المال کو ان اہلِ کتاب کی طرف سے جزیہ کا مال بھی خوب حاصل ہوا جنھوں نے اپنے دین پر باقی رہنے کو ترجیح دی اور جنگ کرنے سے باز رہے اس طرح بیت المال اور اسلامی فتوحات کے مابین گہرا تعلق رہا۔ عہدِ عثمانی میں اسلامی فتوحات کے لیے جان و مال کی قربانی دیتے ہی تھے، اس کے ساتھ ساتھ بیت المال نے بھی مذکورہ فتوحات کے لیے مال فراہم کیا خواہ افواج کی تنخواہ کی شکل میں یا اسلحہ اور سامانِ جنگ کی خریداری کی شکل میں اور جب فتوحات حاصل ہوئیں تو ان اہلِ کتاب پر جو مسلمان نہیں ہوئے جزیہ عائد کیا گیا اور ان زمینوں پر خراج عائد کیا گیا جو کفار سے جنگ کر کے حاصل کی گئیں اور اسی طرح جو لوگ مسلمان ہوئے انہوں نے زکوٰۃ کی شرائط کی تکمیل کی صورت میں زکوٰۃ ادا کی جو ارکانِ اسلام میں سے ہے، اس کی ادائیگی کے بغیر اسلام ہی نا مکمل ہوتا ہے۔ ان سب سے اسلامی سلطنت کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے مالِ غنیمت کو حلال کیا ہے جو پانچ حصوں میں مساوی تقسیم کیا جاتا ہے، چار حصے مجاہدین کے درمیان تقسیم کیے جاتے ہیں اور پانچواں حصہ بیت المال میں جمع ہوتا ہے۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 86، 87) 

درج ذیل بعض مسائل سے عہدِ عثمانی میں مالِ غنیمت کے خمس سے متعلق عام مالی سیاست کے نفاذ کا اظہار ہوتا ہے: