مرتدین سے جہاد
علی محمد الصلابیارتداد کی اصطلاحی تعریف اور ارتداد سے روکنے والی بعض آیات
قارتداد کی اصطلاحی تعریف
امام نووی رحمہ اللہ ارتداد کی تعریف میں فرماتے ہیں: نیت یا کفریہ قول یا فعل کے ذریعہ سے اسلام کا انکار کر دینا خواہ مذاق کے طور پر یہ بات کہی ہو۔ عناد یا اعتقاد کی بنیاد پر۔ لہٰذا جس نے خالق کی یا رسولوں کی نفی کی یا کسی رسول کی تکذیب کی، یا بالاجماع حرام چیز جیسے زنا کو حلال قرار دیا، یا اس کے برعکس بالاجماع حلال کو حرام قرار دیا، یا مجمع علیہ وجوب کی نفی کی، یا اس کے برعکس مجمع علیہ عدم وجوب کو واجب قرار دیا، یا کفر کا عزم کیا یا اس میں تردد کیا، وہ کافر ہو گیا۔
(محمد الزہری الغمراوی: شرح علی متن المنہاج: لشرف الدین النَّوَوِی: صفحہ 519)
اور علیش مالکیؒ نے اس کی تعریف یوں بیان کی ہے: کسی مسلمان کا قول صریح یا ایسے قول و فعل کے ذریعہ سے کافر ہو جانا جو کفر کے متقاضی ہوں۔
(احکام المرتد للسامرائی: صفحہ 44)
اور امام ابنِ حزم رحمہ اللہ مرتد کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہر وہ شخص جو مسلمان ہو اور دیگر تمام ادیان سے بری ہو پھر اس کے بارے میں ثابت ہو جائے کہ وہ اسلام سے پھر گیا اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) یا غیر اہل کتاب کے دین میں داخل ہو گیا یا بے دین ہو گیا۔
(المُحلّی: جلد 11 صفحہ 188 المطبعۃ المنیریۃ: 1352 ہجری)
اور عثمان حنبلیؒ نے مرتد کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: مرتد لغت میں لوٹنے والے کو کہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِكُمْ(سورۃ المائدۃ: آیت 21)
ترجمہ: اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو۔
شریعت میں مرتد اس شخص کو کہتے ہیں جو اسلام لانے کے بعد وہ کام کرے جس سے کفر لازم آتا ہو۔
(احکام المرتد للسامرائی: صفحہ 44)
اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرتد ہر اس شخص کو کہیں گے جو اس چیز کا انکار کرے جس کا دین ہونا معلوم و متعین ہو جیسے نماز، زکوٰۃ، نبوت، مؤمنین سے دوستی و محبت، یا ایسے قول یا فعل کا مرتکب ہو جس میں کفر کے سوا کسی تاویل کا احتمال نہ ہو۔
(حرکۃ الردۃ: دیکھیے علی العتوم صفحہ 18 یہ ارتداد کے سلسلہ میں اہم ترین مرجع ہے)