Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دروس و عبر اور فوائد

  علی محمد الصلابی

بنو تمیم میں اسلام پر ثابت قدم رہنے والے

بنو تمیم کے تمام قبائل یا تمام افراد یا تمام رؤساء مرتد نہیں ہوئے تھے جیسا کہ بعض جدید مؤرخین باور کرانا چاہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بنو تمیم کے بعض خاندان، افراد اور رؤساء کی ثابت قدمی اور اسلامی قوت کے پیش نظر مالک بن نویرہ سجاح کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے قتال سے پہلے ان (تمیمی مسلمانوں) سے قتال کرنے پر مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن جب بنو تمیم کے ثابت قدم مسلمانوں کے سامنے سجاح کو شکست فاش ہوئی تو مدینہ کی طرف رخ کرنے کی بجائے یمامہ کی طرف متوجہ ہوئی۔ بے شمار تاریخی روایات اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔

(الثابتون علی الاسلام: صفحہ 44)

بلکہ ان روایات میں تدقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بنو تمیم میں مرتدین اور مرتدین کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنے والے مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اور بعض روایات مرتدین کے مقابلہ میں ڈٹ جانے کے سلسلہ میں قبیلہ رباب کے عظیم کردار کی تصویر کشی کرتی ہیں۔ اسی طرح سجاح اور اس کی جماعت نے ان کو نشانہ بنایا اور بعض روایات اس عظیم مقابلہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو رباب اور سجاح کے مابین ہوا اور جب سجاح بنو تمیم کے مسلمانوں کو تابع کرنے میں ناکام ہو گئی تو آخر کار صلح پر معاملہ ختم ہوا اور اسی طرح یہ روایات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قیس بن ثابت مرتدین کا ساتھ دینے پر نادم ہوا اور اپنے خاندان کی زکوٰۃ لے کر مدینہ آیا۔ سجاح اور اس کی جماعت ناکامی کا شکار ہوئی۔

(الثابتون علی الاسلام: صفحہ 48)