Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہم دروس و عبر اور فوائد

  علی محمد الصلابی

1: کافروں کے دلوں میں مومنوں کے خلاف عداوت و حسد کی آگ سے آگاہی:

کافروں کے دلوں میں مومنوں کے خلاف عداوت و حسد کی آگ ہمیشہ لگی رہتی ہے، اس کی واضح دلیل ابولؤلؤ مجوسی کے ہاتھوں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت ہے۔ ہر دور اور ہر جگہ کفر اور کفار کی یہی فطرت رہی ہے۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض، حسد اور نفرت ہوتی ہے، ان کی روحیں مومنوں کو تکلیف پہنچانے اور ہلاک و برباد کرنے کے لیے بے چین رہتی ہیں، ان کی بس ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ مسلمانوں سے ان کا مذہبی شعور چھین لیں اور انہیں اسلام سے کفر میں لوٹا دیں۔

(سیر الشہداء دروس و عبر: عبدالحمید السحسیبانی: صفحہ 36)

اگر کوئی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت اور آپؓ کے قاتل بدبخت ابولؤلؤ کے حاقدانہ کردار کا بغور جائزہ لے تو دو اہم باتیں اس کے سامنے کھل کر آئیں گی جو اس کافر کے دل میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور تمام مسلمانوں کے خلاف بغض، نفرت اور حسد کی طرف صاف صاف اشارہ کرتی ہیں:

ا: ابن سعد نے امام زہری تک بسند صحیح اپنی کتاب ’’الطبقات الکبریٰ‘‘ میں لکھا ہے۔

(الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 345، اس کی سند صحیح ہے۔)

کہ ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مجوسی سے کہا: میں نے سنا ہے کہ تم ایسی چکی بنانے کا دعویٰ کر رہے ہو جو ہوا سے چلے گی۔ مجوسی ترش رو ہو کر سیدنا عمرؓ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: میں آپ کے لیے ایسی چکی بناؤں گا جس کا چرچا ہر جگہ ہوگا۔ اس کی بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اس غلام نے مجھے دھمکی دی ہے۔

ب: جس وقت مجوسی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا، اس وقت مزید تیرہ(13) صحابہؓ پر بھی وار کیا، جن میں سے سات اسی وقت شہید ہوگئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کے بعد دو دھاری خنجر لے کر (ابولؤلؤ) مجوسی فرار ہوا، دائیں بائیں جو بھی ملتا اس پر وار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ تیرہ (13) لوگوں کو زخمی کر دیا، ان میں سات کی شہادت ہوگئی۔

(صحیح البخاری: فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر: 3700)

پس بفرض محال (معاذ اللہ) مجوسی کے لیے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بروقت سفارش نہ کر کے عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر ظلم کیا تھا اور وہ ظالم تھے تو بقیہ تیرہ (13) صحابہ کرامؓ کا کیا قصور تھا، جن پر اس نے خنجر چلایا؟

بلا شبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس پر کوئی ظلم نہ کیا تھا، صحیح بخاری میں ہے کہ جب عمر فاروقؓ پر حملہ ہوا تو آپ نے کہا: اے ابن عباس! دیکھو میرا قاتل کون ہے؟وہ ادھر ادھر کچھ دیر گھومتے اور خبر لیتے رہے، پھر واپس لوٹے اور آپ کو بتایا کہ: مغیرہ کا غلام۔ آپ نے پوچھا: کیا وہی کاریگر۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اللہ اس کو ہلاک کرے، میں نے اس کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا تھا۔ شکر ہے اللہ تعالیٰ کا کہ اس نے کسی کلمہ گو کے ہاتھوں مجھے موت نہیں دی۔

(صحیح البخاری: فضائل الصحابہ: حدیث نمبر: 3700)

اسی ابولؤلؤ مجوسی قاتل کے لیے اعدائے اسلام (شیعوں) نے ایران میں گم نام فوجی کے طرز پر ایک یادگار مزار بنایا ہے، نجف کے عالم سید حسین موسوی لکھتے ہیں کہ ’’ایران کے شہر کاشان میں، باغی فین کے علاقہ میں ایک گم نام فوجی کے طرز پر مزار پایا جاتا ہے، اس میں خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قاتل ابولؤلؤ فیروز فارسی مجوسی کی وہمی قبر ہے، اس کو بابا شجاع الدین کا مزار کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ (شیعہ) ابولؤلؤ مجوسی کو بابا شجاع الدین کا لقب دیتے ہیں، اس لیے کہ اس نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا۔ اس مزار کی دیواروں پر فارسی زبان میں لکھا ہوا ہے: ’’مرگ بر ابوبکر، مرگ بر عمر، مرگ بر عثمان۔‘‘یہ مزار ایرانی شیعوں کی ایک اہم زیارت گاہ ہے۔ وہاں روپیوں پیسوں کے نذرانے چڑھائے جاتے ہیں، میں نے اس مزار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ایرانی وزارت مذہبی امور نے حکومتی خرچ پر اس میں تجدید و توسیع کی ہے۔ مزید برآں اس مزار کی تصویر پر ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے۔

(للّٰه: ثم للتاریخ: کشف الاسرار و تبرئۃ الأئمۃ الأطہار: صفحہ 94)