Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

طائف

  علی محمد الصلابی

طائف کا شمار دور فاروقی کے اہم اسلامی شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ شہر طاقتور مجاہدین اسلام کی فوجی تحریک کو قوت فراہم کرتا تھا۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی سے حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ یہاں کے والی گورنر تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں انھیں یہیں اسی منصب پر باقی رکھا۔ خلافت فاروقی میں بھی دو سال تک آپؓ یہاں کے گورنر رہے، لیکن اس وقت آپؓ کا دل جذبہ جہاد سے معمور تھا، چنانچہ سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس اس سلسلہ میں خط لکھا اور جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی، حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں تو آپ کو معزول نہیں کر سکتا، البتہ آپ باشندگان طائف میں سے جسے اپنا نائب مناسب سمجھیں بنا لیں اور پھر حضرت عمرؓ نے بعد میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو عمان اور بحرین کا گورنر مقرر کیا۔

(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 134) تاریخی روایات میں یہ بات ملتی ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کی جب وفات ہوئی تو اس وقت حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ وہاں کے گورنر تھے۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 239) ان کے اور امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کے درمیان شہد، میوہ جات اور سبزیوں سے زکوٰۃ لینے کے متعلق خط و کتابت ہوتی رہتی تھی، 

(الطائف فی العصر الجاہلی و صدر الإسلام: نادیۃ حسین صقر: صفحہ 19) جو اس بات کی دلیل ہے کہ دور فاروقی میں طائف زرعی پیداوار کی فراوانی اور بکثرت کھیتیوں والا شہر تھا۔ آپؓ کے عہد میں طائف اور اس کے قرب و جوار کے شہروں کو استحکام اور خوشحالی نصیب تھی۔ مکہ کے لوگ گرمی کے موسم میں یہاں خوشگوار فضا کے مزے لینے آیا کرتے تھے۔

(الطائف فی العصر الجاہلی و صدر الإسلام: نادیۃ حسین صقر: صفحہ 19) اس طرح دور فاروقی میں اسلامی سلطنت کے اہم شہروں میں طائف کا شمار ہوتا رہا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 69)