ابتلاء و آزمائش - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ابتلاء و آزمائش

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 6

ابتلاء و آزمائش:

افراد اور جماعتیں، اقوام و ملل اور ممالک کی تاریخ میں ابتلاء و آزمائش کی سنت جاری رہی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اندر بھی یہ سنت الٰہی قائم رہی اور اس قدر ابتلاء و محن سے دوچار ہوئے کہ دیو ہیکل پہاڑ بھی جواب دے جائیں لیکن ان نفوس قدسیہ نے اپنی جان ومال اللہ کی راہ میں قربان کر دیے۔ جہد ومشقت انتہاء کو پہنچ گئی، اس ابتلاء و محن سے اونچے گھرانے کے مسلمان بھی نہ بچ سکے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت کو بھی اذیت پہنچائی گئی۔ آپ کے سر مبارک پر مٹی ڈالی گئی، مسجد حرام میں جوتوں سے پٹائی کی گئی، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ اس قدر زخمی ہوا کہ ناک و چہرہ میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا اور موت وحیات کے عالم میں کپڑے میں لپیٹ کر آپ کے گھر لایا گیا۔

(التمکین للامۃ الاسلامیۃ: 243)

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ صحابہ اکٹھے ہو گئے جن کی تعداد 38 ہو گئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصرار کیا کہ اب دعوت کو ظاہر کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ہم تھوڑے ہیں، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ برابر اصرار کرتے رہے، آپ کے اصرار پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز صحابہ کے ساتھ مسجد حرام میں تشریف لائے، صحابہ مسجد کے گوشوں میں اپنے اپنے قبیلے کے ساتھ جا بیٹھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر خطاب کرنا شروع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ آپ پہلے خطیب تھے جنہوں نے اللہ و رسول کی طرف دعوت دی۔ یہ خطاب سن کر مشرکین آپ پر اور آپ کے دیگر مسلمان ساتھیوں پر بپھر پڑے، مسلمانوں کی سخت پٹائی کی، ابوبکر کو روند ڈالا، سخت مارا پیٹا، ملعون عتبہ بن ربیعہ آپ سے قریب ہوا، آپ کو پیوند لگے جوتوں سے مارنے لگا، آپ کے چہرہ کو نشانہ بنایا اور آپ کے پیٹ پر چڑھ گیا، کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ چہرہ اور ناک کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ بنو تیم کے لوگ دوڑے ہوئے آئے ان کو دیکھ کر مشرکین آپ کو چھوڑ بھاگے۔ بنو تیم آپ کو کپڑے میں لپیٹ کر آپ کے گھر لے گئے، آپ کی موت میں کسی کو شک نہ رہا، پھر بنو تیم کے لوگ مسجد حرام میں واپس آئے اور قسم کھا کر کہا: اللہ کی قسم اگر ابوبکر کی وفات ہو گئی تو ہم عتبہ بن ربیعہ کو ضرور قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس پہنچے، آپ کے والد ابو قحافہ اور بنو تیم کے لوگوں نے آپ سے بات کرنے کی کوشش کی، آپ نے دن کے آخری پہر بات چیت شروع کی تو آپ کا پہلا سوال یہ تھا:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟‘‘

اس پر انہوں نے آپ کو ملامت کی اور آپ کی والدہ سے کہا: ان کو کچھ کھلاؤ پلاؤ۔

جب والدہ آپ کے ساتھ تنہائی میں ہوئیں تو کچھ کھانے پینے پر اصرار کیا لیکن آپ یہی کہتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟

والدہ نے کہا: اللہ کی قسم تمہارے ساتھی کی مجھے کوئی خبر نہیں ہے۔

آپ نے کہا: ام جمیل بنت خطاب کے پاس جاؤ اور ان سے آپ کے بارے میں پوچھو۔

آپ کی والدہ ام جمیل کے پاس پہنچیں اور ان سے کہا کہ ابوبکر، محمد بن عبداللہ کے متعلق دریافت کر رہا ہے کہ ان کا کیا حال ہے؟

ام جمیل نے کہا: میں نہ ابوبکر کو جانتی ہوں اور نہ محمد بن عبداللہ کو، لیکن اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے کے پاس چلتی ہوں؟

والدہ نے کہا: ہاں چلیے!

وہ ان کے ساتھ گئیں، آپ کے پاس پہنچ کر جب آپ کی ناگفتہ بہ حالت دیکھی تو پریشان ہو گئیں اور چیخ پڑیں اور کہا کہ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ یہ برتاؤ کیا ہے وہ انتہائی برے لوگ اور کافر ہیں۔ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ آپ کا انتقام ان سے ضرور لے گا۔

آپ نے ان سے دریافت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟

ام جمیل نے کہا: یہ آپ کی والدہ سن رہی ہیں۔

کہا: کوئی پرو ا نہیں۔

بتلایا: آپ صحیح سالم ہیں۔

پوچھا: کہاں ہیں؟

ام جمیل نے کہا: دار ارقم میں۔

آپ نے کہا: میں اللہ کی قسم اس وقت تک نہ کھاؤں گا اور نہ پیوں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری نہ دے دوں۔

جب لوگوں کا چلنا پھرنا کم ہوا، ماحول پر سکون ہوا تو ام جمیل اور آپ کی والدہ آپ کو سہارا دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں، آپ کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے چمٹ گئے اور آپ کو بوسہ دیا اور دیگر مسلمان بھی آپ سے چمٹ گئے۔ آپ کی کیفیت دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی رقت طاری ہوئی۔

آپ نے کہا: کوئی پریشانی نہیں، صرف اس فاسق نے میرے چہرہ کی جو حالت بنائی ہے وہی قابل افسوس ہے۔ یہ میری والدہ ہیں، اپنے بیٹے کو بہت چاہتی ہیں۔ آپ کی ذات با برکت ہے، آپ ان کو اللہ کی طرف دعوت دیجیے اور اللہ سے دعا کیجیے، امید ہے اللہ انہیں آپ کے ذریعہ سے جہنم سے بچا لے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی اور ان کو اسلام کی دعوت دی، وہ فوراً مسلمان ہو گئیں۔

(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: جلد،1 صفحہ، 439 تا 441 ، البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 30)

یہ عظیم واقعہ ان حضرات کے لیے اپنے اندر بہت سے دروس وعبر رکھتا ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اقتدا کرنا چاہتے ہیں۔

ہم یہاں ان دروس وعبر کو بیان کر رہے ہیں:

صفحہ 1 از 6