Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ابتلاء و آزمائش

  علی محمد الصلابی

ابتلاء و آزمائش:

افراد اور جماعتیں، اقوام و ملل اور ممالک کی تاریخ میں ابتلاء و آزمائش کی سنت جاری رہی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اندر بھی یہ سنت الٰہی قائم رہی اور اس قدر ابتلاء و محن سے دوچار ہوئے کہ دیو ہیکل پہاڑ بھی جواب دے جائیں لیکن ان نفوس قدسیہ نے اپنی جان ومال اللہ کی راہ میں قربان کر دیے۔ جہد ومشقت انتہاء کو پہنچ گئی، اس ابتلاء و محن سے اونچے گھرانے کے مسلمان بھی نہ بچ سکے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت کو بھی اذیت پہنچائی گئی۔ آپ کے سر مبارک پر مٹی ڈالی گئی، مسجد حرام میں جوتوں سے پٹائی کی گئی، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ اس قدر زخمی ہوا کہ ناک و چہرہ میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا اور موت وحیات کے عالم میں کپڑے میں لپیٹ کر آپ کے گھر لایا گیا۔

(التمکین للامۃ الاسلامیۃ: 243)

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ صحابہ اکٹھے ہو گئے جن کی تعداد 38 ہو گئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصرار کیا کہ اب دعوت کو ظاہر کیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ہم تھوڑے ہیں، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ برابر اصرار کرتے رہے، آپ کے اصرار پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز صحابہ کے ساتھ مسجد حرام میں تشریف لائے، صحابہ مسجد کے گوشوں میں اپنے اپنے قبیلے کے ساتھ جا بیٹھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر خطاب کرنا شروع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ آپ پہلے خطیب تھے جنہوں نے اللہ و رسول کی طرف دعوت دی۔ یہ خطاب سن کر مشرکین آپ پر اور آپ کے دیگر مسلمان ساتھیوں پر بپھر پڑے، مسلمانوں کی سخت پٹائی کی، ابوبکر کو روند ڈالا، سخت مارا پیٹا، ملعون عتبہ بن ربیعہ آپ سے قریب ہوا، آپ کو پیوند لگے جوتوں سے مارنے لگا، آپ کے چہرہ کو نشانہ بنایا اور آپ کے پیٹ پر چڑھ گیا، کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ چہرہ اور ناک کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ بنو تیم کے لوگ دوڑے ہوئے آئے ان کو دیکھ کر مشرکین آپ کو چھوڑ بھاگے۔ بنو تیم آپ کو کپڑے میں لپیٹ کر آپ کے گھر لے گئے، آپ کی موت میں کسی کو شک نہ رہا، پھر بنو تیم کے لوگ مسجد حرام میں واپس آئے اور قسم کھا کر کہا: اللہ کی قسم اگر ابوبکر کی وفات ہو گئی تو ہم عتبہ بن ربیعہ کو ضرور قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس پہنچے، آپ کے والد ابو قحافہ اور بنو تیم کے لوگوں نے آپ سے بات کرنے کی کوشش کی، آپ نے دن کے آخری پہر بات چیت شروع کی تو آپ کا پہلا سوال یہ تھا:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟‘‘

اس پر انہوں نے آپ کو ملامت کی اور آپ کی والدہ سے کہا: ان کو کچھ کھلاؤ پلاؤ۔

جب والدہ آپ کے ساتھ تنہائی میں ہوئیں تو کچھ کھانے پینے پر اصرار کیا لیکن آپ یہی کہتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟

والدہ نے کہا: اللہ کی قسم تمہارے ساتھی کی مجھے کوئی خبر نہیں ہے۔

آپ نے کہا: ام جمیل بنت خطاب کے پاس جاؤ اور ان سے آپ کے بارے میں پوچھو۔

آپ کی والدہ ام جمیل کے پاس پہنچیں اور ان سے کہا کہ ابوبکر، محمد بن عبداللہ کے متعلق دریافت کر رہا ہے کہ ان کا کیا حال ہے؟

ام جمیل نے کہا: میں نہ ابوبکر کو جانتی ہوں اور نہ محمد بن عبداللہ کو، لیکن اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے کے پاس چلتی ہوں؟

والدہ نے کہا: ہاں چلیے!

وہ ان کے ساتھ گئیں، آپ کے پاس پہنچ کر جب آپ کی ناگفتہ بہ حالت دیکھی تو پریشان ہو گئیں اور چیخ پڑیں اور کہا کہ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ یہ برتاؤ کیا ہے وہ انتہائی برے لوگ اور کافر ہیں۔ مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ آپ کا انتقام ان سے ضرور لے گا۔

آپ نے ان سے دریافت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟

ام جمیل نے کہا: یہ آپ کی والدہ سن رہی ہیں۔

کہا: کوئی پرو ا نہیں۔

بتلایا: آپ صحیح سالم ہیں۔

پوچھا: کہاں ہیں؟

ام جمیل نے کہا: دار ارقم میں۔

آپ نے کہا: میں اللہ کی قسم اس وقت تک نہ کھاؤں گا اور نہ پیوں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری نہ دے دوں۔

جب لوگوں کا چلنا پھرنا کم ہوا، ماحول پر سکون ہوا تو ام جمیل اور آپ کی والدہ آپ کو سہارا دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں، آپ کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے چمٹ گئے اور آپ کو بوسہ دیا اور دیگر مسلمان بھی آپ سے چمٹ گئے۔ آپ کی کیفیت دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی رقت طاری ہوئی۔

آپ نے کہا: کوئی پریشانی نہیں، صرف اس فاسق نے میرے چہرہ کی جو حالت بنائی ہے وہی قابل افسوس ہے۔ یہ میری والدہ ہیں، اپنے بیٹے کو بہت چاہتی ہیں۔ آپ کی ذات با برکت ہے، آپ ان کو اللہ کی طرف دعوت دیجیے اور اللہ سے دعا کیجیے، امید ہے اللہ انہیں آپ کے ذریعہ سے جہنم سے بچا لے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی اور ان کو اسلام کی دعوت دی، وہ فوراً مسلمان ہو گئیں۔

(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: جلد،1 صفحہ، 439 تا 441 ، البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 30)

یہ عظیم واقعہ ان حضرات کے لیے اپنے اندر بہت سے دروس وعبر رکھتا ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اقتدا کرنا چاہتے ہیں۔

ہم یہاں ان دروس وعبر کو بیان کر رہے ہیں:

  • ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلام کے اعلان اور کفار کے سامنے اس کے اظہار کے بڑے شوقین تھے۔ اس سے آپ کی ایمانی قوت اور شجاعت کا پتہ چلتا ہے۔ اس کی خاطر انہوں نے بڑی تکلیف اٹھائی، یہاں تک کہ قوم کے لوگوں کو آپ کی موت میں شک نہ رہا، آپ کے دل میں اللہ و رسول کی محبت اپنے نفس سے کہیں زیادہ پیوست تھی۔ اسلام کے بعد آپ کے پیش نظر صرف توحید کا پرچم بلند کرنا اور مکہ کے اندر لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی صدا کو عام کرنا تھا اگرچہ اپنی جان دینی پڑے۔ اور عملاً ایسا ہوا بھی کہ اسلام و عقیدۂ توحید کی خاطر قریب تھا کہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔
  • لوگوں تک اسلامی دعوت کو پہچانے کے لیے… جس سے دلوں کو خوشی وسکون ملتا ہے… جاہلی طوفان کے درمیان اسلام کے اظہار و اعلان پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اصرار، باوجود یہ کہ آپ کو یہ پتہ تھا کہ اس راستہ میں کس قدر مصائب وآلام ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اٹھانے پڑیں گے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ ذاتی منفعت کی فکر کے دائرہ سے نکل چکے تھے۔
  • اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں اس طرح پیوست ہو گئی تھی کہ اپنے نفس کی محبت پر غالب تھی، اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ باوجود یہ کہ لوگ آپ کی زندگی سے نا امید ہو چکے تھے، پھر بھی آپ کا پہلا سوال تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس حال میں ہیں؟ اور آپ نے قسم کھا لی کہ اس وقت تک کچھ کھاؤں پیوں گا نہیں، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں کر لیتا۔ اسی طرح ہر مسلمان کے اندر اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تمام محبتوں پر غالب ہونی چاہیے، خواہ اس کی خاطر جان ومال قربان کرنا پڑے۔ (استخلاف ابی بکر الصدیق: د۔ جمال عبدالہادی، صفحہ، 131 اور 132)
  • افراد کے ساتھ تعامل اور واقعات وحادثات کے سلسلہ میں قبائلی عصبیت کا اہم کردار تھا۔ اگرچہ عقیدہ میں اختلاف کیوں نہ ہو، یہاں ہم نے دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قبیلہ نے عقیدہ میں اختلاف کے باوجود عتبہ کو دھمکی دی کہ اگر ابوبکر کی موت ہو گئی تو ہم تم کو قتل کیے بغیر نہیں رہیں گے۔ (محنۃ المسلمین فی العہد المکی: د۔ سلیمان السُّویکت، 79)
  • اس واقعہ سے ام جمیل رضی اللہ عنہا کا بہترین مؤقف نکھر کر سامنے آتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دعوت دین کے شوق ومحبت اور اس کے لیے جدوجہد پر کس طرح ان کی تربیت ہوئی تھی۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کی والدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا تو فوراً جواب دیا کہ نہ میں ابوبکر کو جانتی ہوں اور نہ محمد بن عبداللہ کو جانتی ہوں۔ کامل احتیاط کا تقاضا یہی تھا کیونکہ اس وقت ام الخیر مسلمان نہ تھیں اور ام جمیل اپنے اسلام کو چھپا رہی تھیں، یہ نہیں چاہتی تھیں کہ ام الخیر کو اس کی خبر ہو۔ اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کی خبر دی، کیونکہ خوف تھا کہ کہیں قریش کی جاسوس نہ ہوں۔ (السیرۃ النبویۃ قراء ۃ لحمایۃ الحذر والحمایۃ: 50) ساتھ ہی ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کیفیت معلوم کرنے اور آپ کی صحت کے سلسلہ میں اطمینان حاصل کرنے کی بھی فکر دامن گیر تھی، اسی لیے ام الخیر سے ان کے بیٹے کے پاس ان کے ساتھ جانے کی پیشکش کی۔ اور جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچیں تو اس سلسلہ میں کامل احتیاط ملحوظ رکھی کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و جگہ کی خبر کسی کو ملنے نہ پائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق اطمینان دلایا۔ (السیرۃ النبویۃ قراء ۃ لحمایۃ الحذر والحمایۃ: 51) اور پھر تینوں کا ایسے وقت میں گھر سے نکلنا جب لوگوں کا چلنا پھرنا بند ہو جائے اور فضا پر سکون ہو جائے، کامل احتیاط کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ لوگوں کے دین سے کھیلا جا رہا تھا اور لوگ آزمائشوں سے دو چار ہو رہے تھے۔ (استخلاف الصدیق: د۔ جمال عبدالہادی، 132)
  • اس واقعہ سے والدہ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نیکی واحسان کا پتہ چلتا ہے۔ آپ اپنی والدہ کی ہدایت کے لیے انتہائی حریص تھے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یہ میری والدہ اپنے بیٹے کو بہت چاہتی ہیں، آپ کی ذات بابرکت ہے، آپ ان کو اللہ کی طرف دعوت دیں اور ان کے حق میں اللہ سے دعا کریں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ سے ان کو جہنم سے بچا لے۔ اس جملے سے عذاب الٰہی کا خوف اور اس کی رضا جوئی و جنت کی رغبت عیاں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی والدہ کے لیے ہدایت کی دعا کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی، آپ کی والدہ مشرف بہ اسلام ہوئیں اور مومنوں کی اس بابرکت جماعت میں شامل ہو گئیں، جو اللہ کے دین کی نشر و اشاعت کے لیے کوشاں تھی۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ کس قدر رحم فرمانے والا ہے اور اس واقعہ سے ’’احسان پر احسان‘‘ کا قانون ہمارے سامنے نمایاں نظر آتا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ میں سب سے زیادہ ابتلاء و آزمائش سے دو چار ہونے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، کیونکہ آپ ہمہ وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہتے اور ان مقامات پر آپ کے ساتھ ہوتے، جہاں لوگ آپ کو اذیت پہنچاتے اور آپ کی شان میں گستاخیاں کرتے۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے دفاع کرتے اور فدائیت کا ثبوت دیتے، اس طرح وہ قوم کی اذیت اور ان کی حماقتوں سے دو چار ہوتے، باوجود یہ کہ آپ قریش کی بڑی شخصیات میں سے تھے اور عقل واحسان میں معروف ترین تھے۔ (محنۃ المسلمین فی العہد المکی، د۔ سلیمان السُّویکت: 75)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت:

جرأت و شجاعت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ امتیازی پوزیشن کے حامل تھے۔ حق بات میں کسی سے نہیں ڈرتے تھے، دین کی نصرت، اس پر عمل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرنے کے سلسلہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے ہرگز خوف نہیں کھاتے تھے۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے بڑی بدتمیزی کیا کی تھی؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں عقبہ بن ابی معیط آیا اور اپنا کپڑا آپ کے گلے میں ڈال کر انتہائی سختی سے کھینچا، اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کیا (البخاری: 3856) اور یہ آیت تلاوت کی:

أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّـهُ (سورۃ الغافر: آیت، 28)

ترجمہ: ’’کیا تم ایک شخص کو اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘

اور انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بری طرح مارا کہ آپ پر غشی طاری ہو گئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، بلند آواز سے پکار کر کہنے لگے، تم تباہ وبرباد ہو جاؤ، أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّـهُ (سورۃ الغافر: آیت، 28)(الصحیح المسند فی فضائل الصحابۃ للعدوی: 37)

’’کیا تم ایک شخص کو اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔‘‘

اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: ایک پکارنے والا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: اپنے دوست کے پاس جلدی پہنچو، ابوبکر رضی اللہ عنہ نکل پڑے، آپ کے بالوں کی چار لٹیں تھیں، آپ یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے کہ تم برباد ہو کیا تم ایک شخص کو اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے، جب لوٹ کر گھر آئے تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ بالوں کی لٹوں کو جہاں ہاتھ لگاتے ہاتھ میں آ جاتی۔ (منہاج السنۃ: 3/4،فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 169)

اور علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ خطاب فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے، فرمایا: لوگو! سب سے بڑا بہادر کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ فرمایا: جو بھی میرے مقابلہ میں آیا میں نے اس سے اپنا حق لیا، لیکن سب سے بڑے بہادر ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدر میں سائبان بنایا، سوال پیدا ہوا کہ آپ کے ساتھ کون رہے گا تاکہ کوئی مشرک آپ پر حملہ آور نہ ہو سکے؟ تو اللہ کی قسم صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی تلوار کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے، جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے سامنے سینہ سپر رہتے، لہٰذا آپ ہی سب سے بڑے بہادر ٹھہرے۔ ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قریش پڑ گئے، کوئی آپ پر غصہ اتارتا، کوئی آپ کو تنگ کرتا اور کہتا کہ تم نے تو تمام معبودوں کو چھوڑ کر ایک کو پکڑ لیا ہے۔ اللہ کی قسم جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آتا ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی کو مار کر بھگاتے، کسی کو برا بھلا کہہ کر دور کرتے، فرماتے: تم برباد ہو، تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ پھر علی رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر ہٹائی اور اس قدر روئے کہ آپ کی داڑھی تر ہو گئی، پھر فرمایا: لوگو میں تمہیں قسم دلاتا ہوں، بھلا بتاؤ آل فرعون کا مومن (جس نے موسیٰ علیہ السلام سے تعاون کیا تھا) افضل ہے یا ابوبکر رضی اللہ عنہ ؟ یہ سن کر لوگ رو پڑے۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک ساعت مومن آل فرعون کی زمین بھر نیکیوں سے بہتر ہے کیونکہ مومن آل فرعون اپنے ایمان کو چھپائے پھرتا تھا اور یہ اپنے ایمان کا اعلان کرتے پھرتے تھے۔ (البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 271 اور 272)

علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان حق وباطل، ہدایت و ضلالت اور ایمان وکفر کے مابین جاری جنگ کی نوعیت کی عکاسی کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو مصائب وآلام برداشت کیے ہیں ان سے اس کی وضاحت ہوتی ہے اور ہمارے سامنے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی منفرد شخصیت اور آپ کی نادر الوجود شجاعت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے، جس کی شہادت ایک مدت کے بعد علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں دی اور اس قدر متاثر ہوئے کہ خود رو پڑے اور دوسروں کو رونے پر مجبور کر دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلے شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جنہیں اللہ کی راہ میں ستایا گیا، اور آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کیا اور آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اللہ کی طرف دعوت دی۔ (ابوبکر الصدیق: محمد عبدالرحمٰن قاسم، 29، 30، 32) آپ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں بازو تھے۔ آپ نے دعوت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی صحبت اور اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی تکریم کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاونت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا۔ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیشکش کی: یا رسول اللہ! انہیں کھانا کھلانے کا موقع آج رات مجھے دیجیے؟ اور پھر ان کے کھانے میں طائف کا منقا پیش کیا۔

(فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 213 الخلافۃ الراشدۃ: یحیی الیحي، 156)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاونت کی یہی کیفیت آپ کی رہی، آپ اپنے متعلق خطرات کو اہمیت نہیں دیتے تھے بلکہ آپ کی اصل فکر یہ ہوتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف لاحق نہ ہونے پائے، چاہے وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، جہاں بھی ایسی کوئی بات دیکھتے آپ کی طرف سے دفاع کرتے، جب دیکھتے کہ لوگ آپ کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں اور آپ کو پکڑے ہوئے ہیں ان کے درمیان گھس جاتے، ان کو آپ سے دور بھگاتے اور چیخ کر کہتے: تم برباد ہو جاؤ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر آپ پر پل پڑتے، آپ کو مارتے، آپ کے بال نوچتے اور اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ آپ کی حالت ابتر نہ ہو جاتی۔ (عبقریۃ الصدیق للعقاد: صفحہ، 187)

اللہ کی راہ میں ستائے ہوئے لوگوں کی آزادی کے لیے مال خرچ کرنا:

مکہ کے جاہلی معاشرہ میں اسلامی دعوت کی اشاعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو مشرکین کی طرف سے اذیت رسانی میں اضافہ ہوتا گیا اور اذیت رسانی اپنی انتہا کو پہنچ گئی، خاص کر کمزور اور بے یار و مددگار مسلمانوں کے ساتھ۔ ان کو سخت تکلیف پہنچائی جاتی تھی تاکہ یہ لوگ اپنے عقیدہ و اسلام سے باز آجائیں اور دوسروں کے لیے عبرت بن جائیں تاکہ دوسرے لوگ اسلام لانے کی جرأت نہ کر سکیں۔ ان کمزوروں کو اذیت دی جاتی تھی اس سے کفار کے بغض وحسد کا اظہار ہوتا تھا۔

اس سلسلہ میں بلال رضی اللہ عنہ بری طرح ستائے گئے، آپ کی پشت پنا ہی کرنے والا کوئی نہ تھا اور نہ آپ کا خاندان و قبیلہ تھا جو آپ کی حمایت کرتا اور نہ آپ کی طرف سے تلوار اٹھانے والے تھے، جس کے ذریعہ سے آپ کا دفاع ہو سکے۔ اس طرح کے انسان کی مکہ کے جاہلی معاشرہ میں کوئی قدر وقیمت نہ تھی۔ خدمت و اطاعت اور مویشیوں کی طرح بیچے اور خریدے جانے کے علاوہ زندگی میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ ایسے لوگوں کو کسی رائے وفکر یا کسی دعوت و قضیہ کو لے کر اٹھنے کا کوئی حق نہ تھا، مکہ کے جاہلی معاشرہ میں یہ انتہائی سنگین جرم تھا، اس سے جاہلی معاشرہ کی بنیاد ہل جاتی تھی، یہ اس کو منہدم کرنے کے لیے کسی زلزلہ سے کم نہ تھا۔ لیکن یہ نئی دعوت جس کی طرف نوجوان آگے بڑھے جو اپنے آباء و اجداد اور بڑوں کے رسم ورواج اور اکڑفوں کو چیلنج کر رہے تھے، یہ دعوت اس گئے گذرے حبشی غلام کے دل میں گھر کر گئی اور اس کو زندگی میں نیا انسان بنا کر کھڑا کر دیا۔ (التربیۃ القیادیۃ: جلد، 1 صفحہ، 136)

اس دین پر ایمان لانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والی جماعت کے ساتھ شامل ہونے کے بعد ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں پیوست ہو گیا، اور جوش مارنا شروع کر دیا۔ جب اس کی اطلاع آپ کے مالک امیہ بن خلف کو ہوئی تو وہ کبھی آپ کو ڈراتا دھمکاتا اور کبھی لالچ دلاتا، لیکن جب اس نے دیکھا کہ اس سے بلال کے عزم و حوصلے میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور وہ کسی قیمت پر بھی کفر و جاہلیت اور ضلالت وگمراہی کی طرف لوٹنے کے لیے تیار نہیں، تو آپ پر سخت غضبناک ہوا اور آپ کو سخت عذاب میں مبتلا کرنے کا قصد کر لیا، وہ آپ کو چوبیس گھنٹہ بھوکا رکھ کر دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں لے گیا اور جلتی ہوئی ریت پر پیٹھ کے بل لٹا دیا، پھر اپنے غلاموں کو حکم دیا اس پر بھاری پتھر رکھو، انہوں نے آپ کے سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا اور آپ کے دونوں ہاتھ جکڑ دیے گئے، پھر امیہ بن خلف نے کہا: تم جب تک محمد کا انکار نہیں کرتے اور لات و عزیٰ کی پوجا نہیں کرتے، تمہیں یہی سزا ملتی رہے گی۔ بلال رضی اللہ عنہ نے پورے صبر واستقامت کے ساتھ جواب دیا: احد، احد۔ امیہ بن خلف ایک مدت تک بلال رضی اللہ عنہ کو اس دردناک طریقے سے سزا دیتا رہا۔(عتیق العتقاء (ابوبکر الصدیق) محمود البغدادی: صفحہ، 39 اور 40) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس جگہ پہنچے، امیہ بن خلف سے گفتگو کی اور فرمایا: اس بے چارے کے بارے میں تم اللہ سے ڈرتے نہیں، کب تک تم اس کو اس طرح ستاتے رہو گے؟ اس نے کہا: تم نے ہی تو اس کو برباد کیا ہے، تم ہی اس کو بچاؤ۔ آپ نے کہا: ٹھیک ہے، میرے پاس اس سے قوی و طاقتور ایک کالا غلام ہے اور تمہارے دین پر ہے، میں تمہیں اس کے بدلے دے رہا ہوں۔ اس نے کہا: میں نے قبول کر لیا۔ آپ نے وہ غلام اس کے حوالے کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو لے کر آزاد کر دیا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 1 صفحہ، 394) ایک روایت کے مطابق آپ نے بلال کو سات یا چالیس اوقیہ سونا کے عوض خرید کر آزاد کر دیا۔ (التربیۃ القیادیۃ: جلد، 1 صفحہ، 140)

بلال رضی اللہ عنہ کا صبر و استقامت قابل داد ہے۔ آپ کا اسلام سچا اور دل پاک تھا، اسی لیے ڈٹے رہے، ہر طرح کے چیلنج کو قبول کیا، سزائیں برداشت کیں لیکن پائے استقامت میں تزلزل نہ آیا، آپ کے صبر و ثبات کو دیکھ کر کفار جل بھن جاتے تھے۔ خاص کر کمزور مسلمانوں میں آپ کی واحد شخصیت تھی جو اسلام پر ڈٹی رہی، آپ نے کفار کی مراد پوری نہ ہونے دی اور کلمہ توحید کے ذریعہ سے ان کو کھلا چیلنج کرتے رہے، اللہ کی راہ میں اپنے نفس کی پرو ا نہ کی۔(محنۃ المسلمین فی العہد المکی: 92)

ہر ابتلاء و آزمائش کے بعد نعمت کا حصول ہوتا ہے، بلال رضی اللہ عنہ کو عذاب اور ذلت ورسوائی سے نجات ملی، غلامی سے آزادی نصیب ہوئی، باقی زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں گذاری، شب وروز آپ کے ساتھ رہے اور آپ سے راضی رہ کر وفات پائی۔

ستائے ہوئے مسلمانوں کو آزاد کرانے کی جو سیاست ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جاری رکھی۔ کمزور مسلمانوں کی تعذیب اور ایذا رسانی کے مقابلہ کے لیے اسلامی قیادت نے جو لائحہ عمل اور منصوبہ تیار کیا یہ اس کا ایک بنیادی طریقہ قرار پایا۔ آپ نے اسلامی دعوت کو مال و افراد سے تقویت پہنچائی، اہل ایمان غلام و لونڈی کو خرید کر آزاد کرتے۔

جن لوگوں کو آپ رضی اللہ عنہ نے غلامی سے نجات دلائی وہ یہ ہیں:

عامر بن فہیرہ جو بدر و احد میں شریک رہے اور بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہوئے۔ ام عبیس۔ زنیرہ، جب ان کو آزاد کیا تو ان کی بینائی چلی گئی، کفار کہنے لگے لات وعزیٰ نے اس کی بینائی چھین لی ہے۔ انہوں نے کہا: کفار جھوٹ کہہ رہے ہیں، اللہ کی قسم لات وعزیٰ نفع ونقصان کی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ نے ان کی بینائی لوٹا دی۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 1 صفحہ، 393) نہدیہ اور ان کی بیٹی کو آزاد کیا یہ دونوں ماں بیٹی بنو عبدالدار کی ایک خاتون کی غلامی میں تھیں، آپ کا ان دونوں کے پاس سے گذر ہوا، ان کو ان کی مالکہ آٹا دے کر بھیج رہی تھی اور کہہ رہی تھی تم دونوں کو کبھی آزاد نہ کروں گی۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا:

’’تو اس قسم کو توڑ دے۔‘‘

اس نے کہا: قسم توڑ دوں؟تم نے ان دونوں کو برباد کیا، تم ہی ان دونوں کو آزاد کرو۔

آپ نے کہا: اچھا، کتنے میں دو گی؟

اس نے کہا: اتنے میں۔

آپ نے کہا: میں نے خرید لیا اور آج سے یہ دونوں آزاد ہیں۔

اور ان دونوں سے کہا: اس کا آٹا اس کے حوالے کرو۔

ان دونوں نے کہا: ہم اس سے فارغ ہو کر اس کے حوالے کر دیتی ہیں۔

آپ نے فرمایا: جیسا تم چاہو۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 1 صفحہ، 393)

یہ غور کا مقام ہے کہ اسلام نے کس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان دونوں لونڈیوں کے درمیان مساوات پیدا کی کہ وہ دونوں آپ سے اس طرح مخاطب ہوئیں جیسے ہم مقام لوگ ایک دوسرے کو خطاب کرتے ہیں، یہاں غلام و آقا کا طرز تخاطب نہیں تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت واسلام میں شرف و منزلت پر قائم رہتے ہوئے بھی اس طرز تخاطب کو قبول کیا، حالانکہ آپ ہی نے ان دونوں کو آزادی دلائی تھی۔ اور کس طرح اسلام نے ان دونوں کو بلند اخلاق سکھائے تھے۔ آزادی اور ظلم سے نجات کے بعد ان کے لیے ممکن تھا کہ اس کا آٹا چھوڑ بھاگتیں، ہوائیں اس کو اڑا لے جاتیں، یا چرند و پرند اس کو کھا لیتے، لیکن سبحان اللہ! انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا جب تک کہ اس سے فارغ ہوکر اس کے حوالے نہ کر دیا۔ 

(السیرۃ النبویۃ لابی شہبۃ: جلد، 1 صفحہ، 346)

بنو عدی کی شاخ قبیلہ بنو مومل کی ایک لونڈی کے پاس سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا، جو مسلمان ہو چکی تھی، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، اس کو اذیت پہنچاتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ دے، اس کی اس قدر پٹائی کرتے کہ تھک جاتے، جب تھک جاتے تو کہتے: تم کو میں نے تھکنے کی وجہ سے ابھی چھوڑ دیا ہے، وہ جواب دیتی اللہ تمہارے ساتھ ایسا ہی کرے۔ آپ نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 1 صفحہ، 393)

اس طرح آپ آزادی و حریت کے پیامبر اور غلاموں کو آزاد کرنے والے، باوقار شیخ الاسلام تھے، لوگوں میں آپ سے متعلق یہ بات معروف ومشہور تھی کہ آپ محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، لوگوں کا بوجھ یعنی قرض وغیرہ اپنے سر لے لیتے ہیں، مہمان نوازی اور ضیافت کرتے ہیں، مصائب میں لوگوں کی مدد اور تعاون کرتے ہیں۔ جاہلیت میں گناہ سے اپنا دامن داغدار نہیں کیا، ہر دل میں آپ کی محبت تھی، کمزوروں اور غلاموں پر آپ کا دل رقت ورحمت سے لبریز ہو جاتا تھا۔ اللہ کی خاطر غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے کے لیے اپنا کافی مال خرچ کیا، حالانکہ ابھی تک غلاموں کو آزاد کرنے کی طرف رغبت دلانے والے احکام اور اس سلسلہ میں ثواب جزیل کے وعدے کا نزول نہیں ہوا تھا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن شہبۃ: جلد، 1 صفحہ، 345)

آپ کمزوروں اور بے سہارا لوگوں پر جو بے دریغ اپنا مال خرچ کر رہے تھے اس پر مکی معاشرہ کو بڑا ہی تعجب تھا اور ان کی نگاہ میں یہ عجیب وغریب چیز تھی، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں یہ لوگ آپ کے دینی بھائی تھے، آپ کی نگاہ میں ان میں سے ایک فرد کے مقابلے میں روئے زمین کے تمام مشرکین اور ظالمین کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ انھی عناصر پر توحید کی حکومت اور اسلامی تہذیب و تمدن کا قیام عمل میں آیا۔  (التربیۃ القیادیۃ : جلد، 1 صفحہ، 342) ابوبکر رضی اللہ عنہ نہ کسی سے تعریف چاہتے تھے اور نہ جاہ ودنیا کے طالب تھے بلکہ ان تمام اعمال خیر سے آپ کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا حصول تھا۔ ایک دن آپ کے والد نے آپ سے کہا: عزیزم تم کمزور اور ضعیف لوگوں کو آزاد کرتے ہو، اگر تم طاقتور لوگوں کو آزاد کرتے تو وہ تمہارے کام آتے، تمہاری طرف سے دفاع کرتے؟ آپ نے عرض کیا: اباجان! میں اللہ کے لیے کر رہا ہوں۔ جب آپ کی یہ حالت تھی تو اس میں کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شان میں قرآنی آیات نازل فرمائیں جو قیامت تک تلاوت کی جاتی رہیں گی۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ﴿٥﴾ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٦﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ ﴿٧﴾ وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ ﴿٨﴾ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٩﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ﴿١٠﴾ وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ ﴿١١﴾ إِنَّ عَلَيْنَا لَلْـهُدَىٰ﴿١٢﴾ وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ ﴿١٣﴾ فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ﴿١٤﴾ لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى ﴿١٥﴾ الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٦﴾ وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ﴿١٧﴾ الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ ﴿١٩﴾ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَىٰ ﴿٢٠﴾ وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ ﴿٢١﴾ (سورۃ اللیل: آیت، 5 تا 21)

(تفسیر الآلوسی: جلد 30 صفحہ، 152 اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ (مترجم))

’’جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے رب سے) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہا، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پروائی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے، اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا۔ بے شک راہ دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے۔ میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے۔ جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منہ پھیر لیا۔ اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو پرہیزگار ہو گا۔ جو پاکی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال دیتا ہے۔ کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو۔ بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ و بلند کی رضا چاہنے کے لیے۔ یقینا وہ (اللہ بھی) عنقریب رضا مند ہو جائے گا۔‘‘

اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے سب سے زیادہ مال خرچ کرنے والے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ پہلی اسلامی جماعت کے افراد کے مابین یہ تکافل، خیر و عطا کا مینار تھا۔ اسلام کی برکت سے غلام بھی صاحب عقیدہ وفکر قرار پائے۔ اس موضوع پر گفتگو کرنا، اس سے دفاع کرنا، اس کی راہ میں جہاد کرنا، ان کا نصب العین ہو گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ان حضرات کو خریدنا اور آزاد کرنا اسلام کی عظمت کا پتہ دیتا ہے اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ دین آپ کے اندر کس طرح گھر کر گیا تھا۔ دور حاضر میں مسلمانوں کو شدید ضرورت ہے کہ وہ اس طرح کے اعلیٰ اقدار اور بلند شعور کو بیدار کریں تاکہ آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا ہو اور افراد امت کے درمیان پیار ومحبت اور تعاون کی فضا ہموار ہو، جو دشمنان دین کا نشانہ بن چکے ہیں اور وہ ان کی بیخ کنی میں لگے ہوئے ہیں۔