Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مقدمہ

  علی محمد الصلابی

اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔اَمَّا بَعْدُ!

ترجمہ: بے شک تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ہم اپنے نفس کی شرارتوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔

میں گو اہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 102)

ترجمہ: اے ایمان والو! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار ! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالًا كَثِيۡرًا وَّنِسَآءً‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِهٖ وَالۡاَرۡحَامَ‌ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيۡبًا ۞ (سورۃ النساء آیت 18)

ترجمہ: اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو، اور رشتہ داریوں (کی حق تلفی سے) ڈرو۔ یقین رکھو کہ اللہ تمہاری نگرانی کررہا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا ۞ يُّصۡلِحۡ لَـكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ۞(سورۃ الأحزاب آیت 70، 71)

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔ اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارے کام سنوار دے گا، اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کردے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو زبردست کامیابی ہے۔

فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَخَیْرَ الْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدٍ صلي اللّٰه عليه وسلم وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا، وَکُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔

ترجمہ: ’’بعد ازیں! بے شک سب سے اچھی بات کتاب اللہ میں ہے اور سب سے اچھی راہنمائی محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی میں ہے اور دین میں بد ترین امور خود ساختہ ہیں اور دین میں ہر خود ساختہ فعل بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ ‘‘بے شک اُمت اسلامیہ پے درپے زخموں سے چور اپنے بدن پر متواتر تیر سہہ رہی ہے اور ہمیشہ سے اسلام کے اندرونی و بیرونی دشمن اس پر زہریلے تیر برسا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی شریعت اور اس کے عقیدے کو بدنما کر ڈالیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی لامحدود و بے کنار ہے کہ جب بھی کوئی آزمائش آتی ہے، اس کے ساتھ ہی عطیاتِ رحمانی بھی ہوتے ہیں اور اللہ عزوجل نے یقیناً سچ فرمایا : وَيَمۡكُرُوۡنَ وَيَمۡكُرُ اللّٰهُ‌ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰكِرِيۡنَ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 30)

ترجمہ: وہ اپنے منصوبے بنا رہے تھے اور اللہ اپنا منصوبہ بنا رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر منصوبہ بنانے والا ہے

دشمنان اسلام نے امت اسلامیہ کو جن تیروں کا نشانہ بنایا ہوا ہے، ان میں سب سے سخت و اذیت ناک تیر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ ہے۔ جو تمام انسانیت کے قائد ہیں، ان کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ آپ پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود و سلام ہوں ۔ (وفداہ روحی و ارواح جمیع المسلمین) چونکہ دشمنان اسلام نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کی ذات پر بہتان تراشی کردی اور کتاب و سنت میں جو کچھ آچکا ہے، سیدہ کے ارد گرد انھوں نے شبہات پھیلا دیے یا ان کی ذات اطہر پر جھوٹا افسانہ چسپاں کرنے کی کوشش کی۔ لیکن الحمد للہ! دشمنوں نے جو چاہا، نتیجہ اس کے سراسر خلاف اور ان کی خواہش کے برعکس ہی نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا دین ناتمام چھوڑنے سے انکار کر دیا اگرچہ کافروں کو کتنا ہی بُرا لگے۔

بے شک اللہ تعالیٰ نے ان کے مکروفریب میں بجھے ہوئے تیر ان کے سینوں میں ہی پیوست کر دیے۔ جس کے نتیجے میں اس زمانے کا بہتان عظیم جو وقتاً فوقتاً اب نئے نئے روپ میں آتا رہتا ہے مسلمانوں کی حفاظت، عقیدہ کی مضبوطی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، امہات المؤمنین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اہل ایمان کی دلی محبت میں اضافے کا باعث بنا۔ جب کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو امہات المؤمنین میں سب کی سرخیل ہیں، تمام اہل ایمان ان کے دفاع اور ان کے فضائل کو اجاگر کرنے، ان کی سیرت کو زبان و قلم سے آراستہ و پیراستہ کرنے اور بعد میں آنے والی اپنی نسلوں کے دلوں میں ان نفوس قدسیہ کا احترام اور محبت راسخ کرنے پر کمر بستہ ہو گئے۔

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے اس حقیقت کی بخوبی تصدیق ہوتی ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ ۞(سورۃ نمبر 24 النور آیت 11)

ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہو ’’مؤسسۃ الدررالسنیۃ‘‘ پر کہ اس نے اُمت کے اس رستے ناسور پر مرہم لگانے والوں میں ہمیں بھی شامل ہونے کا موقع دیا۔ جس کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دفاع، ان کے احترام و تقدس کو دلوں میں راسخ کرنے اور ان کے ساتھ محبت کو پختہ کرنے کے لیے متعدد طریقے اور رستے مل گئے۔ بالآخر اس نہج پر سوچتے رہے کہ کوئی نئی اور انوکھی کاوش عوام کے سامنے لائی جائے جس کا نفع باقی اور اس کی تاثیر دلوں پر عمیق ہو۔ یوں ادارے نے عفیفۂ کائنات سیاِنَّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سیرت پر ایک عالمی تحریری مسابقے کا انعقاد کر لیا، جس کا عنوان تھا: