مقدمہ
علی محمد الصلابیاِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔اَمَّا بَعْدُ!
ترجمہ: بے شک تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ہم اپنے نفس کی شرارتوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
میں گو اہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 102)
ترجمہ: اے ایمان والو! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار ! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالًا كَثِيۡرًا وَّنِسَآءً وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِهٖ وَالۡاَرۡحَامَ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيۡبًا ۞ (سورۃ النساء آیت 18)
ترجمہ: اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو، اور رشتہ داریوں (کی حق تلفی سے) ڈرو۔ یقین رکھو کہ اللہ تمہاری نگرانی کررہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا ۞ يُّصۡلِحۡ لَـكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ۞(سورۃ الأحزاب آیت 70، 71)
ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔ اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارے کام سنوار دے گا، اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کردے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو زبردست کامیابی ہے۔
فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَخَیْرَ الْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدٍ صلي اللّٰه عليه وسلم وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا، وَکُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔
ترجمہ: ’’بعد ازیں! بے شک سب سے اچھی بات کتاب اللہ میں ہے اور سب سے اچھی راہنمائی محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی میں ہے اور دین میں بد ترین امور خود ساختہ ہیں اور دین میں ہر خود ساختہ فعل بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ ‘‘بے شک اُمت اسلامیہ پے درپے زخموں سے چور اپنے بدن پر متواتر تیر سہہ رہی ہے اور ہمیشہ سے اسلام کے اندرونی و بیرونی دشمن اس پر زہریلے تیر برسا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی شریعت اور اس کے عقیدے کو بدنما کر ڈالیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی لامحدود و بے کنار ہے کہ جب بھی کوئی آزمائش آتی ہے، اس کے ساتھ ہی عطیاتِ رحمانی بھی ہوتے ہیں اور اللہ عزوجل نے یقیناً سچ فرمایا : وَيَمۡكُرُوۡنَ وَيَمۡكُرُ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰكِرِيۡنَ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 30)
ترجمہ: وہ اپنے منصوبے بنا رہے تھے اور اللہ اپنا منصوبہ بنا رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر منصوبہ بنانے والا ہے
دشمنان اسلام نے امت اسلامیہ کو جن تیروں کا نشانہ بنایا ہوا ہے، ان میں سب سے سخت و اذیت ناک تیر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ ہے۔ جو تمام انسانیت کے قائد ہیں، ان کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ آپ پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود و سلام ہوں ۔ (وفداہ روحی و ارواح جمیع المسلمین) چونکہ دشمنان اسلام نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کی ذات پر بہتان تراشی کردی اور کتاب و سنت میں جو کچھ آچکا ہے، سیدہ کے ارد گرد انھوں نے شبہات پھیلا دیے یا ان کی ذات اطہر پر جھوٹا افسانہ چسپاں کرنے کی کوشش کی۔ لیکن الحمد للہ! دشمنوں نے جو چاہا، نتیجہ اس کے سراسر خلاف اور ان کی خواہش کے برعکس ہی نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا دین ناتمام چھوڑنے سے انکار کر دیا اگرچہ کافروں کو کتنا ہی بُرا لگے۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے ان کے مکروفریب میں بجھے ہوئے تیر ان کے سینوں میں ہی پیوست کر دیے۔ جس کے نتیجے میں اس زمانے کا بہتان عظیم جو وقتاً فوقتاً اب نئے نئے روپ میں آتا رہتا ہے مسلمانوں کی حفاظت، عقیدہ کی مضبوطی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، امہات المؤمنین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اہل ایمان کی دلی محبت میں اضافے کا باعث بنا۔ جب کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو امہات المؤمنین میں سب کی سرخیل ہیں، تمام اہل ایمان ان کے دفاع اور ان کے فضائل کو اجاگر کرنے، ان کی سیرت کو زبان و قلم سے آراستہ و پیراستہ کرنے اور بعد میں آنے والی اپنی نسلوں کے دلوں میں ان نفوس قدسیہ کا احترام اور محبت راسخ کرنے پر کمر بستہ ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے اس حقیقت کی بخوبی تصدیق ہوتی ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ۞(سورۃ نمبر 24 النور آیت 11)
ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہو ’’مؤسسۃ الدررالسنیۃ‘‘ پر کہ اس نے اُمت کے اس رستے ناسور پر مرہم لگانے والوں میں ہمیں بھی شامل ہونے کا موقع دیا۔ جس کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے دفاع، ان کے احترام و تقدس کو دلوں میں راسخ کرنے اور ان کے ساتھ محبت کو پختہ کرنے کے لیے متعدد طریقے اور رستے مل گئے۔ بالآخر اس نہج پر سوچتے رہے کہ کوئی نئی اور انوکھی کاوش عوام کے سامنے لائی جائے جس کا نفع باقی اور اس کی تاثیر دلوں پر عمیق ہو۔ یوں ادارے نے عفیفۂ کائنات سیاِنَّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سیرت پر ایک عالمی تحریری مسابقے کا انعقاد کر لیا، جس کا عنوان تھا:
-
حصہ دوم مقدمہ
-
افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ (بزبان سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ)
-
اجماع امت اور عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں مراتب
-
حدیث اصحابی کالنجوم (میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں) قابل استدلال ہے!
-
کیا رسول اللہﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے قلم چھین کر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دے دیا تھا؟ (تحقیق)
-
امام ترمذی رحمہ اللہ کا تساہل علماءاحناف کی نظر میں
-
انبیاء کا ذکر عبادت ، صالحین کا ذکر کفارہ اور موت کا ذکر صدقہ (تحقیق)
-
حضور ﷺ پر جادو کا اثر ہونا۔(اعتراض کا رد)
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین افضلیت کا عقیدہ
-
شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط سوم)
-
سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما
-
مقدمہ
-
مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
-
اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
-
امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علم و فضل کا اقرار
-
رسول اللہﷺ نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی تبلیغ فرمائی
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
-
سیرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ
-
سیرت سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ
-
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ 9 ہجری میں بحیثیت امیر حج
-
مقدمہ
-
حصہ دوم مقدمہ
-
دارالقضاء اور بعض فقہی اجتہادات
-
قصاص، حدود اور تعزیر سے متعلق
-
کلام کی بہترین ترتیب و تقسیم
-
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا عراق کی طرف خروج
-
اسلامی بیت المال اور دواوین رجسٹر و دفاتر کا انتظام
-
قاضیوں کے نام سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چند اہم خطوط
-
قاضی کے فرائض
-
دیت اور قسامہ ایک ساتھ
-
بازاروں پر چھاپہ مار حملے
-
بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء
-
تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ
-
تعارف امام مسلم رحمۃاللہ
-
تعارف امام نسائی رحمۃاللہ علیہ
-
تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ
-
تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ
-
تعارف امام مالک رحمۃ اللہ علیہ
-
تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ
-
امام طحاوی رحمۃاللہ
-
جنگ کی تیاری
-
یوم اغواث
-
قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بہادرانہ مواقف
-
دریائے دجلہ کو عبور کرنا اور فتح مدائن
-
معرکہ جلولاء
-
معرکہ فحل
-
معرکہ سے قبل نفسیاتی جنگ چھیڑنا
-
منصوبہ بندی
-
12 ہجری میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا حج اور شام کی طرف ان کو روانہ ہونے کا صدیقی فرمان
-
ایمانی تیاری
-
شیعیت کا مقدمہ اور جھوٹی روایات
-
انکارِ حدیث کا مطلب اور منکر حدیث کا مصداق کون؟
-
منکرین حدیث کی تعریف و شناخت
-
غیر مقلد وحید الزمان (تحقیق بمعہ اسکینز)
-
غیر مقلدین کے تمام جھوٹ بے نقاب نواب وحید الزّمان غیر مقلد تھا
-
مسئلہ باغ فدک اور اہلِ تشیع کے تضادات
-
الامامت والسیاست (ابن قتیبہ) شیعہ کتاب ہے!
-
خاندان بنو ہاشم اور متعدد صحابہ نے ابوبکر کی خلافت تسلیم نہیں کی۔ (کتاب المختصر فی اخبار البشر لابی الفداء، الکامل فی التاریخ ابن الاثیر، العقد الفريد، محمد بن عبدربہ، حیاۃ الصحابہ)
-
فاطمۃ الزہرا ہر نماز کے بعد حضرت ابوبکر کیلئے بدعا کرتی تھیں. معاذاللہ (الأمامت والسياست لابن قتیبہ)
-
قاتلین حسین عوامی عدالت میں!
-
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام قرار دیا۔ (المغنی زادالمعاد، جلد 2، کتاب الاول للحسن بن عبد اللہ تفسير کبیر للرازی، بخاری)
-
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کافر اور یہودی کہہ کر واجب القتل قرار دیا۔ نعوذباللہ (تاریخ طبری)
-
شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج
-
شرح ابن ابی الحدید شیعہ کتاب ہے!
-
ابن ملجم، قاتل سیدنا علی بن ابی طالب رضي الله عنہ کے صحابی ہونے کا جھوٹ اور فریب(ابو داؤد)
-
اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید
-
لفظ شیعہ کےاصطلاحی معنی
-
ابتداء شیعت
-
اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت
-
اہل تشیع اور تحریف القران
-
اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان
-
اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت
-
اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل
-
مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف
-
شیعہ حدیثی ذخیره قبل از تدوین ( تحریری سرمایہ ) قسط 4
-
اہل سنت اور اہل تشیع کتب حدیث کے مخطوطات و نسخ(قسط 7)
-
امام احمد بن حنبل کی ذکر کردہ یہ روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے سلمان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیجیے کہ آپ کا وصی کون ہے؟ جب سلمان نے یہ سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابا فرمایا:’’ اے سلمان! حضرت موسی علیہ السلام کا وصی کون تھا؟‘‘ کہا ’’یوشع بن نون ‘‘ فرمایا :’’میرا وصی اور وارث علی بن ابی طالب ہے؛ جو میرا قرض ادا کرے گا اور میرے وعدے پورے کرے گا۔
-
مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا پہلا مؤقف (دعوت ذوالعشیرہ) نبوت کے تیسرے سال حضرت علی کی خلافت کا اعلان ہوگیا تھا اور وہ مشہور بھی ہو گیا۔(قسط 2)
-
فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب کے دلائل کا رد
-
مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا یہ حکم پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)
-
شیعہ کی سیاسی تاریخ
-
حضرت علی رضی اللہ عنہ کووصی کہنا ابن سبا کی اختراع
-
بیعت کی حقیقت ، اہمیت اور مقاصد
-
مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1
-
جناب عبداللہ بن مسعود علیہ السلام پر دو سورتوں معوذتین کے حوالے سے امامیہ کے الزام کا تحقیقی محاسبہ ۔
-
مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار)
-
امام مظلوم (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کی شہادت
-
شیعہ مذہب سے متعلق شیعوں سے چند سوالات
-
میرے صحابہ میں بارہ منافق ہیں(حدیث)
-
کیا صحابہ یا امت میں بارہ منافقین ہیں؟؟
-
مطالبہ میراث کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کردار
-
مسئلہ امامت کے متعلق شیعی عقائد
-
موجودہ قرآن محرف ہے
-
قرآن کی معنوی تحریف
-
حدیث ثقلین
-
شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ
-
افتراء: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا نے مردوں کو غسل کر کے دکھایا۔
-
میں شیعہ ذاکر سے سنی مسلمان کیوں ہوا
-
نامور مبلغ کا مذھب اہل سنت کو خوش آمدید
-
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مکار اور حیلہ باز تھا۔ (تحفہ اثنا عشریہ)
-
قاتلوں اور دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا سرپرست ایران ہے
-
پاکستان میں موجود، ایرانی سفارت خانے یا دہشت گردی کے اڈے؟
-
سپاہِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا پیغام
-
شرح نہج البلاغہ مصنفہ ابن ابی الحدید
-
مروج الذہب مصنفہ علی بن حسین مسعودی
-
حلیتہ الاولیاء مصنفہ حافظ ابونعیم
-
مقاتل الطالبین مصنفہ علی بن حسین اصفہانی
-
الامامۃ والسیاسۃ مصنفہ ابن قتیبہ عبداللہ بن مسلم
-
ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔
-
کفایۃ الطالب مصنفہ محمد بن یوسف بن محمد قرشی گنجی
-
ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری
-
الفصول المہمہ مصنفہ علی بن محمد المعروف ابن صباغ
-
مطالب المسئول مصنفہ کمال الدین محمد بن طلحه
-
توہینِ انبیاء علیھم السلام و انکارِ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم
-
تحریف قرآن
-
رجعت
-
یزید کی ولی عہدی
-
تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں یزید کو ولی عہد بنا کر مسلمانوں کے خون سے کھیلے
-
صلح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شرائط کا افسانہ
-
سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو عہدہ دینے پر اعتراض کا جواب
-
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا حکم رضی اللہ عنہ کو واپس بلا کر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی کی تھی؟
-
سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہ کی جلا وطنی کا قصہ
-
فصل:....تقدیر اور انبیاء کرام کی تصدیق کا مسئلہ اور رافضی شبہ پر رد ّ
-
فصل:....اہل سنت کے نزدیک افعال اختیاریہ پر رافضی کا کلام اور اس پر رد
-
عالم کے قدم اور مسئلہ تقدیر کے درمیان ارتباط
-
قدمِ عالم کے قول کے بطلان پر ایک دوسری دلیل
-
فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد
-
فصل:....کلام اللہ کے متعلق اشاعرہ کا عقیدہ اوررافضی اعتراض پر رد
-
فصل:....شیعہ اور یقین نجات
-
فصل: ....حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ
-
فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام
-
فصل:....یزید پر لعنت کا مسئلہ
-
پانچویں فصل حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصی کہنا ابن سبا کی اختراع
-
فصل: شیعہ کے افکار و معتقدات
-
فصل حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اللہ تعالیٰ کا عہد
-
قرآن کریم کی تاویل اور تفسیر کے متعلق شیعی مذہب کے شیوخ کا کیا عقیدہ ہے؟
-
شیعہ علماء کی قرآن میں کمی بیشی اور تحریف کے عقیدہ کی ابتداء کس طرح شروع ہوئی؟
-
فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فصاحت و بلاغت
-
فصل پنجم: اصحاب ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور روافض اصحاب ثلاثہ کے بارے میں شیعہ کی دروغ گوئی:
-
فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]
-
فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]
-
آیات جہاد اور مذہب اہل سنت والجماعت
-
شیعہ اور قرآن کریم
-
شیعوں اور یہودیوں کے مابین کتاب اللہ کی تعریف کے معاملہ میں موافقت
-
مکارمہ اسماعیلیوں کے عقائد
-
تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم
-
تفسیر آیات رضوان
-
تفسیر آیت دعوت اعراب
-
شیعہ میں معتزلی اثرات
-
مبتدعین کے دلائل سے امامیہ شیعہ کے دلائل کا ٹکراؤ:
-
استواء و علو میں قائلین رؤیت کا اختلاف
-
عقل اور وہم سے متعلق گفتگو:
-
دوسرا طریقہ :
-
انبیائے کرام علیہم السلام افضل ترین مخلوق ہیں:
-
لفظ جہت پر بحث:
-
فصل: جہت اور حدوث کی بحث اور ابن تیمیہ کا ردّ
-
عملی زندگی اسلامی خدمات
-
سپاه صحابہ (رضی اللہ عنہم) پاکستان
-
سانحہ پرانی عیدگاه
-
مسلمانوں میں اختلافات کا آغاز عبد اللہ ابن سبا کی کارکردگی
-
ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان
-
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)
-
جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا ! یا علیؓ انت وشيعتك هم الفائزون اے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تو اور تیرے شیعہ ہی نجات یافتہ ہیں کیا ایسی کوئی حدیث حنفی شافعی حنبلی مالکی کے لیے بھی مل سکتی ہے اگر نہیں تو دیوبندی بریلوی نجدی سحروردی چشتی قادری نقشبندی حضرات کے لیے ہی تلاش کر کے اطمینان دلا دیجیئےـ
-
اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو نہ ماننے والا جہنمی ہے تو اس سیدہ کا قاتل کیونکر رضی اللہ عنہ رہ سکتا ہے۔ مہربانی کر کے تاریخِ اسلام: جلد، 2 صفحہ، 44 نجیب آبادی ملاحظہ کر کے فتویٰ صادر فرمائیں۔
-
عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے
-
غرض مؤلف
-
اسماعیلی عقائد میں ایرانی اثرات
-
نزاری پیر اور تقیہ
-
عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو
-
عترت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عقیدہ نظریۂ امامت تاریخ کی نظر میں
-
نظریہ عقیدہ امامت دور جدید میں
-
مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام
-
ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش
-
علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام کا تفصیلی جواب
-
کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت
-
تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ
-
مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط2
-
شیعہ مناظر رانا محمد سعید کا اہل سنت دلائل پر ذاتی تاویلات!!
-
سنی شیعہ مکالمہ عقیدۂ تحریفِ قرآن
-
یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا