Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شام

  علی محمد الصلابی

جس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے اس وقت شام کے گورنر سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما تھے، حضرت عثمانؓ نے انہیں اپنے عہدہ پر قائم رکھا، 

(خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 155)

جس طرح یمن، بحرین اور مصر وغیرہ کے دوسرے بعض گورنروں کو باقی رکھا اور دیگر دوسرے علاقوں کو بھی اس میں شامل کر دیا، اس طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پورے شام کے مطلق گورنر قرار پائے، بلکہ آپ کے گورنروں میں سب سے زیادہ طاقت ور اور اقتدار والے گورنر حضرت معاویہؓ تھے۔ حضرت عثمانؓ کی خلافت کے آغاز میں دوسرے با اثر گورنر بھی تھے، انہی میں سے حضرت عمیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے، یہ حمص کے گورنر تھے اور ان کا مقام حضرت عثمانؓ کے نزدیک حضرت معاویہؓ سے کم نہ تھا، لیکن حضرت عمیرؓ بیماری کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے گورنری کی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل نہ رہے لہٰذا انہوں نے خود ہی گورنری سے معذرت کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، بعد میں حضرت عثمانؓ نے حمص کو بھی سیدنا معاویہؓ کی گورنری میں شامل کر دیا جس سے حضرت امیرِ معاویہؓ کے اقتدار اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا اور سیدنا معاویہؓ کا اقتدار حمص تک پہنچ گیا۔ جس پر آپ سے تاریخ قبل عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما گورنر ہوا کرتے تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 442)

اسی طرح جب فلسطین کے گورنر علقمہ بن محرز کا انتقال ہو گیا تو حضرت عثمانؓ نے فلسطین کو بھی حضرت معاویہؓ کے تابع کر دیا، اس طرح خلافت عثمانی کے ابتدائی دو سالوں کے اندر پورا شام حضرت معاویہؓ کے پرچم تلے ہو گیا، اور حضرت معاویہؓ، حضرت عثمانؓ کی وفات تک شام کے مطلق گورنر رہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 443)

 سیدنا معاویہؓ کی گورنری کا دور اہم واقعات سے پر ہے۔ شام جہاد کے اہم ترین مراکز میں سے تھا، شام میں اگرچہ استقرار و امان تھا، ہر طرف اسلام کا بول بالا تھا، اور رومیوں کی ریشہ دوانیاں اور فتنہ پروری کم ہو چکی تھی، لیکن چوں کہ شام کے حدود، ارض روم سے متصل تھے اسی وجہ سے معاویہؓ رضی اللہ عنہ کے سامنے جہاد کے مواقع کھلے ہوئے تھے، جسے اس سے قبل ہم بیان کر چکے ہیں۔ 

خلافت عثمانی کے آخری دور میں اسلامی سلطنت میں معاویہؓ رضی اللہ عنہ کو سیاسی وزن حاصل تھا۔ اسی لیے جب سبائی فتنہ نے سر اٹھایا اور اس کے بازو و پر نمودار ہونا شروع ہوئے تو مشورہ لینے کے لیے سیدنا عثمانؓ نے جن گورنروں کا اجتماع طلب کیا ان میں حضرت معاویہؓ سر فہرست رہے، اور اس اجماع میں سیدنا معاویہؓ نے حضرت عثمانؓ کے سامنے اپنی آراء و تجاویز پیش کیں۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 176)

جس کو ان شاء اللہ ہم آئندہ بیان کریں گے۔