خراج
علی محمد الصلابیحکومت کے ذرائع آمدن کے بارے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے وضع کردہ نظم سے دولت امویہ نے بھرپور استفادہ کیا، حکومت کے زیادہ تر صوبوں میں اسی نظم کی پیروی کی جاتی تھی بجز چند تبدیلیوں کے جن کا آگے چل کر ذکر آئے گا۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 73)
خراج کا ایک خاص مفہوم ہے، اور وہ ہے: ان اراضی کی پیداوار جنہیں مسلمانوں نے بزور بازو فتح کیا اور حکمران نے مسلمانوں کی مصالح کی خاطر اسے ہمیشہ کے لیے وقف کر دیا۔ جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عراق اور شام کی اراضی کے ساتھ کیا تھا۔
(کتاب الخراج لابی یوسف: صفحہ 24، 25۔ اقتصادیات الحرب: صفحہ 215)
ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خراج کو اجارہ اور قیمت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، وہ بنفسہ اصل ثابت ہے اسے کسی دوسری چیز پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
(الاستخراج لاحکام الخراج: صفحہ 40۔ اقتصادیات الحرب: صفحہ 215)
دولت امویہ کے لیے خراج بڑی اہمیت کا حامل تھا، بطور مثال عبیداللہ کے زمانے (54 تا 66ھ) میں سواد عراق کے خراج کی آمدن ایک سو پینتیس ملین درہم تھی۔
(الاحکام السلطانیۃ: صفحہ 175۔ التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 74)
جہاں تک علاقہ جزیرہ اور شام کا تعلق ہے تو ان میں خراج کا نظام سیدنا امیر معاویہ ابن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے وضع کردہ نظام کے مطابق ہی چلتا رہا۔ جنہوں نے جزیہ اور خراج کی دو صورتوں میں مختلف شہروں پر ٹیکس عائد کر رکھا تھا۔ جس کی تفصیل اس طرح سے ہے:
الف: اہل قسرین پر دس لاکھ پچاس ہزار درہم۔ (تقریباً)
ب: اردن پر ساٹھ لاکھ درہم تقریباً
ج: اور فلسطین پر تقریباً ساٹھ لاکھ درہم۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 76)
اس دوران خراج کی وصولی میں بعض انحرافات دیکھنے میں آئے جن میں سے اہم تر یہ ہیں:
ان اراضی پر بھی خراج عائد کر دیا گیا جو صلح کے معاہدہ کی نص کی رو سے اس سے مستثنیٰ تھیں۔
(فتوح البلدان: صفحہ 162، 163)
یہ کچھ یزید بن معاویہ کے عہد (60 تا 64ھ) میں ہوا جب اس نے اردن اور فلسطین میں سامرہ
(سامرہ: ایک یہودی قوم، التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 78)
کی زمین پر خراج عائد کر دیا۔
بعض صوبوں میں خراج وصول کرنے کے لیے سختی برتی گئی۔ اس سے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دور مستثنیٰ ہے اور اس کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے۔
(کتاب الخراج لابی یوسف: صفحہ 269، 270)
خراج جمع کرنے کے اخراجات خراج دینے والوں کے ذمہ لگانا۔ ان اخراجات میں اس کاغذ کی قیمت بھی شامل کی جاتی جس پر خراج کی مقدار لکھی جاتی تھی، ان اخراجات میں ان سٹورز کا کرایہ بھی شامل ہوتا جن میں عینی خراج کو محفوظ کیا جاتا تھا حتیٰ کہ خراج وصول کرنے والے کی اجرت بھی ان پر ڈال دی جاتی تھی۔ مزید برآں وصولی خراج کے دیگر کئی اخراجات بھی ان لوگوں پر ڈال دئیے جاتے تھے۔
(کتاب الخراج لابی یوسف: صفحہ 186 ،187۔ التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 78)
تحصیل محاصل کا یہ غیر منصفانہ انداز خاص طورسے صوبہ عراق میں اپنایا گیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خلافت سے قبل یہی کچھ ہوتا رہا مگر انہوں نے زمام خلافت سنبھالنے کے ساتھ ہی اس کا ابطال کر دیا جبکہ ان کی وفات کے بعد اسی طرز عمل کو دوبارہ بحال کر دیا گیا۔
(الوثائق السیاسیۃ و الاداریۃ العائدۃ للعصر الاموی: صفحہ 456)
اموی دورِ حکومت میں خراج کے لیے ایک خاص دیوان تھا جو کہ دیوان خراج کے نام سے موسوم تھا جس کی ذمہ داری خراج وصول کرنا، اسے جمع کرنا، اس کا ریکارڈ رکھنا اور اس کی مقدار کا تعین کرنا تھا اور یہ اس لیے کہ خراج حکومتی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔
(ادارۃ بلاد الشام فی العہدین الراشدی و الاموی: صفحہ 177)
اموی حکمرانوں نے خراج جمع کرنے کے لیے مسؤلین کا الگ سے تعین کر رکھا تھا۔ مختلف مصادر نے ان لوگوں کے نام گنوائے ہیں جو خراج وصول کرنے اور اسے جمع کرنے کے ذمہ دار تھے اور جو دیوان خراج کی کارکردگی پر نظر رکھتے تھے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے دمشق کے خراج پر سرجون بن منصور، (الجہشیاری: صفحہ 24)
فلسطین کے خراج پر سلیمان مشجعی (ایضاً: صفحہ 26۔ ادارۃ بلاد الشام: صفحہ 178) اور حمص کے خراج پر ابن اثال نصرانی (تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 223) کو متعین کر رکھا تھا۔ سرجون بن منصور، یزید بن معاویہ کے عہد حکومت نیز معاویہ ثانی، مروان بن حکم اور عبدالملک کے ادوار میں بھی اسی منصب پر کام کرتا رہا آخر عبدالملک نے اپنی حکومت کے آخری دنوں میں اسے معزول کر دیا۔
( ادارۃ بلاد الشام: صفحہ 178)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بعض صوبوں کے والیوں کو وہاں موجود ایسی وسیع و عریض زمینوں کی اصلاح کی ذمہ داری بھی تفویض کی جن کے لیے بکثرت پانی مہیا ہو سکتا تھا جس کے نتیجے میں لوگ خوشحال ہوئے اور ملکی آمدن میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا جس کا اندازہ پانچ لاکھ درہم لگایا گیا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس امر کے لیے کوشاں رہے کہ شہریوں کی اقتصادی حالت کو بہتر سے بہتر بنایا جائے، انہیں مطمئن رکھا جائے، خراج اور اس کی وصولی کے ذمہ داروں کے حوالے سے ان کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں اور انہیں پرامن زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
(الخراج: دیکھیے غیداء خزانۃ کاتبی: صفحہ 239)
مزید برآں وہ یہ ٹیکس ادا کرنے والوں کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کرنے کے لیے جن عمال کا انتخاب کرتے ان کی کڑی نگرانی کرتے اور ان کی طرف سے کسی زیادتی کو برداشت نہ کرتے، چاہے وہ ان کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں، انہوں نے اپنے بھانجے عبدالرحمٰن بن عبداللہ ثقفی کو اسی لیے اس عہدے سے معزول کر دیا کہ اس نے خراج کے بارے میں سختی برتی تھی۔
(الخراج: دیکھیے غیداء خزانۃ کاتبی: صفحہ 239)
اموی دور حکومت میں بکثرت ایسے اشارے ملتے ہیں کہ وہ خراج میں غیر عرب لوگوں کی خدمات سے بھی فائدہ اٹھایا کرتے تھے، اور یہ اس لیے کہ وہ خراج کے امور سے بخوبی آگاہ تھے اور ان کا زمینوں کی آبادی میں اہم کردار رہا تھا۔
(ایضاً: صفحہ 262)
اس حوالے سے زیاد بن ابیہ کا کہنا تھا: خراج کے کاتبین غیر عرب اقوام کے سرکردہ لوگ ہونے چاہئیں جو کہ خراج کے امور سے بخوبی آگاہ ہیں۔
(ایضاً: صفحہ 262)
زیاد نے دیہاتی سرداروں کو مراعات دینے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے حوالے سے کہا تھا: دہکانوں (دہکان: کھیتی باڑی اور زمین کی درستی کے لیے مناسب اشجار کا ماہر دیہاتی سردار) سے اچھا سلوک کیا کرو، اس لیے کہ اگر وہ خوشحال ہوں گے تو تم بھی خوشحال رہو گے۔
(الضرائب فی السواد فی العصر الاموی: از دُوری: صفحہ 48۔ الخراج: صفحہ 263)
-
اخراج یہود میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت
-
خراج وصول کرنے والوں کے نام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خط
-
عاملین خراج کا امانت و وفا کی صفت سے متصف ہونا
-
عہد عثمانی میں خراج و عشر کی عام آمدنی
-
خراج لگان
-
فاروقی عہد خلافت میں خراج کی تنفیذ کیسے ہوئی؟
-
خراج لگان والی زمین کی عدم تقسیم کے پیچھے کون سے بلند مقاصد اور امن و امان سے وابستہ مفادات پوشیدہ تھے
-
جزیہ خراج لگان اور عشور کسٹم کے اخراجات اور خلیفہ کا وظیفہ
-
بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں
-
سیرت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ
-
سوانح سيدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہﷺ
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا دور خلافت
-
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل
-
خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رشتہ داریاں باہمی محبت کے اہم مظاہر
-
اخراج یہود میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت
-
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور خاندان نبوت
-
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے باہمی تعلقات
-
خمس
-
سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
-
مقدمہ
-
شوریٰ کی کاروائی میں سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی
-
خراج وصول کرنے والوں کے نام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خط
-
مقدمہ
-
منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پہلا خطبہ
-
آمدورفت اور صبح و شام چلنے پھرنے کی آزادی
-
معاشرہ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا رعب و دبدبہ اور لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے آپ کی تڑپ
-
مالی سیاست، زمام حکومت سنبھالتے ہوئے جس کا اعلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا
-
ذمیوں پر ظلم نہ کرنا، ان سے بیت المال کا حق وصول کرنا اور ان کے حقوق کو ادا کرنا
-
عاملین خراج کا امانت و وفا کی صفت سے متصف ہونا
-
مال غنیمت کا خمس
-
عہد عثمانی میں اسلامی فتوحات کے لیے مال کی فراہمی میں مالی سیاست کی کامیابی
-
عہد عثمانی میں خراج و عشر کی عام آمدنی
-
عہد عثمانی میں عام اخراجات کے انواع و اقسام
-
مال کی ریل پیل کا اجتماعی اور اقتصادی زندگی پر اثر
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا
-
وزارت خزانہ و وزارت عدل اور عہد فاروقی میں ان کی ترقی
-
جزیہ
-
تغلب کے نصاری سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوگنا صدقہ وصول کرنا
-
خراج لگان
-
کیا خراجی زمین کے بارے میں فاروقی مؤقف سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف تھا؟
-
فاروقی عہد خلافت میں خراج کی تنفیذ کیسے ہوئی؟
-
خراج لگان والی زمین کی عدم تقسیم کے پیچھے کون سے بلند مقاصد اور امن و امان سے وابستہ مفادات پوشیدہ تھے
-
قرار داد کے اہم دعوتی آثار و نتائج
-
سرحدوں کی حفاظت کے لیے ملکی خزانے کو منظم کرنا
-
اسلامی بیت المال اور دواوین رجسٹر و دفاتر کا انتظام
-
عہد فاروقی کے ملکی اخراجات
-
جزیہ خراج لگان اور عشور کسٹم کے اخراجات اور خلیفہ کا وظیفہ
-
گورنروں کے وظائف
-
بحرین
-
مصر
-
شام اور اس کی ریاستیں
-
کوفہ
-
افسران و ملازمین کی تقرری
-
شعبہ ترجمہ اور گورنران کے اوقات عمل
-
والیان ریاست سے وفود بھیجنے کا مطالبہ
-
معرکہ باروسما 13 ہجری
-
تعارف امام مسلم رحمۃاللہ
-
امام طحاوی رحمۃاللہ
-
فتح بیسان و طبریہ
-
فتح برقہ و طرابلس
-
زخمی ہونے سے قبل سیدنا عمر فاروق اور حذیفہ رضی اللہ عنہما کی ملاقات
-
مالی واقتصادی پہلو
-
سجاح بنو تمیم اور مالک بن نویرہ الیربوعی کا قتل
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہاں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی شان میں جو یہ فرمایا: تمہارا شیر دشمن کے شیر پر ٹوٹ پڑا اور اس پر غالب آکر اس کا گوشت چھین لیا۔ کیا خواتین خالد جیسے مرد جننے سے عاجز آ گئی ہیں
-
لشکر کے حقوق
-
فارس و روم کی قوتوں کا صفایا کرنے کا راز
-
خلاصہ
-
سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے
-
ایک عظیم قافلہ کے ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی آمد اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ناپسندیدگی
-
فعلی معارضہ
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت مرکزی دواوین
-
عشور
-
الصوافی
-
خمس غنائم
-
نفقات عامہ
-
حکومت کی طرف سے زراعت کا اہتمام
-
نیروز اور مہرجان کے ٹیکس کا اعادہ
-
دیہات سے شہروں کو ہجرت کرنے والے مزارعین اور دولت امویہ کے درمیان فوجی ٹکراؤ
-
بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں
-
گورنرز اور انتظامیہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں
-
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت وصیت
-
قیادت کی مرکزیت اور امداد
-
بَری حدود کی حفاظت کا اہتمام
-
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اسلامی فتوحات پر علمی اور اجتماعی اقتصادی اثرات
-
غیر مقلدین کے تمام جھوٹ بے نقاب نواب وحید الزّمان غیر مقلد تھا
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خراج تحسین
-
حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ کو ان کا حق باغ فدک نہیں دیا جو وراثت میں رسول اللہ نے دیا تھا جس وجہ سے حضرت فاطمہ مرتے دم تک حضرت ابوبکر سے ناراض رہیں (بخاری شریف)
-
بعد از نبی سوائے تین چار کہ تمام صحابہ مرتد (معاذاللہ)
-
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد سوائے چار اصحاب کے باقی سب مرتد ہوگئے تھے اور حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کے کفر کا اظہار(معاذاللہ)
-
اگر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا حکومت وقت سے اختلاف نہ تھا تو ان تینوں حکومتوں کے دور میں کسی جنگ میں شریک کیوں نہ ہوئے؟
-
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خراج تحسین
-
مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف
-
جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب
-
شیعہ کی سیاسی تاریخ
-
فتنہ مقتل عثمان بن عفان رضی الله عنہ
-
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح
-
حضرت حسن و معاویہ رضی ﷲ عنہما کی خلافت سے متعلق شیعوں سے چند سوالات
-
دین و ایمان تحریف قرآن کی زد میں
-
حدیث دوازدہ امیر (حدیث 12 امام)
-
دھوکہ نمبر 37
-
دھوکہ نمبر 85
-
شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب
-
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح
-
ملکی عہدوں پر شیعوں کو مقرر لانا، ان کو حج یا قاضی یا مسجد کا متولی بنانا،ان کو کسی تنظیم وغیرہ کا ممبر بنانا،اور ان کو ووٹ دینا وغیرہ،ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس کا شرعی حکم اور نقصانات۔ سنی اکثریت کے حقوق پر شیعہ اقلیت قابض کیوں ہے۔
-
ارحج المطالب مصنفہ عبید اللہ امرتسری
-
اہل سنت والجماعت کیا ہے؟ اور کیا چاہتی ہے؟
-
تاریخ تدوین فقہ جعفریہ
-
امیر عزیمت حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ حالات و خدمات و شہادت
-
سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے تخت خلافت سنبھالتے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معزول کردیا کا الزام:
-
فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ
-
فصل: ....جاگیر فدک کا اعتراض اور اس کا جواب
-
فصل: ....حدیث میں مہارت کی ضرورت
-
فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ
-
فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]
-
آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت
-
شیعوں اور یہودیوں کے اپنے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی تکفیر اور ان کی جان و مال کی حلت کے عقیدہ میں مشابہت
-
جب ابن علقمی کے ہاتھوں بغداد قتل گاہ بنا
-
تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم
-
آیت مودت
-
متعہ اور قرآن کریم
-
نکاح مؤقت کا اختصاصی حکم
-
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور حرمت متعہ
-
عمل بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و متعہ
-
رجوع حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
-
رجوع اصحاب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ مکہ والے
-
شیعہ مذہب میں رائے؛ اجتہاد کی طرف عدم التفات کا دعوی
-
اگر آپ ان چند واضح ترین فتوحات کا بھی ذکر کر دیں جنہیں رافضیہ شیعہ یہ گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ کارہائے نمایاں سر انجام دیتے ہیں اور یہ باتیں ان کی معتبر اور معتمد کتب سے ہوں تو بہت ہی اچھا ہو؟
-
شیعہ کا اسماعیلی فرقہ آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف
-
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)
-
عقیدہ امامت در پردہ ختم نبوت کا انکار ہے
-
مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام
-
مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ
-
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟
-
کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت
-
تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ
-
ھادی شیعہ مناظر اور دیگر ممبرز کے تبصرے۔ (قسط 44)
-
عمرؓ اسلام کی تاریخ کا روشن ستارہ ہے