Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مصر

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر فتح کیا۔ (ان شاء اللہ اس فتح کا تفصیلی بیان فتوحات کے باب میں آئے گا۔)اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو وہاں کا گورنر مقرر کیا اور باوجودیکہ چند ایک معاملات میں کبھی کبھار انہوں نے حضرت عمرؓ کی مرضی کے خلاف کام کیا جس کے نتیجہ میں حضرت عمرؓ کو ان پر تادیبی کارروائی کرنا پڑی تاہم وہ حضرت عمرؓ کی پوری مدت خلافت میں وہاں کے گورنر رہے۔ حضرت عمرو بن عاصؓ مصر کے گورنر جنرل تھے اور آپؓ کی ماتحتی میں مصر کے مختلف علاقوں پر چھوٹے چھوٹے امراء و گورنران مقرر تھے، جیسے کہ عبداللہ بن سعد بن ابی اسرح رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ خلیفۂ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت مصر کے علاقہ ’’الصعید‘‘ پر والی مقرر تھے۔

(فتوح مصر: صفحہ 173)

دور فاروقی میں مصر میں حضرت عمرو بن عاصؓ کی مدت ولایت گورنری میں یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ حضرت عمرؓ صوبہ کے مختلف معاملات میں بکثرت دخل اندازی کرتے تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 79)

سیدنا عمرو بن عاصؓ نے اپنی مدت ولایت میں خراج اور جزیہ کے بارے میں قبطیوں کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اس کام پر مامور کیا۔

(فتوح مصر وأخبارہا: صفحہ 152) آپؓ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپؓ نے حضرت عمر بن خطابؓ کے حکم کی بنا پر اپنی افواج کو زراعت و کاشت کاری کرنے اور اس سے دلچسپی لینے سے منع کر دیا تھا اور خلاف ورزی کی صورت میں مخالفین کو سزا دیتے تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 82) اس ممانعت کا سب سے اہم مقصد یہی تھا کہ اسلامی فوج ہمیشہ مجاہدانہ کارروائی کے لیے چاق و چوبند رہے اور کاہلی و سستی کی طرف مائل نہ ہو اور صرف زمین سے ہی مربوط ہو کر نہ رہ جائے کیونکہ اسلامی فوج کو بیت المال سے اتنی تنخواہ دی جاتی تھی جو انہیں کسب معاش سے بے نیاز رکھے۔ خلیفۂ راشد عمر فاروقؓ کی مسلسل نگرانی کی وجہ سے حضرت عمرو بن عاصؓ نے چند ہی سالوں میں صوبہ اور اس کے معاملات کو کافی منظم و مستحکم کر دیا اور مختصر سی مدت میں اسلامی سلطنت کی ریاستوں میں ایک عظیم ریاست کا درجہ پا لیا۔ اس میں رونما ہونے والے حالات و واقعات صوبہ میں امن و استقرار پر دلالت کرتے ہیں باوجودیکہ چاروں طرف سے روم کی انتقامی کارروائی کے خطرات بھی منڈلا رہے تھے جو یہ چاہتے تھے کہ سمندری راستوں سے اسکندریہ پر ہلہ بول کر مصر پر دوبارہ قابض ہو جائیں۔

عہد فاروقی میں اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے یہ صوبہ بہت زرخیز ثابت ہوا کیونکہ یہاں لوگوں کو عدل و انصاف اور رحمت و شفقت کا ایسا پیغام ملا جسے انہوں نے کبھی دیکھا بھی نہ تھا۔ وہ اسلام کی حقانیت اور اس کی واضح و آسان تعلیمات سے مطمئن ہوئے اور پھر اسلام قبول کر کے اس کے سپاہی بنے۔ مصر میں اداری کام اور سرکاری امور بڑی سہولت اور آسانی کے ساتھ انجام پاتے تھے۔ سیدنا عمرو بن عاصؓ وہاں کے گورنر جنرل تھے اور وہی خراج کے اعلیٰ ذمہ دار بھی، ہر چند کہ وہ گورنر جنرل اور صوبائی امور کے نگران اعلیٰ تھے، پھر بھی مصر کے دیگر علاقوں میں اپنی ماتحتی میں چند لوگوں کو گورنری اور امارت کا اختیار دے رکھا تھا اور ان سے ریاستی مسائل میں تعاون لیتے رہتے تھے۔ البتہ خلیفۂ راشد عمر بن خطابؓ کے سامنے گورنر جنرل اور ذمہ دار کی حیثیت سے تمام تر صوبائی معاملات کے جواب دہ حضرت عمرو بن عاصؓ ہوتے تھے۔ آپؓ نے خراج اور دیگر مالیاتی معاملات کی تنظیم و ترتیب سے متعلق اپنے ہی صوبہ کے چند ماہرین اشخاص سے بہت کچھ استفادہ کیا تھا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 83)