صنعت و حرفت
علی محمد الصلابیخامساً: صنعت و حرفت
اموی دور حکومت میں صنعت و حرفت کا اپنے اقتصادی ماحول سے متاثر ہونا، مزید براں اس کا اموی حکومت کے اقتصادی حالات سے متاثر ہونا بھی ایک فطری امر تھا، چونکہ اس دوران زراعت کو بنیادی اور خصوصی اہمیت حاصل تھی، لہٰذا ایسی صنعتوں کو فروغ حاصل ہوا جو اپنے خام مال کے لیے زرعی پیداوار پر انحصار کرتی تھیں، مثلاً کپڑا سازی اور آٹا پیسنے کی صنعتیں، دولت امویہ میں عمرانی ترقی کی وجہ سے مختلف صنعتوں نے بھی خوب ترقی کی لہٰذا عمارت سازی کے لیے ضروری آلات و اشیاء کی تیاری کی صنعت خوب پھلی پھولی، علاوہ ازیں صنعت اموی دور حکومت کے دوران پائے جانے والے عسکری احوال و ظروف سے بھی متاثر ہوئی جس کی وجہ سے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں کی صنعت نے بھی ترقی کی۔
(ایضاً: صفحہ 235)
دولت امویہ نے اس بیزنطی جنگی بحری بیڑے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا جنگی بحری بیڑہ تیار کرنے میں خاصی دلچسپی دکھائی جو دولت اسلامیہ کے ساحلوں کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا تھا، کشتی سازی کی جو صنعت دولت امویہ کے آغاز میں صرف کشتی سازی تک محدود تھی وہ اس کے آخری دور میں جنگی کشتی سازی کی صنعت کے کمال کو چھونے لگی۔ صنعت 49ھ تک مصر تک محدود تھی بعد ازاں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شام کے عکا نامی شہر میں کشتی سازی کا کارخانہ قائم کرنے کا حکم دیا اور اس کام کو کرنے کے لیے مصر سے تجربہ کار ماہرین منگوائے، اس میں کام آنے والی لکڑی لبنان کے پہاڑوں سے حاصل کی گئی جو کہ وہاں وافر مقدار میں موجود تھی اور جس کا حصول بھی آسان تھا۔
(خطط الشام: جلد 5 صفحہ 37۔ النظم الاسلامیۃ: ابراہیم العدوی: صفحہ 355۔ التطور الاقتصادی: صفحہ 239)
پھر اس صنعت میں مزید بہتری لانے کے لیے 54 ھ کے دوران مصر میں ایک نیا صنعتی زون قائم کیا گیا جسے خاص طور سے جنگی کشتیوں کی تیاری کے حوالے سے بڑی شہرت ملی۔
(تاریخ الحضارۃ الاسلامیۃ و الفکر الاسلامی: صفحہ 166)
اموی حکومت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد بھی کشتی سازی کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے تسلسل کے ساتھ مصروف عمل رہی۔ جنگی کشتی سازی کے یہ علاقے لوگوں کی رہائش اور روزگار کے لیے باعث کشش ثابت ہوئے اور اس طرح یہ صنعتی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے مراکز میں تبدیل ہو گئے، وہاں ہوٹل تعمیر کیے گئے، گندم پیسنے کے متعدد کارخانے قائم کیے گئے، علاوہ ازیں متعدد دیگر سرگرمیاں بھی دیکھنے میں آئیں جن کی وجہ سے اس صنعت میں کئی تبدیلیاں آئیں اور وہ ترقی کے مراحل طے کرنے لگی، اس صنعت کو منظم انداز میں استوار کرنے کے لیے اس کے نگران اعلیٰ کا عہدہ قائم کیا گیا جسے اس کے نگران کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا اور جس کی اہم ترین ذمہ داری اس صنعت میں کام کرنے کے لیے لوہے اور لکڑی کے کام کے ماہرین اور دیگر کارکنوں اور مزدوروں کو قریبی مسلم ریاستوں اور حکومت کے دیگر صوبوں سے لا کر یہاں آباد کرنا اور ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا تھا۔ کشتی سازی میں کام آنے والی عمدہ لکڑی اور دیگر ضروری خام مال فراہم کرنا بھی اس کے ذمہ تھا، اس صنعت کے قیام کی عمدگی اس امر سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ اس میں کام کرنے والے کاریگروں اور عام کارکنوں کی مالی مراعات کی تحدید کی جاتی اور انہیں ضروری غذائی اشیاء فراہم کرنے کا بندوبست کیا جاتا، علاوہ ازیں انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جاتی حتیٰ کہ انہیں رہائش گاہیں بھی فراہم کی جاتیں اور انہیں ہر طرح کی زیادتی سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جاتے تاکہ وہ مکمل اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کر سکیں۔
(النظم الاسلامیۃ: صفحہ 354، 355)
یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ اموی دور حکومت کے دوران ایک بھاری بھر کم بحری جنگی بیڑہ وجود میں آ گیا۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 241)
آغاز کار میں دولت بیزنطیہ کو دولت اسلامیہ پر بحری برتری حاصل تھی، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے کمزور کرنے اور بعد ازاں اسے بالتدریج ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔
اموی دور حکومت جن صنعتوں کے لیے مشہور ہے ان میں تجارتی کشتیوں کی صنعت بھی قابل ذکر ہے۔ ان دنوں تجارتی کشتیاں جنگی کشتیوں سے کوئی زیادہ مختلف نہیں ہوتی تھیں مگر پھر ان کی تیاری کے لیے خوبصورت تبدیلیاں کی گئیں، ان کے سائز میں اضافہ کرنے اور انہیں جدید اور دیر پا بنانے کے لیے ان میں کیل استعمال کرنے کا حکم دیا گیا۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 242)
واسط شہر میں تیار کردہ کشتیوں کو واسطیہ کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا، جہاں ایسی چھوٹی کشتیاں بھی تیار کی جاتی تھیں جو سیر و سیاحت اور واسط و بصرہ کے درمیان تجارتی سامان کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔
(الحجاج بن یوسف الثقفی: ہزاع الشعری: صفحہ 59)
دولت امویہ میں مشرقی کشتیوں کی تیاری کے مراکز میں اگرچہ زیادہ تر تجارتی کشتیاں ہی تیار کی جاتی تھیں مگر وہ صرف اسی قسم کی کشتیوں کے ساتھ ہی خاص نہیں تھے بلکہ وہ تجارتی اور جنگی دونوں قسم کی کشتیوں کی تیاری کی صلاحیت رکھتے تھے۔ حجاج بن یوسف نے خلیج عربی اور بحرہند میں فوجی قوت کے قیام میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔
(واسط فی العصر الاموی: صفحہ 243)