فتح اسکندریہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتح اسکندریہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھ فوجی قائدین و مجاہدین قلعہ بابلیون میں چند مہینے قیام فرما رہے تاکہ بھاری تعداد میں فوج ادھر ادھر سے آکر یہاں جمع ہو جائے اور تب تک امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اسکندریہ کی طرف لشکر کشی کی اجازت بھی مل جائے گی۔ چنانچہ جب دارالخلافہ سے اجازت مل گئی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کا ایک مسلح و بہادر فوجی دستہ قلعہ میں چھوڑا اور مئی 641ء موافق جمادی الاخری 21ہجری میں اپنی قیادت میں مسلمانوں کا لشکر لے کر بابلیون سے نکلے۔ آپؓ کے ساتھ قبطی سرداروں کی وہ جماعت بھی تھی جسے اس بات پر اطمینان حاصل تھا کہ کامیاب اسلامی فوج کی مدد کرنے ہی میں ہماری بھلائی پوشیدہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسلامی فوج کے لیے راستے ہموار کیے، پل بنائے، بازار قائم کیے اور رومیوں سے مسلمانوں کی محاذ آرائی کے وقت مسلمانوں کے معاون و مددگار ثابت ہوئے۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 224)

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اسکندریہ پر جنگی پیش قدمی کے لیے دریائے نیل کے (بائیں) شمالی ساحل سے گزرنے کو ترجیح دی، تاکہ گھوڑوں اور فوج کو پیش روی کے لیے صحرا کا وسیع علاقہ مل سکے اور دریائے نیل کے ڈیلٹا سے گزرنے کی صورت میں کثیر تعداد میں جو گہری نہریں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں ان سے بچ سکیں۔ اس کارروائی میں حضرت عمرو بن عاصؓ کو کسی قابل ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، صرف مرفوط، یا عرب مؤرخین کے مطابق ’’طرانہ‘‘ میں معمولی مزاحمت ہوئی۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 224)

اس کے بعد دریائے نیل عبور کر کے اس کے مشرقی ساحل پر آگئے، جہاں ’’نقیوش‘‘ نام کا محفوظ و مضبوط شہر آباد تھا۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 225)

اس کے قلعے مضبوط اور فصیلیں مستحکم تھیں، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ اگر اسے نظر انداز کر کے آگے گزر جاتے ہیں تو یہاں خطرہ باقی رہے گا۔ رومیوں نے اپنے قلعوں میں پناہ لینے کے بجائے انہیں خالی چھوڑ دیا اور آگے بڑھ کر کشتیوں میں سوار ہوگئے، تاکہ وہیں سے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑیں اور اپنے شہر کے قریب نہ آنے دیں، لیکن یہ چیز مجاہدین اسلام کے حق میں مفید ثابت ہوئی، انہوں نے اپنے تیروں اور برچھیوں سے رومیوں کو چھلنی کرنا شروع کر دیا اور دریا ہی میں انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ وہ لوگ اپنی کشتیوں پر سوار ہو کر اسکندریہ کی طرف پیٹھ پھیر کر بھاگے اور جو رومی قلعوں میں بچ گئے تھے، انہوں نے بہت جلد اطاعت قبول کر لی اور پھر مسلمان فتح مند ہو کر شہر میں داخل ہوگئے۔ وہاں چند دن گزار کر اپنے اردگرد کے دشمنوں پر شکنجہ کستے اور مصالحت کرتے رہے۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 225)

حضرت عمرو بن عاصؓ نے اپنے ایک قائد شریک بن سمی رضی اللہ عنہ کو بھگوڑے رومیوں کا تعاقب کرنے کے لیے بھیجا، آپؓ نے اپنے ساتھ چھوٹا سا فوجی دستہ لے کر ان کا تعاقب کیا اور انہیں پا لیا۔ رومیوں نے دیکھا کہ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں کیوں نہ انہیں گھیر کر ان کا کام تمام کر دیا جائے۔ شاید یہ سوچ ہی رہے تھے کہ شریک کی ایک ٹیلے کے پاس ان سے جھڑپ ہوگئی، بعد میں اس ٹیلے کی نسبت شریک کی طرف کی جانے لگی اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیج کر مزید امدادی فوج کا مطالبہ کیا۔ کسی طرح رومیوں کو امدادی فوج کی آمد کی اطلاع مل گئی، اس لیے وہاں سے فرار اختیار کی،

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 225)

وہاں سے چھ میل کی دوری پر سُلطیس کے پاس جو دمنہور کے جنوب میں واقع ہے، حضرت عمرو بن عاصؓ اور رومیوں کی فوج میں سخت لڑائی ہوئی، اس میں رومیوں نے شکست اٹھائی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 225)

ان فتوحات کا تذکرہ کرتے ہوئے ہمیں مؤرخین پر حیرت ہوتی ہے اور افسوس کرنا پڑتا ہے کہ یہ اور اس طرح کے دیگر معرکے جن میں مسلمانوں نے اپنی مختصر سی فوجی قوت لے کر بڑی بڑی رومی افواج پر حملہ کیا جو تعداد اور اسلحہ ہر اعتبار سے مضبوط اور مسلمانوں پر بھاری تھے اور وہ معرکے جو کئی کئی دنوں تک جاری رہے، مسلم مؤرخین نے انہیں چند سطروں یا چند حروف میں سمیٹ دیا ہے۔ جب کہ ان میں سے بعض نے قادسیہ، یرموک یا نہاوند کی تاریخ لکھتے ہوئے دسیوں صفحات سیاہ کر ڈالے ہیں۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 225)

انہی بڑے معرکوں میں سے ایک اہم معرکہ جس کو ہمارے مؤرخین نے نظر انداز کر دیا ہے اور جس کے بارے میں عربی تاریخی مصادر ایک پیاسے کو سیراب کرنے سے قاصر ہیں معرکہ ’’کریون‘‘ ہے۔ یہ بابلیون سے اسکندریہ تک پھیلے ہوئے قلعوں کی آخری کڑی تھی، رومی فوج کا کمانڈر تیودرو اس قلعہ میں پناہ گزین ہوگیا، اس میں مجاہدین اسلام اور اس کی فوج کے درمیان دس دنوں سے زیادہ لڑائی ہوئی، یہ معرکہ بھی معمولی نہ تھا لیکن ابن عبدالحکم کے ان چند کلمات کے علاوہ کسی نے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ وہ لکھتے ہیں: پھر کریون میں لڑے، دس دنوں سے زیادہ لڑائی چلتی رہی۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مقدمۃ الجیش پر تھے اور حضرت عمروؓ کے غلام ’’وردان‘‘ جنگ کا علم اٹھائے تھے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے اس دن نماز خوف ادا کی، پھر اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی۔ اس معرکہ میں مجاہدین اسلام نے بہت سے رومی سپاہیوں کو قتل کیا اور پیچھے دھکیلتے ہوئے انہیں اسکندریہ تک پہنچا دیا۔ جنگ کا نقشہ کھینچتے ہوئے ابن عبدالحکم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اور ان کے والد کے غلام وردان کی بہادری کا واقعہ بھی درج کیا ہے۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 226)

صفحہ 1 از 3