Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مصر

  علی محمد الصلابی

سادساً: مصر

1۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ولایت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے 41 ھ میں سیدنا عمرو بن العاص کو مصر کا والی مقرر فرمایا، (مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 281، 282)

اور اس طرح ایک مناسب آدمی کو مناسب جگہ پر بٹھا دیا۔ عمرو فاتح مصر ہیں آپ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ادوار خلافت میں اس کے والی رہے، اور وہ اس اہم ترین ولایت کے لیے سب سے موزوں شخص تھے۔

(ایضاً صفحہ 282)

ایسی ضعیف اور موضوع روایات بکثرت وارد ہیں جن میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ساز باز کی وجہ سے انہیں مصر کی ولایت دی گئی۔ اور یہ کہ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد فتنہ کے ایام میں سیدنا معاویہؓ کا ساتھ دینے کا صلہ تھا۔ میں نے اس بات کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنی کتاب میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے فوری قصاص کے مطالبہ میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ساتھ دینا ان کی ذات کے ساتھ کسی ساز باز کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس مسئلہ میں ان کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ تھا جس کی رو سے ان کا مؤقف تھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے فوراً قصاص لینا ضروری ہے اور ان کا یہ مؤقف اس قضیہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مؤقف سے ہم آہنگ تھا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: 281، 282) 

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی مصر پر ولایت ان میں پنہاں بے پناہ صلاحتیوں کی مرہون منت تھی، وہ انتظامی، سیاسی اور فوجی، الغرض ہر اعتبار سے کہنہ مشق انسان تھے۔ انہوں نے شمال افریقہ میں فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا اور مصر میں تعمیرات، زراعت اور آب پاشی کے معاملات کو منتظم کیا۔

(مصر فی العصر الاموی: عدنان احمد الجنالی: صفحہ 49، 50)

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ 43ھ میں اپنی وفات تک مصر کے والی رہے۔