مدینہ نبویہ
علی محمد الصلابیثالثاً: مدینہ نبویہ
دولت امویہ میں مدینہ منورہ کو اپنے روحانی اور دینی اثر و نفوذ کی وجہ سے اہم ترین صوبہ ہونے کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کی وجہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کی اولاد کا اس جگہ وجود مسعود تھا، ان کا تعلق انصار کے ساتھ ہو یا مہاجرین کے ساتھ، اہل مدینہ کی طرف سے کسی خلیفہ کی عدم بیعت کی وجہ سے اس کے لیے بیعت کا انعقاد ممکن ہی نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے کہ اس میں متعدد اہل حل و عقد تشریف فرما تھے لوگ جن کے نقشِ قدم پر چلتے اور ان کی رائے پر عمل کیا کرتے تھے۔
(التاریخ الاسلامی: العہد الاموی: محمود شاکر: صفحہ 90)
مدینہ منورہ 41ھ میں عام الجماعۃ کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی سلطانی میں داخل ہوا، وہ بیعت لینے کے بعد سے ہی اس کی زیارت کے متمنی تھے، جب وہ مدینۃ الرسول کے قریب پہنچے تو قریش کے سرکردہ لوگوں نے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہا: ہم اس اللہ کے شکر گزار ہیں جس نے تمہاری بھرپور مدد کی اور تمہیں سربلندی سے نوازا، مگر انہوں نے شہر میں داخل ہونے تک اس کا کوئی جواب نہ دیا، آپ مسجد نبوی میں آئے اور منبر پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: میں نے اپنی جان کو ابن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ کا سا کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ کرنا چاہا مگر یہ اس کے لیے ممکن نہ تھا، پھر میں نے اسے سیدنا ابن خطاب رضی اللہ عنہ کا سا کردار کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر یہ بھی اس کے بس کا روگ نہیں تھا، پھر میں نے اسے عثمان رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے کے لیے آمادہ کرنا چاہا مگر اس نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ کہاں ہم اور کہاں وہ، اور ان جیسے اعمال کی قدرت بھی کون رکھتا ہے، ناممکن ہے کہ ان کے بعد آنے والا کوئی شخص بھی ان جیسا فضل و شرف حاصل کر سکے، ہاں میں نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس میں میری بھی منفعت ہے اور تمہاری بھی، اس میں تمہارے لیے خور و نوش کے اچھے سامان کا انتظام ہے، بشرطیکہ سیرت و کردار درست اور اطاعت گزاری اچھی رہے۔ اگر تم مجھے اپنے سے بہتر نہیں پاؤ گے تو میں تمہارے لیے بہتر ضرور ہوں۔ اللہ کی قسم! میں اس شخص کے خلاف تلوار نہیں اٹھاؤں گا جس کے ہاتھ میں تلوار نہیں۔ قبل ازیں جو کچھ بھی ہوا میں اسے پس پشت ڈالتا ہوں، اگر تم سمجھو کہ میں تمہارے تمام حقوق کی ادائیگی نہیں کر رہا تو ان میں سے بعض کی ادائیگی پر راضی رہنا، فتنہ گری سے اجتناب کرنا اور اس کا ارادہ بھی نہ کرنا، اس لیے کہ فتنہ معیشت کو تباہ کرتا اور نعمت کو مکدر بناتا ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 432)
اس خطبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اہل مدینہ کی محبت حاصل کرنے اور ان کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کو نبھانے کے کس قدر حریص تھے بشرطیکہ وہ ان سے بیعت کی پاس داری کریں۔
(المدینۃ فی العصر الاموی: محمد شراب: صفحہ 70)
معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے کے بعد مدینہ منورہ پرسکون ہو گیا۔ عام اہالیان مدینہ اپنے اپنے کام میں لگ گئے اور اہل علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کردہ علم کی تعلیم و اشاعت میں مصروف ہو گئے، پھر انہوں نے سرکردہ لوگوں کو اپنے ساتھ وابستہ رکھنے کے لیے ان پر نوازشات کی بارش کر دی۔
(ایضاً: صفحہ 71)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیارت مدینہ کے دوران اہل مدینہ سے جو وعدہ کیا وہ اسے ایفا کرتے رہے، ان کی سیاست ترہیب سے زیادہ ترغیب پر مبنی تھی، وہ مدینہ منورہ کے رجال کار کا ازحد اکرام و احترام کیا کرتے تھے جس کسی نے بھی ان سے جو بھی مطالبہ کیا انہوں نے اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا، وہ مدینہ منورہ کے سرکردہ لوگوں کو عطیات سے نوازتے، انہیں جس قدر زیادہ عطیات ملتے وہ اسی کثرت سے انہیں اہل مدینہ میں تقسیم کر دیتے۔
(المدینۃ فی العصر الاموی: صفحہ 73 )
مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اٹھارہ ہزار دینار ادا کیے نیز ان کا وہ قرضہ بھی ادا کیا جسے وہ حاصل کرنے کے بعد لوگوں میں تقسیم کر دیا کرتی تھیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 154)
ایک دفعہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک لاکھ درہم پیش کیے جنہیں انہوں نے اسی دن ہی تقسیم کر دیا اور ان میں سے ایک درہم بھی اپنے پاس نہ رکھا۔ اس پر ان کی خادمہ کہنے لگی: کاش آپ ہمارے لیے ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں؟ انہوں نے فرمایا: مجھے پہلے کیوں نہ یاد کرایا۔
(تذکرۃ الحفاظ: ترجمۃ: 13۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 154)