Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مدینہ نبویہ

  علی محمد الصلابی

جو خلیفہ ہوتا وہی مدینہ نبویہ کا گورنر بھی ہوا کرتا تھا، یہ اس لیے تھا کہ خلیفہ بھی یہیں پر مقیم ہوتا تھا اور خود یہاں کا نظم و نسق دیکھتا اور معاملات کے لیے تدبیریں پیش کرتا تھا۔ چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے عہد خلافت میں جب مدینہ میں موجود نہ ہوتے تھے تو کسی کو اپنا نائب بنا کر جاتے اور وہ مدینہ کے مختلف امور و معاملات کو دیکھتا، حج اور دیگر بعض سفروں میں آپؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کو مدینہ پر اپنا نائب حاکم بنایا۔ 

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 68) اسی طرح اور کئی مرتبہ اپنی عدم موجودگی میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بھی اپنا نائب بنا کر گئے۔

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 147) اس طرح سیدنا عمر فاروقؓ اپنی عدم موجودگی میں دوسروں کو اپنا نائب مقرر کر کے سنت نبویﷺ اور سنت صدیقی پر عمل پیرا رہے۔ اُس دور میں چند اہم اسباب کی بنا پر دیگر صوبوں کے درمیان صوبہ مدینہ نبویہ کا منفرد سیاسی مقام تھا۔ ان اسباب میں سب سے اہم یہ تھا کہ وہ خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطابؓ کی رہائش گاہ تھا، دیگر اسلامی علاقوں کے لیے وہیں سے احکامات صادر ہوتے تھے اور وہاں سے مجاہدین اسلام کے قافلے روانہ کیے جاتے تھے، مزید برآں وہ ایسے بہت سارے بزرگ و ممتاز صحابہ کرامؓ کی رہائش گاہ تھا جنہیں حضرت عمرؓ دوسرے صوبوں میں سکونت پذیر ہونے سے منع کرتے تھے

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 157) اور یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرامؓ سے براہ راست قرآن و سنت نبویﷺ کی تعلیم حاصل کرنے اور اسے سیکھنے کی غرض سے طالبان علوم نبوت کا قافلہ مدینہ نبویہ کی طرف کشاں کشاں چلا آتا تھا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 68)