Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

1: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے متعلق ملا باقر مجلسی شیعی نے بحار الانوار: جلد 14 کتاب السماء والعالم میں مسعود عیاشی سے یوں رروایت کی ہے: رَوِی الْعِيَاشِی عَنِ الْبَاقِر علیه السلام إِنَّ رَسُول اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمُ قَالَ اللَّهُمَ أَعِزَّ الا سُلَام بِعُمَرَ ابْنِ الْخَطَابِ أَوْ بَابِی جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ

ترجمہ: مسعود عیاشی امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے دعا فرمائی۔ اے خدا اسلام کو عمر بن خطابؓ یا ابوجہل بن ہشام کے اسلام لانے سے عزت بخش۔ سو حضورﷺ کی دعا مستجاب ہوئی۔

حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کی کیفیت صاحب حملہ حیدری لکھتا ہے۔

چناں بد کہ بوجہل زاں سزنش

بکیفیتے شد عداوت منش

کہ جزقتل پیغمبر ذوالجلال

نبودش دگر ہیچ فکر و خیال

یکے روز میگفت با اشقیا 

کہ آرد کسے گر سرِ مصطفیٰﷺ

ہزار اشتراز خود بہ بخشم باد

دو کوہاں سیہ دیدہ وسرخ مو

زد یبائے مصری وبرد یمن 

وگرسیم و زر بخشمش چندمن 

عمر چوں شنید ایں سخن گفتنش 

بجنبید عرق طمع در تنش

باوگفت سو گند اگر می خوری

کہ از گفتہ خویش ہم نگذری

من امروز خدمت رسانم بجا 

بیارم بہ پیشت سر مصطفیٰﷺ

گرفت از ابوجہل اول قسم

پس انگاره زد دررہِ کیں قدم

بآں کارچون رفت بیروں عمرؓ

یکے گفت بااُو نداری خبر

کہ ہمشیرہ ات نیز باجُفت خویش

گرفت است دین محمدﷺ بہ پیش

بر آ شفقت ابوحفص زیں گفتگو 

بگفتار بزیرم کنوں خون اُو

سوئے خانہ خواہر خویش رفت 

چو آمد بہ نزدیک ترپیش رفت

چو آمد بہ پیش درو ایستاد

صدائے شنید و بآں گوش داشت 

شنید آنکہ می خواند مرد نکو 

کلامی کہ نشیند بُد مثل او 

عمر زد درو خواہرش باز کرد

چو آمدد ردو شور آغاز کرد

درافتا د باجُفت خواہر بجنگ 

گرفتش ز حلق بیفشر و تنگ 

گلوئش بہ تنگی فشرد آنچناں

کہ نزدیک شد تا شود قبض جاں 

بیامد دواں خواہرش نوحہ گر 

بگفتش چہ خواہی زما اے عمرؓ 

اگر شاد گردی زما در ملول 

نمودیم دین محمدﷺ قبول 

کنوں گر کشی سر بداریم پیش 

ولے بر نگردیم از دین خویش

چوبشنید زوایں حکایت عمرؓ 

بد آنست کہ برنگردر مگر 

بگفتش چہ دیدی تواز مصطفیﷺ 

کہ گشتی بدنیش چنین مبتلا 

بگفتا کلام خدائے جلیل 

کہ آردبار حضرت جبرائیلؑ

شنیدیم و گرویدبر ما یقین 

کہ ہست آں کلام جہاں آفرین

عمرؓ گفت زاں قول معجز اساس 

اگر یاد داری بخواں بے ہراس

برد خواہرش آیہ چند خواند 

عمرؓ گوش چوں کرد حیراں بماند

دلش زاں شنیدن بسے نرم شد 

بسوئے اسلام سر گرم شد 

ازاں پس بگشتند باہم رواں 

بنزد رسول خدائے جہاں 

بدولت سرائے پیغمبرﷺ شدند 

چودر بستہ دید حلقہ بردر زدند

یکے آمد و دید از پُشت در

کہ استاده باتیغ بردر عمرؓ

بنزد نبیﷺ رفت واحوال گفت 

بما ندند اصحاب اندر شگفت 

چنیں گفت پس عمِ خیرالبشر 

کہ غم نیست بروئے کشائیدود

گراز راه صدق آمده مرحبا

دگر باشد او را بخاطر دغاء

بہ تیغے کہ وارد حمائل عمرؓ

تنش راسبکسار سازم زسر 

چو درباز کر وند بر روئے او 

درآمد عمرؓ بالب عذر گو

گر فتش بہ بر سرور انبیاءﷺ 

نشاندش بجائے کہ بودش سزا 

بگفتند اصحابؓ ہم تہنیت 

وزان بیشتر یافت دیں تقویت 

پس اصحابؓ دیں راشد ایں مدعا 

کہ از خدمت سرور انبیاءﷺ 

بسوئے حرم آشکارا روند

نماز جماعت بجا آورند 

رسید ایں سخن چوں بغرض رسولﷺ 

زخیر البشر یافت قبول 

ترجمہ: ایسا ہوا کہ ابوجہل حضرت رسولﷺ کی تنبیہ کرنے سے اُن کا سخت دشمن ہو گیا کہ بغیر قتل حضورﷺ کے اسے کچھ نہ سوجھتا تھا۔ ایک روز کفار سے کہنے لگا کہ اگر کوئی شخص محمد صلیﷺ کا سرکاٹ لائے میں اس کو ہزار اونٹ ایسے انعام میں دوں گا جو دو کوہان رکھتے ہوں اور سرخ رنگ کے ہوں۔ مصری ریشمی شال اور یمنی چادر کے علاوہ بہت کچھ دوں گا۔ عمرؓ نے جب اس کی یہ بات سنی اور سیم وزر کی حرص نے جوش مارا۔ ابوجہل کو کہا کہ اگر تو قسم کھائے اور اپنی بات پر قائم رہے میں آج یہ خدمت بجا لاتا ہوں اور حضورﷺ کا سر کاٹ لاتا ہوں ابوجہل سے پہلے قسم لی۔ پھر اس بات پر آمادہ ہوا۔ جب اس کام کے لیے روانہ ہوا کسی نے کہا کہ تجھے خبر نہیں ہے کہ تیری ہمشیرہ مع اپنے شوہر کے دینِ محمدﷺ میں داخل ہو چکی ہے۔ حضرت عمرؓ اس بات سے خفا ہوئے اور کہا ابھی اس کو قتل کرتا ہوں۔ اپنی ہمیشرہ کے گھر کو روانہ ہو گئے اور جب گھر کے نزدیک پہنچ گئے جب دروازہ پر کھڑے ہوئے تو آواز آ رہی تھی جسے سننے لگے، سنا کہ ان کا بہنوئی ایک کلام پڑھ رہا تھا جس کی مثل آپ نے پہلے کلام نہ سی تھی۔ حضرت عمرؓ نے دستک دی ہمشیرہ نے دروازہ کھولا تو حضرت عمرؓ نے داخل ہوتے ہی شور برپا کر دیا، اپنے بہنوئی سے لڑنے لگے اور اُسے گلے سے پکڑ کر خوب جھنجھوڑا اس کا گلا گھونٹا کہ جان نکلنے لگی۔ ہمشیرہ چلاتی ہوئی آئی اور کہا اے عمرؓ! ہم سے کیا چاہتا ہے؟ خواہ تو خوش ہو یا ناراض ہم نے تو دینِ محمدیﷺ قبول کر لیا ہے۔ اب اگرچہ ہمیں جان سے مار ڈالو ہم یہ سچا دین نہیں چھوڑیں گے۔ جب حضرت عمرؓ نے ہمشیرہ سے یہ بات سنی، معلوم کیا اب یہ پھرنے کے نہیں۔ کہا تم نے محمدﷺ سے کیا کچھ دیکھا ہے کہ اُس کے دین پر مبتلا ہوئے؟ ہمشیرہ نے کہا خدا کا کلام سنا ہے جو حضرت جبرائیلؑ حضورﷺ کے پاس لائے ہیں۔ ہم نے یہ کلام سنا ہے اور ہمیں یقین ہوا ہے کہ بیشک یہ خدا کا کلام ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ وہ کلام معجز نظام اگر کچھ یاد ہو تو بے خطر پڑھو۔ ہمشیرہ نے چند آیتیں پڑھیں جن کو سن کر حضرت عمرؓ حیران ہوئے۔ حضرت یہ آیات سن کر موم ہو گئے اور اسلام کی محبت میں سرگرم ہوئے ازاں بعد سب مل کر حضور سرور عالمﷺ کی خدمت میں چل پڑے۔ حضورﷺ کے در دولت پر حاضر ہوئے، دروازہ بند دیکھ کر کھڑے ہوئے، ایک مسلمان آیا اور اس نے دروازہ کی پشت سے دیکھا کہ حضرت عمرؓ تلوار لیے کھڑے ہیں۔ نبی کریمﷺ اس بات سے متعجب ہوئے پس رسول پاکﷺ کے چچا بزرگوار نے فرمایا: کچھ ڈر نہیں دروازہ کھول دو اگر صدق و ارادت سے آیا ہے تو مبارک اور اگر دل میں کچھ اور خیال ہے تو اس کی تلوار سے جو کمر پر باندھے ہے، عمر کا سر قلم کر دونگا۔ جب دروازہ کھولا، حضرت عمرؓ معذرت کرتے ہوئے قدم بوس ہوئے۔ حضورﷺ حضرت عمرؓ سے بغل گیر ہوئے اور ان کو عزت سے بٹھایا۔ تمام اصحاب رضی اللہ عنھم نے مبارک باد کہی اور حضرت عمرؓ کے اسلام سے دین کو مزید قوت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد اصحابؓ نے کہا کہ اب تو حضورﷺ کی خدمت میں عرض کر کے اب حرم شریف میں ہم اعلانیہ جا کر نماز باجماعت گزاریں جب یہ بات حضورﷺ کے گوش گزار ہوئی، حضورﷺ نے منظور فرمایا۔

روایاتِ بالا سے حسبِ ذیل امور ظاہر ہوتے ہیں۔ جو حضرت عمرؓ کی فضیلت کا نمایاں ثبوت ہیں:

1: آپؓ کا اسلام لانا حضور سرور کائناتﷺ کی  اسلام لانا حضور سرور کائناتﷺ کی استجابت دعا کا نتیجہ ہے اور ناممکن ہے جس سینہ میں نور اسلام حبیب کبریا کی خاص توجہ و دعا سے داخل ہوا ہو پھر اُس میں ظلمت کفر و نفاق داخل ہو سکے۔

2: اسلامِ عمرؓ کسی دنیوی لالچ یا طمع سے نہیں بلکہ صداقت اسلام دیکھنے اور کلام الٰہی کی قوتِ اعجاز کی خاص تاثیر ہونے کے سبب سے ہوا تھا۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ اتنی مدت صحبتِ رسولﷺ کرنے اور تعلیم و تربیت پانے کے بعد پھر تاریکی ضلالت و کفر عود کریں گے۔

3: حضر عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا خیر مقدم رسول پاکﷺ اور اصحابِ رسولﷺ نے گرم جوشی سے کیا اور حضورﷺ نے بغل گیر ہو کر جو برکات پہنچائیں اور اعزاز بخشا یہ حضرت عمرؓ کا ہی خاص حصہ تھا۔

4: یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جلال و جبروت کا نتیجہ تھا کہ آپؓ کے اسلام لاتے ہی شوکت اسلام دوبالا ہو گئی اور بجائے خفیہ عبادت کے خدا کے گھر کعبۃ اللہ میں پہنچ کر نماز با جماعت پڑھی گئی اور کفار کو حضرت عمرؓ کی تیغ آبدار کے سامنے آنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے

جس روز آپؓ داخل دین مبین ہوئے

کعبہ میں جمع بہر نماز اہلِ دیں ہوئے

آہستہ سے اذاں جو کہی خشمگیں ہوئے

فرمایا کیا مشرفِ دیں ہم نہیں ہوئے؟

نام خدا و نام نبی لو پکار کر

اب تم کو کس کا ڈر ہے اذاں دو پکار کر

2: شیعہ کی معتبر کتاب تاریخ ناسخ التوابی صفحہ 616 میں اسلامِ عمرؓ کے متعلق یوں لکھا ہے۔ "عرض کرو یا رسول اللہﷺ از بہراں آمده ام کہ کیش مسلمانی گیرم و کلمہ توحید بر زبان رانم پیغمبرﷺ از اسلامِ عمرؓ چنان شاد شد کہ ببانگ بلند تکبیر گفت و تکبیر آں حضرتﷺ و اصحاب رضی اللہ عنہم شنیدند و ہمہ بہ یک بار تکبیر گفتند و باستقبال عمرؓ بیرون آمدند۔ وآنگاه عمرؓ گفت یا رسول اللہﷺ کافران لات و عزیٰ را آشکارا پرستش میکنند چراباید خدائے راپنہانی پرستش کرد پس آہنگ کعبہ کردند۔"

ترجمہ: عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی حضورﷺ! میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ مذہب اسلام قبول کروں یہ کہہ کر کلمہ توحید پڑھا۔ آنحضرتﷺ حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے ایسے خوش ہوئے کہ بلند آواز سے تکبیر کہی۔ آپﷺ کی تکبیر اصحاب رضی اللہ عنہم نے سنی اور سب نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور حضرت عمرؓ کے استقبال کو باہر نکلے۔ اُس وقت حضرت عمرؓ نے عرض کی حضورﷺ کافر تو لات و عزیٰ کی پرستش ظاہر ہو کر کریں ہم خدائے قدوس کی عبادت کیوں چھپ کر کریں؟ پھر انہوں نے کعبہ جانے کا ارادہ کر لیا۔ جب حضورﷺ نے اعلانیہ نماز پڑھنے کی اجازت فرمائی تو مصنف کتاب مذکور لکھتا ہے کہ سب لوگ کعبہ کو اس شان سے چلے کہ "عمرؓ از جانب پیغمبرﷺ و ابوبکرؓ از طرف دیگر و علیؓ از پیش و اصحاب رضی اللہ عنہم ازد نبال رواں شدند و عمرؓ باشمشیر خویش از پیش جملہ ہمی رفت و ازاں سوئے کفار قریشیاں چناں می پنداشتند کہ عمر رضی اللہ عنہ رسولﷺ خدائے را آسیب خواہدر سایند۔ ناگاه دیدند کہ پیش رسول اللہﷺ با شمشیر حمائل کرده می آید۔گفتند ہاں عمرؓ چرچہ گونہ گفت یا رسول اللہﷺ ایمان آوردم و اگر کسے از شما بنا لائقی جنبش کند با ہمیں تیغش کیفر کنم و این شعر گفت"

مالِی أَرَاكُمْ كُلَّكُمْ قَيَامَا

اَلکُھْلَ والشَبَانَ والغُلَامَا

قد بَعَثَ اللَّه لَنَا إِمَامًا

مُحَمَّدُ قَدْ شَرَعَ الإِسْلَامَا

حقا وقد يَكْسِرُ الأَصْنَامَا

نَذُبُّ عَنِ الْحَالَ وَالاعْمَامَا

پس کافراں از عجز در خشم شدند و آہنگ کردند و عمرؓ نیز بہ پشتوانی علیؓ با ایشان در آویختہ آں جماعت از کعبہ بکنار کرد و رسول اللہﷺ دو رکعت نماز بگذاشت و باز بخانہ شد۔ واسلام عمرؓ را بدیگر گونہ روایت کرده اند ہمانا ایں قصہ مختار افتاد و بالجملہ بعد از اسلام بدر خانہ ابوجہل رفت و در بکوفت و ابوجہل چون بانگ ازاں بشنید بیاید و در بگشود و گفت مرحبا و اہلاً ازچہ حاجت مرا یاد کردی و بر اینجا شدی گفت آمدم تاترا آگہی دہم کہ ایمان بخدائے رسولﷺ آوردم ابوجہل در حشم شد در بروئے بست و گفت۔ قَبَّحَكَ اللَّهَ وَ قَبَّحَ مَا جِنتبه 

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ آ نحضرتﷺ کے پہلو میں تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے پہلو میں اور علی رضی اللہ عنہ سامنے اور دیگر اصحاب رضی اللہ عنہم پیچھے روانہ ہوئے اور حضرت عمرؓ اپنی تلوار لیے سب سے آگے چلے، ادھر کفارِ قریش منتظر تھے کہ حضرت عمرؓ حضورﷺ کو ایذا دیں گے۔ ناگاہ انہوں نے دیکھا کہ وہ تو رسول اللہﷺ کی اردل میں تلوار حمائل کئے ہوئے چلے آ رہے ہیں۔ سب نے کہا ہاں عمرؓ تمہاری کیا حالت ہے؟ انہوں نے کہا میں رسول اللہﷺ پر ایمان لایا ہوں اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی نالائقی سے ذرہ بھی کچھ بیجا حرکت کرے گا تو اسی تلوار سے اس کا سر قلم کر دونگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ عربی شعر پڑھے "کیا وجہ ہے کہ میں تم کو یہاں کھڑا ہوا دیکھتا ہوں۔ بوڑھوں، جوانوں اور بچوں کو بھی۔ بالتحقیق خدا نے ہمارے لیے ایک امام مبعوث کیا ہے جس کا اسم گرامی محمدﷺ ہے۔ جس نے سچا دین ہمارے لیے جاری کیا ہے۔ وہ  بتوں کو توڑ دیں گے اور ہم اُن سے اپنے ماموؤں اور چچاؤں کو دور ہٹا دیں گے" 

پس کافر غضبناک ہوئے اور انہوں نے حضرت عمرؓ کے قتل کا ارادہ کیا۔ حضرت عمرؓ نے بامدادِ علیؓ ان سے مقابلہ کر کے ان کو کعبہ سے دور ہٹا دیا اور رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کے ساتھ کعبہ میں دو رکعت نماز ادا کی اور پھر گھر واپس چلے گئے۔ حضرت عمرؓ کے اسلام کو اور لوگوں نے دوسری طرح بیان کیا ہے۔ مگر صحیح یہی روایت ہے۔ حضرت عمرؓ اسلام لانے کے بعد ابوجہل کے گھر گئے، دروازہ کھٹکھٹایا ابوجہل نے دروازہ کھولا اور آؤ بھگت کر کے کہا کہ آپ نے مجھے کیسے یاد کیا اور کس طرح تشریف لائے؟ آپ نے کہا کہ تجھے بتانے آیا ہوں میں خدا اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لے آیا ہوں۔ ابوجہل کو بہت غصہ آیا اور دروازہ بند کر لیا اور کہنے لگا: "خدا تمہارا برا کرے اور جو خبر تم لائے ہو اس کو بھی برا کرے" 

اب جائے غور ہے کہ اسلام لاتے ہی حضرت عمرؓ کی حسنِ عقیدت کا یہ حال ہو گیا تھا کہ دین حق کے پاس میں کفار سے دوبدو ہو گئے اور ان کو للکارا کہ ذرہ برابر بھی رسول پاکﷺ کی شان والا میں بے ادبی سے پیش آؤ گے تو میری تلوار ہے اور تمہارا سر۔ پھر کس بہادری سے ابوجہل جیسے خطرناک دشمنِ دین کے گھر تن تنہا جا کر اسلام کا اعلان کیا۔ کیا ایسی جرأت کوئی شخص کر سکتا ہے؟ پھر حضورﷺ جن کو علوم اولین و آخرین سب معلوم تھے اسلامِ عمرؓ پر اس قدر خوشی کیوں مناتے؟ اگر معلوم تھا کہ بالآخر اس نے اسلام سے پھر جانا ہے اور میرے اہلِ بیت کو تکلیف پہنچانی ہے۔ شیعو! خدارا انصاف کرو۔ اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ‏ 

3: نہج البلاغت صفحہ 187 میں ہے:

وَمِنْ كَلَامٍ عَلَيْهِ السَّلَامِ وَقَدْ شَاوَرَهُ عُمَرَ فِی الخُرُجِ الى غَزْوَةِ الرُّومِ بِنَفْسِهِ وَقَدْ تَوَكَّل الله لاهل هذا الدين باعذاز الحذرة وستر العورة والذى نصرهم وهم قليل لا ينتصرون ومَنَعَهُم وهم قليل لا يمتنعون حی لا یموت انك متیٰ تسر الی هذا العدو بنفسه فتلقهم فتنكب لا تكن للمسلمين كانفة دون أقصىٰ بلادهم ليس بعدك مرجع يرجعون اليه فابعث اليهم رجلا مُجرَّبًا واخْفِر معه اهل البلاء والنصيحة فان اظهر الله فذاك ماتحب وان تكن الأخرىٰ كنت رد اللناس ومثابة للمسلمين.

ترجمہ: جب خلیفہ ثانی عمرؓ نے روم پر چڑھائی کی اور حضرت علیؓ سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا۔ نواحی اسلام کو غلبہ دشمن سے بچانے اور مسلمانوں کی شرم رکھنے کا اللہ ہی کفیل ہے۔ وہ ایسا خدا ہے جس نے انہیں اس وقت فتح دی ہے جب اُن کی تعداد نہایت قلیل تھی اور کسی طرح فتح نہیں پا سکتے تھے۔ انہیں اس قت مغلوب ہونے سے روکا ہے جب یہ کسی طرح روکے نہیں جا سکتے تھے سکتے تھے اور وہ خداوند عالم حی لا یموت ہے اب اگر تو خود دشمن کی طرف کوچ کرے اور تکلیف اُٹھائے تو یہ سمجھ لے کہ پھر مسلمانوں کو ان کے اقصائے بلاد تک پناہ نہ ملے گی اور تیرے بعد کوئی ایسا مرجع نہ ہو گا جس کی طرف وہ رجوع کریں۔ لہٰذا تو دشمنوں کی طرف اس شخص کو بھیج جو کار آزمودہ ہو۔ اس کے ماتحت ان لوگوں کو روانہ کرو جو جنگ کی سختیوں کے متحمل ہوں اور اپنے سردار کی نصیحت کو قبول کریں اب اگر خدا غلبہ نصیب کرے گا تب تو وہ چیز ہے جسے تو دوست رکھتا ہے اور اگر اس کے خلاف ظہور میں آیا تو تو ان لوگوں کا مددگار اور مسلمانوں کا مرجع تو موجود ہے۔ (نیرنگ فصاحت: صفحہ 19)

ہم نے جناب امیر کے عربی کلام کا ترجمہ شیعہ کی کتب نیرنگ فصاحت سے لیا ہے تاکہ ان کو یہ عذر نہ ہو کہ ترجمہ میں کچھ دست اندازی کی گئی ہے۔ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے اس کلام سے حسب ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

1: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر پورا اعتماد و بھروسہ تھا اور باہمی کامل اتحاد تھا کہ ہر ایک معاملہ میں ان سے مشورہ لیا جاتا تھا ورنہ یہ مسلّم ہے کہ کوئی شخص اپنے دشمن سے ایسے اہم معاملہ میں ہرگز مشورہ نہیں لیا کرتا۔

2: حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عمرؓ کو مسلمانوں کا ملجاء و ماویٰ سمجھتے تھے اور ان کو کچھ صدمہ پہنچانا صدمہ اسلام تصور فرماتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ نے حضرت عمرؓ کو یہ مشورہ نہ دیا کہ اس مہم میں بذات خود معرکہ کارزار میں جائیں اگر خدانخواستہ باہمی کدورت ہوتی اور حضرت علیؓ حضرت عمرؓ کے خیر خواہ نہ ہوتے تو یہ مشورہ کیوں دیتے کہ آپ لڑائی میں نہ جائیں تاکہ کوئی صدمہ نہ پہنچ جائے بلکہ ان کی تو یہ خواہش ہونی چاہیے تھی کہ یہ خود وہاں جائیں۔ ان کا وہاں کام تمام ہو اور آپ کے لیے جگہ خالی ہو۔ غرض جناب امیرؓ کا یہ مشورہ دینا کہ آپ میدان جنگ میں نہ جائیں بلکہ آزمودہ کار جرنیل کو بھیج دیں اس کا بین ثبوت ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عمرؓ کے صادق الوداد دوست تھے۔

3: حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عمرؓ کی کامیابی کو کامیابی اسلام تصور کرتے تھے اس لیے ان کو تسلی دی کہ ایزد متعال تمہارا اور مسلمانوں کا خود حافظ و ناصر ہے جب مسلمان تھوڑے تھے اس وقت بھی ان کی حفاظت فرمائی اور اب تو خدا کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد کثیر ہے پھر اس کی تائید و نصرت پر کیوں بھروسہ نہ کیا جائے۔ جناب امیرؓ کے کلام سے یار لوگوں کی اس گھڑت کی بھی تردید ہوتی ہے کہ مسلمان بعد وفاتِ رسولﷺ صرف تین چار ہی رہ گئے تھے۔ ایسا ہوتا تو آپ یوں فرماتے کہ پہلے مسلمانوں کی تعداد کثیر تھی، اب گنتی کے چند آدمی مسلمان رہ گئے ہیں، ان کو اس مہم پر بھیجو تو فتح ہو گی ورنہ شکست۔

4: نہج البلاغت: صفحہ 197 میں دوسرا خطبہ جناب امیرؓ:

وَمِنْ كَلامهُ عَلَيْهِ السَّلامُ لِعُمَرَ بْنُ الْخَطَابِ وَقَدِ اشْتَشَارَهُ فِی غَزْوَةِ الْفرس بِنَفْسِهِ إِنَّ هَذَا ل٘اَمْرَ لَمْ يَكُنُ نَصْرُرَهُ وَلِاخِذُ لانهُ بِكَثُرَةٍ وَلَا بِقِلَّةٍ وَهُوَ دِينُ اللَّهِ الَّذِی أَظْهَرَهُ وَجُندَهُ الَّذِی أَعَدَّهُ وَاَمَدَّهُ حَتّى بَلَغَ مَا بَلَغَ وَطَلَعَ حَيْثُ مَا طَلَعَ وَنَحْنُ عَلىٰ مُوعُودٍ مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ مُنْجِزُ وَعْدِهٖ وَنَاصِرُ جُنْدِهٖ وَمَكَانُ الْقَيِّمِ بالامْرِ مَكَانَ النِّظَامِ مِنَ الْحَرَّذِ يَجْمَعَهُ وَيَضُمُّهُ فَإِذَا انقَطَع النَّظَامُ تَفَرَّقَ الْحَرَذ وَ ذَهَبَ ثُمَّ لَمْ يَجْتَمَعَ بِحَذَافِيُرِهِ أَبَدٌ اولعَرَبُ الْيَوْمَ وَإِنْ كَانُو قَليْلاً فَهُمْ كَثِيرُونَ بِاالْإِسْلام وَ غَرِيزُونَ بِا الاجْتِماعِ فَكُنْ قُطْبًا وَاسْتَدِرِ الرُّحَى با الْعَرْبِ و أصْلِهِمْ دُونَكَ فَارَ الْحَرْب فَإِنَّكَ إِنْ شَخَصَّتَ مِنْ هَذِهِ الأرْضِ انتَقضَت عَلَيْكَ الْعَرجُبُ مِنْ الطرافها وأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ مَا تَدْعُ وَرَاءَكَ مِنَ الْعَوْرَاتِ أَهْمَ إِلَيْكَ مِمَّا بَيْنَ يَدَيْكَ إِنَّ الاعَاجَمَ إِنْ يَنْظُرُو إِلَيْكَ غَذَا يَقُولُوا هَذَا أَصَلُ الْعَرْبِ فَإِذَا اقْتَطَعْتُمُوهُ اسْتَرَحُتُمُ فَيَكُونَ ذَلِكَ أَشَدَّ لِكَلْبِهِمُ عَلَيْكَ وطَمُعِهِمْ فِيْكَ فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ من مَسِيرِ الْقَوْمِ إِلى قِتَالِ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّ اللَّهُ سُبْحَانَهُ هُوَ اكْرَهُ لِمُسِيرهِمْ مِنْكَ وَهُوَ أَقدُدس عَلىٰ تَغْيِيرِ مَا يَكُرَهُ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ عَدَدِهِمْ فَإِنَّا لَمْ يَكُنُ نُقَاتِلُ فِيمَا مضى بالكثرة إِنَّمَا نُقَاتِلُ بِالنَّصْرِ وَالمَعُونَةِ 

ترجمہ: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غزوہ فارس میں بذات خود جانا چاہا اور امیر علیہ السلام سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا دین اسلام کا غالب آنا اور مغلوب ہو جانا کچھ سپاہ کی کثرت و قلت پر موقوف نہیں ہے یہ اسلام اس خدا کا دین ہے جس نے اس کو تمام ادیان و مذاہب پر غالب کیا ہے اور لشکر اسلام اس خدا کی فوج ہے جس نے اس کی ہر جگہ نصرت و تائید کی اور اب ایک بلند مرتبہ پر پہنچا دیا۔ ان کا آفتاب وہاں سے طلوع ہوا جہاں سے طلوع ہونا تھا۔ ہم لوگ اس وعدہ خداوندی پر کامل یقین کے ساتھ راسخ القدم ہیں جو اُس نے غلبہ اسلام کے بارے میں فرمایا۔ بیشک وہ اپنے وعدوں کا وفا کرنے والا ہے۔ وہ اپنی سپاہ کا مددگار ہے۔ دین اسلام کے پیشوا مختار کار (خلیفہ) کا مرتبہ رشتہ مروارید کی مثل ہے۔ جو موتی کے دانوں کو ایک نظام میں منسلک رکھتا ہے۔ اگر رشتہ ٹوٹ جائے تو تمام دانے متفرق ہو کر بکھر جاتے ہیں۔ پھر اجتماع کامل مشکل ہے۔ آج کے روز اہلِ عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن شوکت اسلام انہیں کثیر ظاہر کر رہی ہے۔ یہ اپنے اتفاق و اجتماع کی وجہ سے یقیناً دشمن پر غالب ہونگے۔ تم ان کے لیے قطب آسیا ہو اور آسیائے جنگ کو گروہ عرب کے ساتھ گردش دو اور اپنے سوائے کسی دوسرے شخص کے ماتحت بنا کر آتش جنگ کو برافروختہ کرو کیونکہ اگر تم مدینہ سے باہر چلے گئے تو عرب کے تمام قبائل اطراف و اکناف سے یک لخت ٹوٹ پڑیں گے۔ اس وقت پیچھے رہنے والی مستورات کی حفاظت تم پر اس چیز سے زیادہ مقدم ہو جائے گی جو تمہارے سامنے (جنگ) موجود ہے۔

دوم: یہ کہ اہلِ ایران تجھے دیکھیں گے تو کہیں گے۔ بس یہی ان عربوں کا سردار ہے۔ اگر اس کا کام تمام کر دو تو پھر تمہیں ہر طرح سے آرام ہے۔ بیشک یہ اقوال تمہاری لڑائی پر انہیں حریص کر دیں گے اور تمہاری گرفتاری کی از حد طمع کریں گے اور یہ جو تم نے کہا ہے کہ ایرانی فوج مسلمانوں پر چڑھائی کر رہی ہے۔ سو پرودگار عالم ان کی اس حرکت کو تم سے زیادہ مکروہ سمجھتا ہے اور وہ بیشک جس امر سے کراہت رکھتا ہے اس کی تغیر پر پورا پورا قادر ہے۔ اور یہ بات کہ حملہ آور کی تعداد زیادہ ہے سو یہ خیال کرو کہ ہم گروہ اصحاب رضی اللہ عنہم عہد پیغمرﷺ میں کبھی دشمن کے ساتھ کثیر التعداد لشکر لے کر جنگ نہیں کی بلکہ ہمیشہ خداوند کریم کی نصرت و معونت ہمارے شامل حال رہی ہے اور اب صرف اُسی کی نصرت و امداد کے بھروسہ پر کفار سے قتل و قتال کرتے رہے ہیں۔ (نیزنگ فصاحت: صفحہ 200، 201)

جناب امیرؓ کے فصیح و بلیغ خطبے میں (قیمتی مشورہ) آفتاب نمیروز کے طرح روشن ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہم شیر و شکر تھے۔ دونوں کو ایک دوسرے پر مکمل اعتماد و بھروسہ تھا اس میں بھی غزوہ روم کی طرح جب امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اسداللہ الغالب سے مشورہ طلب کیا تو آپ نے کمال خیر خواہی سے ان کو یہی مشورہ دیا کہ آپ بذات خود معرکہ کارزار میں تشریف نہ لے جائیں ایسا نہ ہو کہ ایرانی آپ کو لشکر اسلام کا قائد اعظم سمجھ کر یکبارگی ٹوٹ پڑیں آپ کو نقصان پہنچانے کی سعی کریں، اگر خدا نخواستہ باہمی دشمنی ہوتی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خوب موقعہ ہاتھ آ گیا تھا۔ یہی صلاح دیتے کہ تم خود لڑائی پر جاؤ تاکہ تم وہاں مارے جاو اور خلافت کی گدی ہمارے لیے خالی ہو آپ کا یہ فرمانا كہ مكان القيم بالامر مكان النظام من الخرز صاحب

قاموس: جلد 3، صفحہ 92 میں ہے۔ قیم الامر المصلح لہ والقرآن والنبی والخلیفہ وقائد الجند، قیم الامروہ ہے جو اس امر کا مصلح ہو۔ قرآن نبی اور خلیفہ اور سالار لشکر پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ گویا جناب امیر کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو امر (اسلام) کا قیم فرمانا ان کی خلافت کا اعتراف صریح ہے

خلیفہ کی مثال رشتہ مروارید کی سی ہے۔ رشتہ ٹوٹ جائے تو موتی بھی کہیں کے کہیں بکھر جاتے ہیں۔ تو اس امر پر ناطق فیصلہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عمرؓ کو برحق خلیفہ سمجھتے تھے، ورنہ یہ مثال کیوں دیتے؟ شیر خدا کی نگاہ میں فاروق اعظمؓ کی ذات باعث بقاءِ اسلام و اسلامیان تھی اور آپ پر صدق دل سے آپ کی سلامتی جان کے متمنی تھے۔

3: آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آسیائے اسلام کا قطب اور محور قرار دیا۔ اس سے زیادہ واضح دلیل اس امر کی کیا ہو سکتی ہے کہ آپ حضرت عمرؓ کو سچا خلیفہ رسول اور پیشوائے اسلام سمجھتے تھے۔ غرض اس خطبہ کا لفظ لفظ فاروق اعظمؓ کی تعریف سے پُر ہے۔ پھر حضرات شیعہ کو شرم کرنی چاہیے کہ جس شخص کی تعریف حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرمائیں اس کو منافق کہو۔ شرم! شرم!! شرم !!!

5: اصول کافی: صفحہ 296 میں ہے۔

عَنْ أَبی جَعْفَر علیہ السلام قَالَ لَمَّا قَدِمتُ بِنتَ يَزدجر عَلَى عُمَرَ أَشْرَفَ لَهَا عَذرَى الْمَدِينَةِ وَاشْرَق الْمَسْجِدِ بِضَولِهَا لَمَّا دَخَلْتُهُ نَلَمَا نَظَرَ إِلَيْهَا عُمَرُ غَطَّتُ وَجهَهَا وَقَالَتْ افِيُروج بِإِذْهُر مُز فَقَالَ عُمَرُ الشتِمُنِی هَذِهِ وَهَمَّ بِهَا حَسْبِهَا بِفَينِهِ وَخَيَّرَهَا فَجَائت حَتَّى وَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رأس الْحُسَيْن فَقَالَ امِير الْمُؤْمِنِينَ مَا اسْمُك فَقَالَتْ جَهَان شاه فَقَالَ لَهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بَلْ شَهْرُ بَانُويَهُ ثُمَّ قَالَ لِلْحُسَيْنِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ لَيَلِدَنَّ مِنْهَا خَيّر اهْل الْأَرْضِ فَوَلَدَ على ابن حُسَيْن 

ترجمہ: امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے یزدگرد (شاہ ایران) کی بیٹی (مال غنیمت) میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تو مدینہ کی کنواری لڑکیاں اس کو دیکھنے کے لیے آئیں اور جب وہ مسجد میں داخل ہوئیں تو مسجد ان کی روشنی سے چمکنے لگی۔حضرت عمرؓ نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا۔ "افروج باذاہرمز" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ کیا یہ مجھے گالی دیتی ہے؟ اور اس کو سزا دینے کا ارادہ کیا۔ تو امیرالمومنینؓ نے کہا کہ ایسا آپ کو نہ چاہیے۔آپ اس کو اختیار دیجیے کہ جس مسلمان کو چاہے پسند کرے اور اس کو اسی کے حصہ میں سمجھ لیجیے۔ تو حضرت عمرؓ نے اس کو اختیار دے دیا۔ اس نے جا کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ امیرالمومنینؓ نے پوچھا۔ تمہارا نام کیا ہے؟ اُس نے کہا "جہان شاہ" امیرالمومنینؓ نے فرمایا نہیں بلکہ! شہربانو۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابو عبداللہ اس سے تمہارا ایک فرزند پیدا ہو گا جو تمام روئے زمین کے لوگوں سے بہتر ہو گا چنانچہ زین العابدین پیدا ہوئے۔ اس حدیث سے حسبِ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

1۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ خلافت میں ہمیشہ باریاب رہتے تھے اور مال غنیمت میں، جو فتوحات عمر رضی اللہ عنہ سے حاصل ہوتا تھا برابر حصہ لیتے تھے۔

2۔ حضرت عمرؓ کو حضرت علیؓ اور آپ کے شہزادہ حضرت حسینؓ سے اس قدر محبت تھی کہ آپ نے شاہی خاندان کی ایک پری جمال خاتون (شہزادی شہر بانو) حضرت حسینؓ کو بخشدی، جو تمام سادات کی جَدّہ علیا ہے۔

3: جناب امیرؓ حضرت عمرؓ کی خلافت کو جائز خلافت اور آپ کو برحق خلیفہ سمجھتے تھے۔ اسی لیے یہ عطیہ قبول کیا۔ ورنہ ایک کافر یا منافق کی فتوحات کا مال غنیمت ایک متقی متورّع مسلمان کو اپنی ذات و اولاد کے لیے لینا ہرگز جائز نہیں ہے۔