سبعہ احرف
مولانا محمد الیاس گھمنحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ
(صحیح البخاری: جلد، 2 صفحہ، 747 باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف)
ترجمہ: یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے، پس جو ان میں سے تمہارے لیے آسان ہو، اس طریقے پر پڑھا کرو۔
یہ حدیث متواتر ہے یہ حدیث معنیٰ کے اعتبار سے متواتر ہے۔ چنانچہ حدیث و قراءت کے معروف امام علامہ محمد بن محمد الجزری رحمۃ اللہ (متوفی 833ھ) فرماتے ہیں:
مشہور محدث امام ابو عبید قاسم بن سلام رحمۃ اللہ نے اس کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے اور فرماتے ہیں:
میں نے ایک مستقل جزء میں اس حدیث کے تمام طرق جمع کیے ہیں، ان کے مطابق یہ حدیث 19 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہے۔
(النشر فی القراءت العشر لابن الجزری: صفحہ، 24)
امام ابو یعلی الموصلیؒ نے اپنی مسند کبیر میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منبر پر اعلان فرمایا: وہ تمام حضرات کھڑے ہو جائیں جنہوں نے آپﷺ سے یہ حدیث سنی ہو:
إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهَا شَافٍ كَافٍ
ترجمہ: کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل کیا گیا ہے، جن میں ہر ایک شافی اور کافی ہے۔
چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی اتنی بڑی جماعت کھڑی ہو گئی جسے شمار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس پر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی ان کے ساتھ گواہی دیتا ہوں۔
(النشر فی القراءت العشر لابن الجزری: صفحہ، 24)
سبعہ احرف سے مراد: حدیث میں حروف کے اختلاف سے مراد قراءتوں کا اختلاف ہے اور سات حروف سے مراد اختلافِ قراءت کی سات نوعیتیں ہیں، چنانچہ قراءتیں تو اگرچہ سات سے زائد ہیں لیکن ان قراءتوں میں جو اختلاف پائے جاتے ہیں وہ سات اقسام میں منحصر ہیں۔ یہ قول امام مالک رحمۃ اللہ، امام ابو الفضل رازیؒ، قاضی ابو بکر بن الطیب باقلانیؒ اور ابنِ جزریؒ کا ہے۔
(فتح الباری لابن حجر: جلد، 1 صفحہ، 36، 38 تفسیر القرطبی: جلد، 1 صفحہ، 28، 29 النشر فی القراءات العشر: جلد، 1 صفحہ، 28)
حتیٰ کہ محقق ابنِ جزریؒ جو فنِ قراءۃ کے مشہور امام ہیں، اس قول کو بیان کرنے سے قبل فرماتے ہیں:
وَلَا زِلْتُ أَسْتَشْكِلُ هَذَا الْحَدِيثَ وَأُفَكِّرُ فِيهِ وَأُمْعِنُ النَّظَرَ مِنْ نَيِّفٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَی بِمَا يُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ صَوَابًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ
(النشر فی القراءات العشر: جلد، 1 صفحہ، 28)
ترجمہ: کہ میں اس حدیث کے بارے میں اشکالات میں مبتلا رہا اور اس پر تیس سال سے زیادہ غور و فکر کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس کی ایسی تشریح کھول دی جو ان شاء اللہ صحیح ہو گی۔
یہ سب حضرات اس بات پر تو متفق ہیں کہ حدیث میں سات حروف سے مراد اختلافِ قراءت کی سات نوعیتیں ہیں لیکن پھر ان نوعیتوں کی تعیین میں ان حضرات کے اقوال میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک نے قراءت میں اختلاف کی نوعیتوں کا استقرء اپنے طور پر الگ الگ کیا ہے مگر سب سے زیادہ منضبط، مستحکم اور جامع مانع قول امام ابو الفضل رازی رحمۃ اللہ کا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ قراءت کا اختلاف سات اقسام میں منحصر ہے۔
1: اسماء کا اختلاف جس میں افراد، تثنیہ، جمع، اور تذکیر و تانیث دونوں کا اختلاف داخل ہے۔ اس کی مثال سورۃ الانعام آیت 115
تَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ ۞
ہے جو ایک قراۃ میں
وَتَمَّتْ كَلِمَاتُ رَبِّكَ بھی پڑھا گیا ہے۔
2: افعال کا اختلاف کہ کسی قرآۃ میں صیغہ ماضی ہو، کسی میں مضارع اور کسی میں امر۔ اس کی مثال سورۃ سباء آیت 19
رَبَّنَا بٰعِدۡ بَيۡنَ اَسۡفَارِنَا ۞
ہے، کہ ایک قراۃ میں اس کی جگہ
رَبُّنَا بَعِدَ بَيْنَ أَسْفَارِنَا بھی آیا ہے۔
3: وجوہِ اعراب کا اختلاف کہ جس میں اعراب یا حرکات مختلف قراءتوں میں مختلف ہوں اس کی مثال سورۃ البقرۃ آیت 282
وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ ۞اور وَلَا يُضَارُّ كَاتِبٌ اور سورۃ البروج آیت 15
ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ ۞اور ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدِ
4: الفاظ کی کمی بیشی کا اختلاف، کہ ایک قرآۃ میں کوئی لفظ کم اور دوسری میں زیادہ ہو مثلاً سورۃ اللیل آیت 3 کی ایک قرآۃ میںوَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰٓى ۞
ہے اور دوسری میں وَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثٰى ہے اور اس میں وَمَا خَلَقَ کا لفظ نہیں ہے،
اس طرح سورۃ توبہ آیت 100 کی ایک قرآۃ میں
تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ۞
اور دوسری میں تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ ۞
5: تقدیم تاخیر کا اختلاف، کہ ایک قرآۃ میں کوئی لفظ مقدم اور کوئی مؤخر ہو، مثلاً سورۃ ق آیت 19
وَ جَآءَتۡ سَكۡرَةُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ ۞اور وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْحَقِّ بِالْمَوْتِ
6: بدلیت کا اختلاف، کہ ایک قرآۃ میں ایک لفظ ہے اور دوسری قرآۃ میں اس کی جگہ دوسرا لفظ۔ مثلاً سورۃ البقرۃ آیت 259
وَانْظُرۡ اِلَى الۡعِظَامِ كَيۡفَ نُنۡشِزُهَا ۞ میں لفظ نُنۡشِزُهَا اور نَنْشُرُهَا
نیز سورۃ الحجرات آیت 6
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا ۞
میں لفظ فَتَبَيَّنُوۡۤا اور فَتَثَبَّتُوْا
اور سورۃ الواقعہ آیت 29
وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍۙ ۞
میں لفظ طَلۡحٍ اور طَلْعٍ
7: لہجوں کا اختلاف جس میں تفخیم، ترقیق، امالہ، قصر، مد، اظہار اور ادغام وغیرہ کے اختلافات شامل ہیں۔ مثلاً مُوْسیٰ ایک قراءۃ میں اِمالہ کے ساتھ ہے اور اسے مُوْسَیْ کی طرح پڑھا جاتا ہے اور دوسری میں بغیر امالہ کے ہے۔
ڈاؤن لوڈ