Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عشور

  علی محمد الصلابی

اس سے مراد اندرون ملک یا بیرون ملک تجارت سے حاصل شدہ اموال ہیں، جن کی حیثیت عصر حاضر میں کسٹم محصولات جیسی ہوا کرتی تھی، انہیں ایک سرکاری ملازم وصول کیا کرتا تھا جسے ’’عاشر‘‘ یعنی عشور وصول کرنے والا کہا جاتا تھا۔

(الخراج لابی یوسف: صفحہ 271۔ اقتصادیات الحرب: صفحہ 223)

اسلام میں سب سے پہلے نظام عشور وضع کرنے والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے اسے حربی پر عشر، ذمی پر نصف عشر اور مسلمان پر ربع عشر کی نسبت سے عائد کیا

(کتاب الاموال لابی عبید: صفحہ 475، 476)

اور نظام مندرجہ ذیل قواعد کے مطابق اموی عہد حکومت میں بھی جاری رہا:

ا: راس المال کی کم از کم حد قابل معافی تھی، جو کہ مسلمان کے لیے دو سو درہم تھی،

(الخراج لابی یوسف: صفحہ 276)

جہاں تک اس حوالے سے حربی اور ذمی کا تعلق ہے، تو اس بارے اختلاف وارد ہوا ہے۔

(الاموال لابی عبید: صفحہ 477)

ب: عشر سال میں صرف ایک بار وصول کیا جائے گا۔

ج: مسلمان کے چوپائے جانوروں سے عشر وصول کرنے کی شرط یہ تھی کہ وہ کھلے چرنے والے ہوں۔

د: عشور غلام، مکاتب اور مضارب سے وصول نہیں کیا جائے گا، وہ صرف مال کے مالک سے وصول کیا جاتا تھا۔

(الخراج لابی یوسف: صفحہ 274) 

ھ: تاجر سے عشر وصول کرنے کے بعد اسے رسید جاری کی جائے گی اور پھر اس کی بنیاد پر اس سے آئندہ سال عشر وصول کیا جئے گا۔

(الاموال لابی عبید: صفحہ 475)

و: تاجر سے نہ تو تفتیش کی جائے گی اور نہ اس پر سختی کی جائے گی۔

(الخراج لابی یوسف: صفحہ 275۔ التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 80+

ز: جو تاجر اس قدر قرضے کا دعویٰ کرے جس کی ادائیگی پر اس کے پاس موجود مال تجارت ختم ہو جاتا ہو تو مسلمان ہونے کی صورت میں اس کی تصدیق کی جائے گی اور شک گزرنے کی صورت میں اس سے حلف لیا جائے گا۔ (اس بارے اختلاف وارد ہے) 

(الاموال لابی عبید: صفحہ 480، 481)

رہا ذمی تو اس کے بارے میں زیادہ صائب قول یہ ہے کہ اگر اس کے حق میں دو مسلمان گواہی دے دیں تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔

(ایضاً، صفحہ 479۔ التطور الاقتصادی: صفحہ 80)

ح: مسلمان کے مال سے زکوٰۃ اور عشور ایک ساتھ وصول نہیں کیے جا سکتے۔

(الخراج لابی یوسف: صفحہ 237)

ط: اگر کوئی غیر مسلم کوئی ایسا مال لے کر گزرے جو ان کے نزدیک تو مال ہے مگر وہ مسلمانوں کے نزدیک مال نہیں ہے مثلاً شراب، خنزیر اور ان جیسی دیگر اشیاء، تو غیر مسلم اس کی قیمت کا تعین کریں گے اور پھر اس قیمت کو اس کے پاس موجود دوسرے مال تجارت کی قیمت کے ساتھ ملا کر اس سے عشور وصول کیا جائے گا۔

(ایضاً: 273)

کچھ ایسے دلائل موجود ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس دور میں عشور ملکی آمدن کا بڑا اہم جز تھا۔ مثلاً جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایک سال کے لیے عشور کی وصولی سے منع کیا تو اس کے نتیجے میں ریاستی آمدن میں کمی واقع ہو گئی تھی۔ جس کی وجہ سے انہیں اپنا یہ حکم واپس لینا پڑا۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 80)