Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

انتباہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

دونوں آیات متذکرہ بالا اس امر کی شاہد ہیں کہ آنحضرتﷺ کے ساتھیوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ایسی محبت و الفت اور ایک دوسرے سے پیار تھا جو کبھی زائل ہونے والا نہ تھا، ان کی محبت دنیا داروں کی ظاہری محبت نہ تھی بلکہ خدا کی عطا شدہ صادق قلبی مودت تھی جس کا نقش لوحِ دل سے مٹنا مشکل تھا۔ اس الفت و محبت کو اگر کوئی قیمتاً خرید کرتا تو زمین و مافیہا کے مخفی خزانے بھی اس کے سامنے ہیچ تھے۔ یہ تو الٰہی شہادت ہے لیکن شیعہ صاحبان اس کے خلاف یہ کہتے ہیں کہ اور تو اور حضورﷺ کے خاص الخاص اصحاب و احباب کے دل بھی صاف و شفاف نہ تھے بلکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کینہ و حسد دل میں رکھتے تھے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ اصحاب ثلاثہؓ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیر تھا اور علی المرتضیٰؓ کو ان سے خصومت، پھر قارئین کرام خود ہی انصاف کریں کہ شیعہ کو سچا جانیں یا قولِ خدا پر ایمان لائیں؟ بہر حال قولِ خدا سچا ہو گا اور شیعہ جو ان کے خلاف بہتان باندھتے ہیں بشہادت قرآن غلط اور جھوٹ ہے۔ فَاعۡتَبِـرُوۡا يٰۤاُولِى الۡاَبۡصَارِ‌ 

9: لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ اللّٰهِ‌ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞

(سورۃالمجادلہ: آیت 22)

ترجمہ: جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش کر دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں۔ یہ اللہ کا گروہ ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے۔ 

اس آیت میں مخلص مؤمنین کی پڑتال کا ایک عمدہ معیار حق سبحانہ و تعالیٰ نے بتلا دیا ہے وہ یہ کہ اس مخلص جماعت کی پہچان یہ ہے کہ اعداء خدا اور رسولﷺ سے کبھی دوستی نہ کریں گے اگرچہ کیسے ہی ان کے اقرباء کیوں نہ ہوں، اب ہم اصحابِ ثلاثہؓ کو اس کسوٹی پر رکھ کر پرکھ سکتے ہیں۔ تاریخِ اسلام شاہد ہے۔ "الْحُبُّ لِلهِ وَالْبَغْضُ لِلهِ" انہی حضرات کا خاصہ و لازمہ تھا اور اس امتحان میں یہ حضرات ایسے پورے نکلے کہ دوست، دشمن اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ اسلام کے معاملہ میں کبھی قرابت اور محبت کا اثر ان کے دلوں پر غالب نہیں آ سکتا تھا۔ جنگِ بدر میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے عاص بن ہشام بن مغیرہ جو قریش کا ایک معزز سردار تھا اور آپؓ کا حقیقی ماموں تھا قتل ہوا بلکہ آپ نے قیدیوں کے معاملہ میں رائے دینے کے وقت پکار کر کہہ دیا تھا کہ اسلام کے معاملہ میں قرابت اور رشتہ کو کیا دخل ہے؟ ہم میں سے ہر ایک شخص اپنے عزیز کو خود قتل کرے اس طور پر کہ علیؓ، عقیل کو قتل کر دیں اور حمزہ، عباس کو اور میں اپنے فلاں عزیز کی گردن اپنے ہاتھ سے ماروں۔ 

(دیکھو تاریخ طبری: صفحہ 1300) 

اس سے بڑھ کر اس امر کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ فاروق اعظمؓ نے اپنے بیٹے تک کا شرعی حد کے اجراء میں لحاظ نہیں فرمایا تھا اور اس کو درے لگائے تھے۔ "سبحان اللہ و بحمدہ" انہی کارگزاریوں اور دین حق کی سچی تابعداری کے بدلے میں ہی تو یہ حضرات مقبول درگاہ ایزدی ہو کر دنیوی اور اخروی اعزاز کے مستحق ہو گئے۔ کیا شیعہ صاحبان کوئی معتبر شہادت اس کے برخلاف پیش کر سکتے ہیں کہ اسلام کے بارہ میں ان لوگوں کے دلوں پر قرابت اور رشتہ داری کا لحاظ بھی عمر بھر میں ایک دفعہ مستولی ہوا تھا؟ کسی دشمنِ خدا اور رسولﷺ کے ساتھ انہوں نے یارانے گانٹھ لیے ہوئے تھے؟ کبھی بھی نہیں پیش کر سکیں گے، پھر اس آیت میں اس امتحان کے پاس شدگان کی نسبت الٰہی شہادت دیکھو کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ نے ایمان کو نقش کر دیا ہے جو کبھی محو نہیں ہو سکتا، روح الغیب سے ان کو مدد ملی اور قیامت میں بہشت کی نعمت جلیلہ حاصل کریں گے، ان کو خوشنودی کے سرٹیفکیٹ عطا ہو چکے پھر ان کے ایمان اور فضیلت میں شک کرنے والے صاف تکذیبِ قرآن کرتے ہیں۔