جنگ صفین
علی محمد الصلابیجنگ صفین ان بڑے واقعات میں سے ہے جن کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کے عہد میں مشاہدہ کیا تھا، سیدنا حسنؓ کو امیر المؤمنین علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین تعلقات کا تفصیلی علم تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عہد فاروقی و عہد عثمانی میں شام کے گورنر تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سیدنا علیؓ نے انھیں معزول کرکے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو گورنر بنانا چاہا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے قبول نہ کیا بلکہ معذرت کی اور اپنے مابین قرابت اور سسرالی رشتہ کا ذکر کیا۔
(المصنف لابن أبي شیبۃ: جلد 7 صفحہ 472، اس کی سند صحیح ہے۔)
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے ان پر لازم نہ قرار دیتے ہوئے ان کی معذرت قبول کرلی۔
ایسی روایتیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے الگ تھلگ ہوجانے اور ساتھ نہ دینے پر امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی ان سے جھڑپ ہوگئی، تو ایسی روایتیں محرف اور جھوٹی ہیں۔
(استشہاد عثمان و وقعۃ الجمل: خالد الغیث: صفحہ 160)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی شام کی گورنری کا ماحصل وہی ہے جسے امام ذہبیؒ نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے روایت کیا ہے، عمر بن نافع اپنے والد نافع سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے میرے پاس یہ پیغام بھیجا: اے ابو عبد الرحمٰن اہل شام آپ کی بات مانتے ہیں، میں نے آپ کو ان کا گورنر بنا دیا ہے اس لیے آپ وہاں چلے جایے، تو میں نے کہا: میں اللہ کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قربت و صحبت کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ مجھے چھٹکارا دے دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ مانے، پھر میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا واسطہ استعمال کیا پھر بھی نہ مانے تو میں راتوں رات مکہ چلا گیا۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 224، اس کے رجال ثقہ ہیں۔)
یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا علیؓ کی بیعت کرکے آپ کی اطاعت قبول کرچکے تھے ورنہ بیعت نہ کرنے کی صورت میں سیدنا علیؓ انھیں گورنر کیسے بناتے؟ شام کی گورنری سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی معذرت کے بعد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے ان کے بدلے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، وہ حدود شام پر پہنچے ہی تھے کہ انھیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سواروں نے روک لیا اور کہا: اگر آپ کو عثمان رضی اللہ عنہ نے بھیجا ہے تو ہم آپ کا استقبال کرتے ہیں، اور اگر کسی دوسرے نے بھیجا ہے تو لوٹ جائیں۔
(تہذیب تاریخ دمشق: جلد 4 صفحہ 39، خلافۃ علی بن أبی طالب: صفحہ 110 عبدالحمید)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مظلومانہ قتل پر شام والوں کا غیظ و غضب ابال کھا رہا تھا، ان کے پاس سیدنا عثمانؓ کی خون آلود قمیص اور آپ کی بیوی نائلہ کی آپؓ کے دفاع میں کٹی ہوئی انگلیاں پہنچ چکی تھیں، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ بڑا ہی درد ناک تھا، اس نے شعور و احساس اور دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔
انھیں مدینہ، مدینہ پر شورش کرنے والوں کے قابض ہوجانے، اور بنی امیہ کے مکہ چلے جانے کی خبریں پہنچتی رہیں، اس طرح کے حالات و واقعات نے اہل شام اور سرفہرست سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو متاثر کیا، ان کا خیال تھا کہ قاتلین عثمان سے بدلہ کی ذمہ داری انھی پر ہے، وہی سیدنا معاویہؓ کے ولی دم ہیں، اللہ کا فرمان ہے:
وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞
(سورۃ الإسراء آیت 33)
ترجمہ: اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہوجائے تو ہم نے اس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقیناً وہ اس لائق ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔
اسی لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اکٹھا کرکے ان سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں خطاب کیا کہ وہ ظلماً ان بے وقوف منافقوں کے ہاتھوں قتل کردیے گئے جنھوں نے خون حرام کا احترام نہ کیا، بلکہ بلد حرام اور حرمت والے مہینہ میں اسے بہا دیا، نتیجتاً لوگ برانگیختہ ہوگئے، ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں، ان میں سے چند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ تھے، چنانچہ مرہ بن کعب نامی صحابی اٹھے اور کہا: اگر میں نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ سنی ہوتی تو گفتگو نہ کرتا، آپ نے فتنوں اور ان کی قربت کا تذکرہ کیا، اسی وقت کپڑوں میں لپٹے ایک شخص کا گزر ہوا تو آپ نے کہا: یہ اس وقت ہدایت پر ہوں گے، میں ان کے پاس گیا تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کی جانب متوجہ ہو کر کہا: آپ ہیں؟ کہا: ہاں۔
(صحیح سنن: ابن ماجۃ: جلد 1 صفحہ 24)
ایک دوسری حدیث ہے جو قاتلینِ عثمان سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کرنے اور اس مقصد کے حصول کا پختہ ارادہ کرنے میں مؤثر اور محرک رہی، وہ حدیث نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام دیا، پیغام کا آخری حصہ یہ تھاکہ آپ نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے تین بار فرمایا: اے عثمان! اللہ تعالیٰ تم کو خلافت کی خلعت پہنائے گا اگر منافقین چاہیں کہ آپ اسے اتار دو تو تم اسے مرتے دم تک نہ اتارنا۔ تو میں نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین یہ بات آپ سے کہاں اوجھل رہ گئی؟ کہا: واللہ میں بھول گئی، مجھے یاد نہ آیا۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر دی، تو وہ اس پر راضی نہ ہوئے تا آنکہ ام المؤمنین کے پاس لکھ بھیجا کہ آپ میرے پاس یہ بات لکھ کر بھیجیں چنانچہ انھوں نے ان کے پاس لکھ کر بھیجا۔
(مسند أحمد باقی مسند الأنصار: رقم: 24045، یہ حدیث صحیح ہے۔)
قاتلین کے بارے میں حکم الہٰی کی تنفیذ کی شدید حرص اہم سبب تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں اہل شام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیعت کے لیے تیار نہ تھے، اس کا سبب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام کی گورنری کا لالچ یا ان کی جانب سے کسی ناحق چیز کا مطالبہ نہیں تھا، اس لیے کہ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ خلافت کا معاملہ شوریٰ کے چھ لوگوں میں تھا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سب سے افضل اور خلافت کے زیادہ حقدار تھے۔
(خلافۃ علی بن أبي طالب: عبدالحمید: صفحہ 112)
اس کی دلیل وہ حدیث ہے جسے یحییٰ بن سلیمان جعفی نے سند جید کے ساتھ نقل کیا ہے، ابو مسلم خولانی سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کر رہے ہیں کیا آپ ان کے برابر ہیں؟ تو جواباً کہا: واللہ نہیں، میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے زیادہ علم والے ہیں، خلافت کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، لیکن کیا تمھیں معلوم نہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ظلماً قتل کیے گئے ہیں، میں ان کا چچا زاد بھائی اور ان کے خون کا مطالبہ کرنے والا ہوں، چنانچہ تم سب ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ وہ قاتلین عثمان کو میرے حوالے کردیں، اور میں ان کو اپنے قبضہ میں کرلوں، چنانچہ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے گفتگو کی، تو سیدنا علیؓ نے انھیں ان کے حوالے نہیں کیا۔
(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 92، البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 129)
دوسری روایت میں ہے: ان لوگوں نے آپ کے پاس آکر گفتگو کی تو آپ نے کہا: وہ بیعت کرلیں اور ان کے بارے میں مجھ سے فیصلہ طلب کریں، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تیار نہیں ہوئے۔
(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 92، استشہاد عثمان: صفحہ 160)