Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

روایت حدیث

  علی محمد الصلابی

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ احادیث نبویہ کے رواۃ میں سے ہیں، کیوں کہ سیدنا معاویہؓ نے فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو لازم پکڑا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالے اور کاتب رہے، چنانچہ سیدنا معاویہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سو تریسٹھ (163) احادیث روایت کی ہیں جن میں سے چار احادیث متفق علیہ ہیں، اور اس کے علاوہ چار احادیث صحیح بخاری میں، اور پانچ احادیث صحیح مسلم میں ہیں۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 33) 

رعایا کے ساتھ حضرت معاویہؓ کا برتاؤ بہت ہی بہتر تھا جس کی وجہ سے لوگ آپ سے محبت کرتے تھے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

خیار أئمتکم الذین تحبونہم و یحبونکم، ویصلون علیکم و تصلون علیہم ، و شرار ائمتکم الذین تبغضونہم ویبغضونکم و تلعنونہم و یلعنونکم۔

(مسلم: الامارۃ: جلد 65 صفحہ 1866)

’’تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں، وہ تمہارے لیے دعا کریں اور تم ان کے لیے دعائیں کرو، اور بدترین حکام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور جن پر تم لعنت بھیجو اور وہ تم پر لعنت بھیجیں۔‘‘ (الحدیث)

حضرت امیر معاویہؓ سے متعلق اپنی گفتگو کو میں قاضی ابوبکر ابن العربی رحمۃاللہ کے اس بیان پر ختم کرنا چاہتا ہوں:

’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہؓ کو شام کا گورنر مقرر فرمایا، اور پورے شام کو آپؓ کے تابع کر دیا، اور حضرت عثمان غنیؓ نے آپؓ کو اس منصب پر باقی رکھا بلکہ حقیقت میں سیدنا ابوبکرؓ نے آپ کو گورنر مقرر فرمایا تھا، کیوں کہ انہوں نے سیدنا معاویہؓ کے بھائی حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو شام کا گورنر مقرر فرمایا تھا اور حضرت یزید رضی اللہ عنہ نے اپنا جانشین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور حضرت عمر فاروقؓ نے آپ کو اپنے منصب پر برقرار رکھا، اب آپ ملاحظہ کریں کہ یہ سلسلہ کس قدر مضبوط ترین ہے۔‘‘

(العواصم من القواصم: صفحہ 82)

یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہؓ کو کاتب مقرر فرمایا، اور یہ اسلامی سلطنت میں مناصب کی تولیت کی ایک سند ہے، آپ سے قبل اور آپ کے بعد یہ شرف کسی کو حاصل نہیں، چنانچہ حضرت معاویہؓ کی تولیت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے ثلاثہ ابوبکر و عمر ،عثمان رضی اللہ عنہم کا اتفاق رہا، اور پھر نواسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے حضرت امیرِ معاویہؓ سے مصالحت کی اور آپ کی خلافت کو تسلیم کیا۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام و العصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 216)