Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جزیہ

  علی محمد الصلابی

اہل ذمہ سے وصول کی جانے والی رقم جزیہ کہلاتی ہے۔ یہ ٹیکس حکومت وصول کرتی ہے جو کہ اس کے دفاع کے مقابل ہے۔ جزیہ دولت امویہ کے لیے ثابت شدہ اہم ذریعہ آمدن تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوۡلُهٗ وَلَا يَدِيۡنُوۡنَ دِيۡنَ الۡحَـقِّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ حَتّٰى يُعۡطُوا الۡجِزۡيَةَ عَنۡ يَّدٍ وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ۞(سورۃ التوبة آیت 29)

ترجمہ: وہ اہل کتاب جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ یوم آخرت پر اور جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے، اور نہ دین حق کو اپنا دین مانتے ہیں ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ 

جزیہ سنت سے بھی ثابت ہے، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کسریٰ کے عامل کے ترجمان سے فرمایا تھا: ’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تم سے قتال کریں یہاں تک کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو یا پھر جزیہ ادا کرو۔

(فتح الباری: جلد 6 صفحہ 317)

اہل ذمہ سے جزیہ کی وصولی اجماع امت سے بھی ثابت ہے۔

(المغنی: کتاب الجزیۃ: جلد 10 صفحہ 567)

امویوں نے جزیہ کے نظام میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں کیا تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس دور میں جزیہ کا حصول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں رائج نظام کے ہی تابع تھا، اور اس کے مندرجہ ذیل نکات تھے:

الف: کن لوگوں سے جزیہ وصول کیا جائے گا، اس ضمن میں صرف عاقل و بالغ مرد ہی آتے تھے۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 66)

ب: جو لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں، وہ یہ تھے: عورتیں، بچے، پرانے مریض، غلام، دیوانے، اندھے، بوڑھے اور راہب جن کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو۔

(الاحکام السلطانیۃ: صفحہ 144)

جزیہ عائد کرتے وقت لوگوں کی مالی حالت کا بھی خیال رکھا جاتا۔ متمول آدمی پر اڑتالیس درہم سالانہ، متوسط طبقہ کے لوگوں پر فی کس چوبیس درہم سالانہ اور اس سے نچلے طبقہ کے لوگوں پر فی کس بارہ درہم سالانہ، بشرطیکہ وہ برسر روزگار ہو۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 67)

جزیہ وصولی کے مندرجہ ذیل دو معیار تھے:

1۔ معیار مسؤلیت: اس کی رو سے جزیہ کی دو اقسام تھیں:

جزیہ فردیہ: یہ وہ جزیہ تھا جو اس کی شروط پوری کرنے والے ہر شخص پر محدود مقدار میں عائد کیا جاتا جو اسلام قبول کرنے کی صورت میں ساقط کر دیا جاتا۔

اجتماعی یا مشترکہ جزیہ: اس کی صورت یہ تھی کہ کسی بستی یا شہر والوں پر کسی معین مقدار میں جزیہ عائد کیا جاتا اور وہ اس رقم کو اپنے افراد پر تقسیم کر لیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں اس کی مثال یہ ہے کہ آپ نے اہل اذرح کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ وہ ہر سال ماہ رجب میں سو دینار جزیہ ادا کیا کریں گے۔

(فتوح البلدان از بلاذری: صفحہ 71)

عصر اموی میں زیادہ تر جزیہ اسی قسم کا تھا۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 67)

2۔ نقدی اور عینی معیار: اس کی رو سے جزیہ تین اقسام میں منقسم تھا: نقدی جزیہ، عینی جزیہ اور مشترکہ جزیہ۔ عصر اموی میں جزیہ کی ان تمام اقسام پر عمل کیا جاتا تھا، ہمارے سامنے ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اس سے خروج کی طرف اشارہ کرتی ہو، اور خاص طور سے اس وقت جب شریعت اسلامیہ شرائط صلح کے التزام کا مگر یہ اس امر سے مانع نہیں ہے کہ کبھی کبھی بعض ولاۃ و امراء شرعی قواعد و ضوابط سے خروج کے بھی مرتکب ہوا کرتے تھے۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 86 مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: تاریخ بلاد الشام الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 29)

جزیرہ میں آنے والے غلے کے حجم اور کل حکومتی آمدن میں اس کے تناسب کی تحدید کرنا دشوار امر ہے۔ البتہ بعض اشارات جزیہ میں آنے والی اشیاء کے بھاری حجم پر دلالت کرتے ہیں۔ اس دور میں دولت امویہ نے بہت سارے شہروں میں اسلام کی نشر و اشاعت کرنا اور پھر انہیں فتح کر کے وہاں کے ان شہریوں پر جو اسلام قبول کرنے سے انکاری تھے ان پر جزیہ عائد کرنا جیسے حوالہ جات سے دولت امویہ کا عظیم کردار رہا ہے۔

(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 71)