نام و نسب
علی محمد الصلابیسیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا نام اور نسب یہ ہے:
’’علی بن ابی طالب (عبدمناف: ابوطالب کا نام عبد مناف ہے) بن عبدالمطلب(عبدالمطلب کا نام شیبۃ الحمد ہے۔ الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1089) بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔
(الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 19، صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 308، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 333 ،الإصابۃ: جلد 1 صفحہ 507، الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 1089، المنتظم: جلد 5 صفحہ 66، المعجم الکبیرللطبرانی: جلد 1 صفحہ 50)
سیدنا علیؓ رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی تھے۔ حضرت علیؓ کے دادا عبدالمطلب بن ہاشم پر آپ کا نسب خاندانِ نبوت سے مل جاتا ہے۔ عبدالمطلب کے صاحبزادے ابوطالب، نبی کریمﷺ کے والد عبداللہ کے حقیقی بھائی تھے، آپ کی ولادت کے وقت آپ کی ماں نے اپنے باپ اسد بن ہاشم کے نام پر آپ کا نام ’’اسد‘‘ رکھا تھا، اسی لیے غزوۂ خیبر کے موقع پر آپ نے رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے کہا تھا:
أَنَا الَّذِیْ سَمَّتْنِیْ أُمِّي حَیْدَرَۃ کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَۃ
’’میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدرہ (حیدرہ شیر کے ناموں میں سے ایک نام ہے) رکھا ہے، جیسے جنگل کا ببر شیر کہ جسے خوف سے کوئی دیکھنے کو تیار نہ ہو۔‘‘
جب حضرت علیؓ کی ماں نے آپ کا یہ نام رکھا تھا، اس وقت ابوطالب گھر میں موجود نہ تھے، جب آئے تو آپ کو یہ نام پسند نہ آیا اور آپ کا نام علی رکھ دیا۔
(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: صفحہ 617)
کنیت
حضرت علیؓ کی کنیت ابوالحسن ہے۔ یہ نسبت آپ کے بڑے صاحبزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف ہے، جو کہ فاطمہ بنتِ رسول اللہﷺ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ حضرت علیؓ کی کنیت ابوتراب بھی ہے، اس کنیت سے آپ کو نبی کریمﷺ نے نوازا تھا، جب آپ کو ابوتراب کہہ کر پکارا جاتا تھا تو آپ بہت خوش ہوتے تھے۔
(غریب الحدیث للخطابی: جلد 2 صفحہ 70، خلافۃ علی بن ابی طالب، عبدالحمید بن علی ناصر فقیہی: صفحہ 18)
اس کنیت کی وجہ یہ تھی کہ ایک روز رسول اللہﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گھر پر نہ پایا، آپ نے پوچھا:’’ تمھارے سسر زاد (شوہر) کہاں ہے؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک معاملہ پر میرے اور ان کے درمیان اَن بَن ہوگئی، وہ مجھ سے ناراض ہو کر یہاں سے چلے گئے، میرے پاس قیلولہ بھی نہیں کیا۔ آپﷺ نے ایک آدمی سے کہا: دیکھو وہ کہاں گئے، وہ صاحب تلاش کر کے لوٹے، تو بتایا کہ اے اللہ کے رسول! وہ مسجد میں سو رہے ہیں، اللہ کے رسولﷺ مسجد میں تشریف لائے، دیکھا تو وہ بےخبر سو رہے ہیں اور نصف چادر زمین پر ہے، اور جسم پر مٹی لگی ہوئی ہے۔ آپﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جسم سے مٹی جھاڑنے لگے اور کہا:
قُمْ أَبَا تُرَاب (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2409)
'’اے ابو تراب! اٹھ جاؤ۔‘‘
اور صحیح بخاری کی روایت ہے کہ واللہ نبی کریمﷺ ہی نے حضرت علیؓ کو اس کنیت سے نوازا ہے۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 441، 3703، 3280)
آپ کی ایک کنیت ابوالحسن والحسین، اور ابوالقاسم، ہاشمی ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 223)
نیز ابوالسبطین ایک کنیت ہے۔
(اسد الغابۃ: جلد 4 صفحہ 16 سبطین سے مراد حسن اور حسین ہیں)
لقب
سیدنا علیؓ کا لقب امیر المؤمنین اور چوتھے خلفیۂ راشد ہیں۔
(تاریخ الإسلام، الذہبی: صفحہ 276 البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 250، خلاصۃ تہذیب الکمال: جلد 2 صفحہ 250)