Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرا اصول

  علی محمد الصلابی

 قومی و ملکی تعلقات میں کسی بھی خطرہ کے وقت فریق اوّل کی رعایت ہی محل بحث ہونی چاہیے۔ ذمیوں کے جان و مال کا احترام اور اس کی حفاظت کے اسباب تلاش کرنا چاہئیں۔ اسلام کی بے داغ تصویر کو ان تمام چیزوں سے بچایا جائے جو مسلمانوں اور غیر مسلمین کے درمیان خوشگوار تعلقات کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بنیں، مثلاً ایسا نہ ہو کہ کوئی مسلمان جذبات میں آ کر ان سے نامناسب سلوک کرنے لگے۔ اسی اصول کے تقاضوں کو پورا کرنے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے امیر لشکر کو حکم دیا تھا کہ فوج کی قوت کے اسباب کو ضائع نہ ہونے دیں اور اسے دشمن کی سر زمین میں اس حالت میں اتاریں کہ وہ بالکل تازہ دم ہو۔ آپ کا فرمان تھا: ’’کوچ کے دوران فوج سے نرمی سے پیش آؤ اور انہیں اتنا نہ چلاؤ کہ تھک جائیں، پُر سہولت اور پُر آرام جگہ ٹھہرنے سے انہیں نہ روکو تاکہ وہ جب دشمن سے مقابل ہوں تو ان کی توانائی بحال ہو، فوج سستا کر تازہ دم رہے اور اپنے ہتھیار و سامان درست کر سکے۔‘‘

افراد اور جنگی اسلحہ اور ساز و سامان کی حفاظت کے اسباب و تدابیر اپنانے کی تاکید کے بعد آگاہ کیا کہ امراض کے اسباب سے پرہیز کرنا علاج سے بہتر ہے۔ اسلامی لشکر کا سب سے کارگر ہتھیار یہ ہے کہ کردار و عمل سے اسلام کی خوبیاں ثابت کی جائیں۔ قول و عمل میں کوئی تضاد نہ ہو۔ آپ نے احتیاطی تدبیر اختیار کرتے ہوئے حکم دیا کہ: ’’جس بستی کے لوگوں سے تمہارا معاہدہ ہے یا وہ جزیہ ادا کرتے ہیں ان سے دور پڑاؤ ڈالو، مبادا ایسا کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آ جائے جس سے بہتر تعلقات کی استواری میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے۔‘‘ اور کہا کہ ان کی بستیوں میں صرف انہی لوگوں کو جانے کی اجازت دو جن کی دیانت داری پر تمہیں اعتماد ہو۔ اہل ذمہ کے جان و مال کا احترام کرو اور وفاداری کا ثبوت دو۔