سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما
علی محمد الصلابیگزشتہ روایت ان لوگوں کے ضمن میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کرتی جن کے ساتھ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کے بارے میں مشورہ کیا تھا۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اہل عراق اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے تعلقات کا ادراک تھا اور یہ کہ وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھتے رہتے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد انہیں خلافت کی امیدیں دلاتے رہتے ہیں، پھر یہ بات بھی ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے طویل گفتگو کی جو کہ بظاہر خلافت کے بارے میں ہی تھی اور یہ ایسی بات تھی جس نے یزید کو ناراض کر دیا اور وہ اپنے باپ سے کہنے لگا: یہ آدمی تمہارے راستے میں روڑے اٹکاتا رہتا ہے۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اسے چھوڑیں، شاید یہ میرے علاوہ کسی اور سے خلافت کا مطالبہ کرے مگر وہ اسے اس میں کامیاب نہ ہونے دے اور اسے قتل کر ڈالے۔
(طبقات ابن سعد: صفحہ 357۔ نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ 106۔ اس کی سند حسن ہے
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیعت یزید سے دو اسباب کی وجہ سے انکاری تھے:
الف: یزید اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان باپ بیٹے کا تعلق تھا اور یہ خلفائے راشدینؓ کا طریقہ نہیں تھا۔
ب: انہوں نے اس بیعت کے بطلان اور اس کے ردّ کرنے پر اس نص صریح سے استدلال کیا جو ایک ہی وقت میں دو آدمیوں سے بیعت کرنے کو ناجائز قرار دیتی ہے۔
اس جگہ جو بات قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ معارضین نے یزید میں کسی عیب کا ذکر نہیں کیا تھا۔
وگرنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ یزید کی ان صفات سے ناواقف رہتے جن کے ساتھ بعد ازاں اسے متہم کیا گیا اور خاص طور پر اس وقت جو اس امر کا متقاضی تھا کہ اس میں مخالف کی ہر دلیل کا توڑ کیا جاتا۔
(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 104)
حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگوں میں اور خاص طور پر مہاجرین کے بیٹوں میں یہ شعور بڑا قوی تھا کہ جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے وہ مسلمانوں کی خلافت کس طرح سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ وہاں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ان سے پہلے مشرف باسلام ہوئے اور جو اُن سے خلافت کے زیادہ حق دار ہیں۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 90 صفحہ 111۔ صحیح سند کے ساتھ)
جبکہ بعض لوگ عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تعبیر میں قیصریت و ہرقلیت کے خوف سے یزید کی تقدیم پر معترض تھے۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ بیعت یزید پر ابنائے صحابہ کی تنقید کا تعلق یزید کی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ یہ ان کا اپنا اپنا نکتہ نظر ہے جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا نکتہ نظر ان سے مختلف ہے اور یہ کہ ان لوگوں کا مؤقف یہ ہے کہ منصب خلافت میں خاندانی تعلقات یا ذاتی رجحانات کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور خلیفہ کی قدر و قیمت اور اس کا انتخاب اس سے سابق خلیفہ کے ساتھ اس کے تعلق پر مبنی نہیں ہونا چاہیے
(مقدمۃ فی تاریخ صدر الاسلام: الدوری: صدحہ 64)
تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ملاقات کے بعد منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور ابن ابوبکر رضی اللہ عنہما نے یزید سے بیعت نہیں کی، انہوں نے سمع و طاعت کی ہے اور یزید سے بیعت کر لی ہے۔ اس پر اہل شام کہنے لگے: و اللہ! ہم تو اس وقت راضی ہوں گے جب یہ لوگ لوگوں کے سامنے بیعت کریں گے اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ہم ان کی گردنیں اڑا دیں گے۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے کہا: یہیں رک جاؤ، لوگ قریش کے ساتھ کس قدر جلد بدسلوکی کا مظاہرہ کرتے ہیں، میں آج کے بعد یہ بات کسی کے منہ سے نہ سنوں۔ پھر وہ منبر سے نیچے اتر آئے اور لوگ کہنے لگے: ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن ابوبکر رضی اللہ عنہما اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیعت کر لی ہے جبکہ وہ اس سے انکار کرتے رہے اور معاویہ رضی اللہ عنہ شام چلے گئے۔
(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 214 حسن سند کے ساتھ)
اس صحیح روایت سے اس روایت کا جھوٹ عیاں ہوتا ہے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بات سے متہم کرتی ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر، عبدالرحمٰن بن ابوبکر اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم میں سے ہر آدمی کے سر پر دو دو آدمی بٹھا دئیے اور ہر پہرے دار کو یہ بات سمجھا دی کہ ان میں سے جو شخص بھی بیعت سے انکار کرے اس کی گردن اڑا دی جائے، چنانچہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ابن عمر، ابن زبیر اور ابن ابی بکر نے بھی طاقت استعمال کرنے کی دھمکی کی وجہ سے یزید سے بیعت کر لی۔ یہ روایت سند کے اعتبار سے تو ضعیف ہے ہی متن کے اعتبار سے بھی ضعیف ہے اور جو باریک بینی پر مبنی تنقید کا سامنا نہیں کر سکتی۔
(مواقف المعارضۃ: صفحہ 106)
مثلاً اس روایت کے شروع میں وارد ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے تو وہ اپنے محافظ سے کہنے لگے: میرے سوار کردہ آدمی کے علاوہ کسی کو بھی میرے ساتھ نہ چلنے دینا۔ پھر وہ تن تنہا چلنے لگے یہاں تک کہ جب وہ پیلو کے درختوں کے درمیان پہنچے تو سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما ان کی ملاقات کے لیے آئے، آپ رک گئے اور فرمانے لگے: ہم جگر گوشۂ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان نوجوانوں کے سردار کو خوش آمدید کہتے ہیں، پھر انہوں نے ابو عبداللہ کو سوار کرنے کے لیے سواری منگوائی، پھر عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما تشریف لائے تو انہیں بھی خوش آمدید کہا اور پھر انہیں سواری پر بٹھایا، پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہما تشریف لائے تو سیدنا معاویہؓ نے انہیں بھی اہلاً و سہلاً و مرحبا کہا اور پھر ان کے لیے سواری منگوائی جس پر وہ سوار ہو گئے، اور یوں انہوں نے مکہ مکرمہ پہنچ کر مناسک حج ادا کیے۔
(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 215۔ ناقابل اعتماد ضعیف روایت)
اس روایت کے دوسرے حصے میں جو یہ بتایا گیا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہر آدمی کے سر پر دو پہرے دار بٹھا دئیے اور انہیں حکم دیا کہ ان میں سے جو شخص بھی بیعت یزید سے انکار کرے اس کا سر قلم کر دیا جائے، تو یہ دو امور کی وجہ سے ناممکن ہے:
1۔ کیا یہ بات انتہائی تعجب خیز نہیں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بیٹوں کے بارے میں اس طرح کی متشددانہ پالیسی اپنائیں حتیٰ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی یہ تشدد روا رکھیں اور اس طرح اختلاف کو وسعت دینے اور ایک طرف اپنے اور یزید کے درمیان اور دوسری طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بیٹوں کے درمیان دوریاں پیدا کر دیں؟
2۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر، عبدالرحمٰن بن ابوبکر اور حسین رضی اللہ عنہم کے سروں پر چوکیدار کھڑے ہوں گے تو کیا یہ منظر لوگوں کی نظروں میں یزید کے مقام و مرتبہ کو مزید گرانے کا باعث نہیں ہوگا اور کیا یہ سامنے کا منظر لوگوں کو اس امر سے آگاہ نہیں کرے گا کہ یہ پہرے دار گھات لگائے بیٹھے ہیں اور ان کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں اور اس طرح لوگوں کو پورا یقین ہو جاتا کہ یہ بیعت زبردستی اور دھوکے پر مبنی ہے اور وہ اس سے انکار کر رہے ہیں۔
(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 110)