راجح قول
علی محمد الصلابینبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے بارے میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ جن پر صدقہ لینا حرام ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں شمار ہو گا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب اولاد اور عبدالمطلب کی نسل سے ہر مسلمان مرد اور مسلمان عورت اور وہ بنو ہاشم بن عبد مناف ہیں اور صحیح مسلم کی روایت دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہیں۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1072)
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب سے روایت ہے کہ وہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس غرض سے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجیں۔ تاکہ وہ اتنا مال کما لیں جس سے وہ دونوں شادی کر سکیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ’’آل محمد کو صدقہ نہیں لینا چاہیے، کیونکہ یہ لوگوں کی میل کچیل ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی شادی کرانے کا
حکم دیا اور خمس سے ان دونوں کا مہر ادا کیا۔
کچھ اہل علم جیسے امام شافعیؒ اور امام احمدؒ نے بنو مطلب بن عبد مناف کو بھی صدقہ کی حرمت میں بنو ہاشم کے ساتھ شامل کیا ہے۔ کیونکہ خمس کے پانچویں حصے کے عطیات میں وہ بھی ان کے شریک ہوتے ہیں۔ یہ بخاری کی اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔
(صحیح بخاری: 3140)
سیدنا جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبد شمس اور بنو نوفل کے بجائے بنو عبدالمطلب اور بنو ہاشم کو ایک جیسے عطیات دیا کرتے، کیونکہ بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی چیز تھے۔
جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپ کے اہل بیت میں شمار ہونے کی دلیل ہے تو اس کے لیے قرآن و سنت میں متعدد دلائل ہیں۔
اللہ عزوجل نے فرمایا:
وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ۞(سورۃ الأحزاب آیت 33، 34)
ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے ، خوب پاک کرنا اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیں یاد کرو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔
چنانچہ یہ آیت حتمی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو اہل بیت میں شمار کر رہی ہے۔ کیونکہ آیات کے سیاق و سباق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے ہی خطاب کیا گیا ہے۔ نیز صحیح مسلم کی حدیث اس کے منافی نہیں ہے۔
(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ نے سیاہ بالوں کی ایک دھاری دار چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے تو آپ نے انھیں اپنی چادر کے اندر کر لیا۔ پھر حسین رضی اللہ عنہ آئے تو انھیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کے اندر کر لیا۔ پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو انھیں بھی آپ نے چادر میں داخل کر لیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انھیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کے اندر کر لیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞(سورۃ الأحزاب آیت 33)
ترجمہ: ’’اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا۔‘‘
اس آیت کریمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے ہی خطاب کیا گیا ہے اور وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں پہلے سے شامل ہیں اور اس حدیث سے پتا چلا کہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان چاروں کو اہل بیت سے مخصوص کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف یہی چاروں ہی اہل بیت ہیں اور دوسرے قرابت دار اہل بیت نہیں بلکہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ یہ چاروں افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین اور محبوب ترین ہیں۔
اس آیت کی مثال کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کی آل میں داخل ہیں اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گزشتہ روایت کہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں شامل ہیں اس کی مثال اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے:
لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ ۞ (سورۃ التوبة آیت 108)
ترجمہ:’’یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی۔‘‘
اس فرمان الہٰی میں مراد مسجد قباء ہے اور صحیح مسلم کی حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1398) کہ اس سے مراد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ اس قسم کی مثالیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے پیش کی ہیں۔
(فضل اہل البیت و حقوقہم لابن تیمیۃ: صفحہ 20)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویاں لفظ ’’آل‘‘ کے عموم میں آ جاتی ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک صدقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد کے لیے حلال نہیں۔‘‘ اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ خمس سے ازواج النبی علیہ السلام کا نان و نفقہ نکالا جاتا تھا۔
اسی طرح ابن ابی ملیکہ نے جو روایت کی ہے: بے شک خالد بن سعید نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف صدقہ کی ایک گائے بھیجی تو انھوں نے یہ کہہ کر لوٹا دی کہ ہم آل محمد ہیں ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 3 صفحہ 214۔ تاریخ بغداد للخطیب بغدادی: جلد 8 صفحہ 38)
کتنے تعجب کی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں آپ کی ازواج کیسے شامل نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 6460۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1055)
’’اے اللہ! تو آل محمد کو اتنی روزی دے کہ وہ صرف زندہ رہ سکیں۔‘‘
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قربانی کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰہُمَّ ہٰذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ۔
(مسند أحمد: جلد 6 صفحہ 391۔ حدیث نمبر: 27234۔ مسند بزار: جلد 9 صفحہ 318، حدیث نمبر: 3867۔ طبرانی: جلد 1 صفحہ 311، حدیث: 920۔ الحاکم: جلد 2 صفحہ 425۔ بیہقی: جلد 9 صفحہ 259، حدیث نمبر: 19482 سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ راوی ہیں۔ امام حاکم نے کہا، اس کی سند صحیح ہے لیکن بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا اور ہیثمی نے مجمع الزوائد: جلد 4 صفحہ 24 پر اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: حدیث نمبر: 6461 میں کہا ان تمام جملوں کے ساتھ یہ منکر ہے۔
’’اے اللہ یہ محمد اور آل محمد کی طرف سے ہے۔‘‘
اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے کبھی گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی۔‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5423۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2979)
اور نمازی کا اپنی نماز میں یہ کہنا:’’ اے اللہ! تو محمد اور آل محمد پر رحمتیں بھیج۔‘‘
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3370۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 406)
یقیناً صدقہ محمد اور آل محمد کے لیے حلال نہیں۔
(تاریخ بغداد للخطیب البغدادی: جلد 8 صفحہ 38)
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ لوگوں کی میل کچیل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تو اس سے بچنے اور ان سے دُور رہنے کی زیادہ حق دار ہیں۔
(جلاء الافہام لابن قیم: صفحہ 218۔ فضل اہل بیت و علو مکانتہم عند اہل السنۃ و الجماعۃ لعبد المحسن بن حمد العباد البدر: صفحہ 6، 12)