Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح دمشق

  علی محمد الصلابی

صدیقی دور خلافت کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شام کے محاذ پر جو کچھ فوجی کارروائیاں ہوئیں وہیں سے بلاد شام کی فتوحات کے دوسرے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ چنانچہ جب معرکہ یرموک اختتام کو پہنچا اور رومی فوجیوں کی ہزیمت ہوئی تو حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے بشیر بن کعب حمیری رضی اللہ عنہ کو یرموک میں اپنا قائم مقام چھوڑا اور یہ خبر ملنے کے بعد کہ یرموک کی شکست خوردہ رومی فوج ’’فحل‘‘ میں جنگ کے لیے اکٹھا ہو رہی ہے اور اہل دمشق کو حمص سے مدد ملنے والی ہے، تو آپ تردد میں پڑ گئے کہ دمشق سے اپنی فوجی کارروائی کا آغاز کریں یا اردن کے شہر ’’فحل‘‘ سے۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ سے اس سلسلہ میں رہنمائی طلب کی، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہ خط بھیجا:

’’پہلے دمشق پر حملہ کر کے اسے فتح کرو کہ وہ شام کا قلعہ اور اس کا صدر مقام ہے، ساتھ ہی فحل میں بھی سوار دستے بھیج دو، جو انہیں تمہاری طرف نہ بڑھنے دیں، اسی طرح فلسطین و حمص پر بھی نگاہ رکھو اگر دمشق سے پہلے فحل فتح ہو جائے تو بہتر ہے ورنہ دمشق فتح کر لینے کے بعد تھوڑی سی فوج وہاں چھوڑ دینا اور تمام امرائے لشکر کو اپنے ساتھ لے کر فحل روانہ ہو جانا اور اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں فحل فتح کرا دے تو خالد اور تم حمص چلے جانا۔ ہر علاقہ کا سالار فوج (وہاں سے گزرنے والی) دوسری فوج کا سالار اعلیٰ مانا جائے گا، جب تک کہ وہ اس کا علاقہ خالی نہ کر دیں۔‘‘

(تہذیب وترتیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 52، الدعوۃ الإسلامیۃ فی عہد أمیر المؤمنین عمر بن خطاب: صفحہ 276)

قائدین لشکر کے نام سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے جو احکامات وہدایات دی گئیں ان میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپؓ نے فوجی کارروائیوں کی قائدانہ ذمہ داریوں کو مقرر کر دیا اور اسی کے بموجب متوسط جنگی تحریک اور معتدل فوجی تگ و دو جاری ہوگئی، جب کہ جنگ کے پیچھے مطلوبہ اعلیٰ مقاصد کے حصول میں کوئی لچک دار رویہ نہیں اپنایا گیا۔

ان خطوط میں فاروقی تعلیمات سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپؓ کے پیش نظر کئی اہم مقاصد تھے: پہلا بنیادی مقصد ’’دمشق‘‘ پر قابض ہونا، دوسرا مقصد ’’فحل‘‘ فتح کرنا اور تیسرے نشانے پر ’’حمص‘‘ تھا۔ چنانچہ سیدنا عمر فاروقؓ کی انہی ہدایات کی روشنی میں حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ نے ’’فحل‘‘ کی طرف ایک فوجی دستہ روانہ کیا اور ابو الاعور السلمی عامر بن حثمہ، عمرو بن کلیب، عبد عمر بن یزید بن عامر، عمارہ بن صعق بن کعب، صفی بن علیہ بن شامل، عمر بن حبیب بن عمر، لبدہ بن عامر، بشیر بن عصمہ اور عمارہ بن مخشن رضی اللہ عنہم کو ان دستوں کی الگ الگ قیادت پر مامور کیا اور ان سب کا قائد اعلیٰ عمارہ بن مخشن رضی اللہ عنہ کو بنایا۔

(العملیات التعرضیۃ الدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 182)

حضرت ابوعبیدہؓ خود اسلامی لشکر کے ساتھ دمشق کی طرف بڑھے، راستے میں کوئی قابل ذکر مزاحمت نہ ہوئی۔ کیونکہ رومیوں نے اس سے پہلے مسلمانوں کی پیش قدمی روکنے اور ان کے اثر و نفوذ پر قدغن لگانے کے لیے دمشق اور اس کے مضافات کے دیگر علاقوں کے باشندوں پر اعتماد کر رکھا تھا، لیکن رومیوں کے غلط برتاؤ اور خاص طور سے چھوٹی چھوٹی بستیوں میں ان کی نازیبا حرکات سے عاجز ہونے کی وجہ سے ان میں دفاع کی خاطر کوئی گرم جوشی نظر نہیں آئی

(الہندسۃ العسکریۃ فی الفتوحات الإسلامیۃ: دیکھیے قصی عبدالرؤف: 188)

اور اسلامی افواج غوطہ دمشق میں جس میں رومیوں کے محلات اور ان کے خوبصورت مکانات تھے، داخل ہوگئیں، وہاں پہنچ کر دیکھا کہ تمام محلات ومکانات خالی پڑے ہیں اور ان مکینوں نے بھاگ کر دمشق میں پناہ لے رکھی ہے۔ دوسری طرف ہرقل نے باشندگان دمشق کی مدد کے لیے پانچ سو (500) جنگجوؤں کو بھیجا جو سنگین حالات سے نمٹنے اور واجبی ضرورت کی تکمیل کے لیے، بالکل ناکافی تھے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 20، الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 188)

جب کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے ذوالکلاع کی قیادت میں شمالی دمشق میں جو اسلامی طاقت اتاری تھی وہ دمشق اور حمص کی افواج کو بار بار چیلنج دے رہے تھی اور دونوں افواج کے درمیان سخت معرکہ آرائی جاری تھی، بالآخر رومیوں کی شکست ہوئی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 20)

اہل دمشق نے ہر قل سے داد رسی کی درخواست کی، اس نے خط کے ذریعہ سے انہیں ثابت قدمی اور مقابلہ آرائی کی تلقین کرتے ہوئے امدادی فوج بھیجنے کا وعدہ کیا، جس کی وجہ سے اہل دمشق سنبھل گئے، ان کے ارادوں میں پختگی آگئی اور اسلامی فوج کی پیش قدمی اور ان کے محاصرہ کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے لگے۔

(الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 188)