ایک اور بات
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہپھر قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضرت شہر بانو شہزادی کی بخشش بجائے خود بھی ایک بڑی ایثار کی بات تھی کہ اپنی اولاد پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ترجیح دے کر شہزادی شہر بانو ان کو نکاح کر دی گئی۔ وگرنہ اگر ان کی دلی منشا نہ ہوتی تو شہزادی کا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو پسند کرنا یا امیرؓ کی سفارش کا کیا اثر ہو سکتا تھا؟ شیعہ کہتے ہیں کہ شیخین نے باوجود مشکل کشا اور خاتون کی منت خوشامد کے باغ فدک ان کو نہ دیا تو شہر بانو کا گرانقدر عطیہ کیسے مل سکتا تھا؟ علاوہ ازیں شہزادی جس وقت قید ہو کر آئیں تو وہ بیش قیمت شاہانہ پوشاک اور گراں بہا زیورات پہنے ہوئے تھے ان کے زیورات ہی میں اس قدر جواہرات جڑے ہوئے تھے کہ جن کی قیمت سے فدک جیسے کئی باغ خریدے جا سکتے تھے، جو شہر بانو بمع لباس فاخرہ زرنگار زیورات اور جواہرات حضرت حسینؓ کے حوالے کر دی گئی۔ اگر حضرت عمرؓ کو بزعم شیعہ اہلِ بیت سے عداوت ہوتی تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتے۔ غرض حضرت شہر بانو کا عطیہ تمام بے جا مطاعنِ شیعہ کا ایک ایسا مکمل جواب ہے جس کا کوئی جواب الجواب نہیں ہو سکتا۔ شیعہ سخت احسان فراموش اور ناشکر گزار ہیں کہ باوجود اس قدر احسانات کے پھر ان کی شکایت کرتے ہیں، خدا ان کو ہدایت کرے. آمین
6: حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 203 میں ہے:
خاصہ و عام روایت کردہ اندکہ در اے جنگ احزاب آنحضرتﷺ کندن خندق را درمیان صحابہؓ بہ قسمت فرمودہ کہ ہر چہل ذراع راد نفر حضر نمایند پس را حصہ سلمانؓ و حذیفہؓ زمین بسنگے رسید کہ کلنگ دراں اثر نمی کرد چوں سلمان بخدمت آنحضرتﷺ عرض کرد از مسجد احزاب زیر آمد و کلنگ را از یشاں گرفت و سہ مرتبہ برقے ساطع می شد کہ جہاں روشن می شد و اللہ اکبر می گفت و صحابہؓ اللہ اکبر می گفتند پس فرمود کہ برق اول قصر یمن را دیدم و خدا آں را بمن داد دوم قصر ہائے شام را دیدم ملک بادشاہان عجم بمن داد پس خدا فرمود
لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖۙ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ۞
ترجمہ: خاص و عام نے روایت کیا ہے کہ جنگِ احزاب میں حضورﷺ نے خندق کی کھدائی کا کام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اس طرح تقسیم کیا کہ دس دس اشخاص 40، 40 گز کی کھدائی کریں جو زمین حضرت سلیمان اور حذیفہ رضی اللہ عنہما کے درمیان تقسیم تھی اس میں ایک پتھر آ گیا، انہوں نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا تو حضورﷺ مسجد احزاب میں اتر آئے اور ان سے ہتھیار لے کر تین دفعہ پتھر پر رسید کیا، ہر مرتبہ پتھر کا تیسرا حصہ اڑ گیا اور ہر دفعہ کی ضرب سے پتھر سے روشنی نکلی جس سے جہان روشن ہو گیا۔ حضورﷺ نے نعرہ بلند فرمایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی تکبیر کہی۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ پہلی روشنی میں میں نے یمن کے محلات دیکھ لیے کہ خدا نے وہ ملک مجھے دیا۔ دوسرے میں شام کے محلات نظر آئے کہ وہ ملک بھی خدا نے مجھے عطا فرمایا۔ تیسرے میں مدائن کے چوبارے دکھائی دیے اور خدا نے بادشاہان عجم کی سلطنت مجھے بخش دی۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدا اس دین کو غالب کرے گا خواہ کفار برا منائیں۔
یہی واقعہ فروع کافی: جلد 2، صفحہ 102 میں بروایت سیدنا جعفر صادقؒ درج ہے اور صاحب حملہ حیدری نے بھی اس کو نظم میں لکھا ہے۔