حرص
علی محمد الصلابیسیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول: حرص نفس کا دشمن ہے، اسی کے باعث آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے:
فرمان نبویﷺ ہے:
مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِیْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَہَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْئِ عَلَی الْمَالِ وَ الشَّرَفِ لِدِیْنِہِ۔
(الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: رقم: 3218 حدیث حسن صحیح ہے۔)
’’انسان کے دین کو مال کی حرص اور عز و جاہ کی چاہت جتنا نقصان پہنچاتی ہے اتنا نقصان ایسے دو بھوکے بھیڑیے نہیں پہنچاتے جنھیں بکریوں میں چھوڑ دیا گیا ہو۔‘‘
یہ بڑی عظیم مثال ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتلانے کے لیے بیان کیا کہ مسلمان کا دین مال کی حرص اور دنیاوی عز و جاہ کی چاہت سے برباد ہو جاتا ہے، ان کے ذریعہ سے دین کی بربادی بکریوں کی اس بربادی سے کم نہیں جسے وہ دو خونخوار بھوکے بھیڑیے انجام دیتے ہیں، جنھیں ان بکریوں میں چھوڑ دیا گیا ہو اور ان کے چرواہے رات بھر وہاں سے غائب رہے ہوں، وہ بکریوں کو پھاڑ کھاتے رہیں گے اور ایسی صورت میں ان دونوں بھیڑیوں سے بہت کم بکریاں بچ پائیں گی، اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتلایا کہ مال اور عز و جاہ کی حرص انسان کے دین کو جتنا برباد کرتی ہے وہ بربادی اس سے کم نہیں جو دونوں بھیڑیے بکریوں میں پھیلاتے ہیں، وہ بربادی یا تو برابر ہوگی یا زیادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ مال اور عزو جاہ کی حرص کے ساتھ مسلمان کا دین بہت کم محفوظ رہتا ہے، یہ عظیم مثال مال اور دنیاوی عزو جاہ کی حرص کی خرابی سے واضح طور پر آگاہ کر رہی ہے، مال کی حرص دو قسم کی ہوتی ہے:
پہلی قسم: مال کی شدید محبت ہو، اس کے حصول کے لیے تمام تر مباح ذرائع استعمال کیے جائیں اور اس کے حصول کی مبالغہ کی حد تک شدید خواہش ہو، پوری مشقت و پریشانی کے ساتھ مختلف ذرائع سے اس کے حصول کی کوشش کی جائے، حدیث کا شانِ ورود ایسے بعض واقعات کا وقوع ہے، جیسا کہ امام طبرانیؒ (المعجم الأوسط: جلد 1 صفحہ 470، رقم: 855)
نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے وہ کہتے ہیں: میں نے خیبر کے حصوں میں سے سو حصے خرید لیے، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپﷺ نے فرمایا: دو خونخوار بھیڑیے جو بکریوں کے ایسے ریوڑ میں پہنچ جائیں جنھیں ان کے مالک نے کھو دیا ہو، تو وہ انھیں اتنا نقصان نہیں پہنچا پائیں گے جتنا کہ مال اور عز و جاہ کی حرص مسلمان کے دین کو پہنچاتی ہے۔
(الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: رقم: 3318، اس کی سند حسن صحیح ہے۔)
امام ابن رجب رحمۃاللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’مال کی حرص میں اچھی عمر ایسی چیز کے لیے ضائع ہوجاتی ہے جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ہے، جب کہ صاحبِ عمر اسے بلند درجات اور ابدی نعمتوں کے حصول میں خرچ کر سکتا ہے، لیکن وہ اسے اس مقسوم و مقدر رزق کے حصول کی حرص میں ضائع کر دیتا ہے، جو اتنا ہی حاصل ہوگا جتنا انسان کے لیے مقدر ہے، پھر اس سے خود مکمل فائدہ بھی نہیں اٹھاتا بلکہ دوسروں کے لیے چھوڑ کر راہی ملک عدم بن جاتا ہے، اس کا حساب اس کے ذمہ ہو جاتا ہے جب کہ فائدہ دوسرے اٹھائیں گے، اس طرح وہ مال ایسے لوگوں کے لیے جمع کرتا ہے جو اس کا شکریہ بھی نہیں ادا کریں گے، یہ چیز حرص کے مذموم ہونے کے لیے کافی ہے۔‘‘
حریص اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے، ایسے مال کے جمع کرنے کے لیے جس سے دوسرے فائدہ اٹھائیں گے، سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ہے، بہت سارے خطرات مول لیتا ہے، جیسا کہ شاعر کہتا ہے:
و من ینفق الأیام فی جمع مالہ مخافۃ فقر فالذی فعل الفقر
(ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 23)
’’جو فقیری کے ڈر سے مال جمع کرنے میں اپنی عمر خرچ کرتا ہے تو حقیقت میں اس کا یہ فعل فقیری ہے۔‘‘
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
’’یقین یہ ہے کہ اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کو خوش نہ کرو، اللہ کے رزق پر کسی سے حسد نہ کرو، جو اللہ نے تمھیں نہیں دیا ہے اس پر کسی کو ملامت نہ کرو، حریص کی حرص نہ تو روزی لاسکتی ہے اور نہ ہی کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیدگی اسے روک سکتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اطمینان و خوشی یقین و رضا میں رکھی ہے، اور حزن و ملال شک و عدم رضا میں رکھا ہے۔‘‘
(ماذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 26)
عبدالواحد بن زید رحمۃ اللہ علیہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے تھے: میرے نزدیک آدمی کے لیے دنیا کی حرص اس کے سخت ترین دشمن سے بھی زیادہ خوفناک ہے، اور کہا کرتے تھے: بھائیو! مال و دولت اور بڑی تجارت کے باعث کسی حریص پر رشک نہ کرو، اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھو، اس لیے کہ وہ اس وقت ایسی چیز میں مشغول ہے جو کل قیامت میں اس کے لیے نقصان دہ ہے، اس کے باوجود وہ تکبر کرتا ہے۔ نیز کہا کرتے تھے:
حرص دو طرح کی ہے: (1) پریشان کن حرص
(2) نفع بخش حرص۔ نفع بخش حرص یہ ہے کہ انسان اطاعت الہٰی کا حریص ہو اور پریشان کن حرص یہ ہے کہ انسان دنیا کا حریص ہو۔
(ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 26)
کسی حکیم نے اپنے بھائی کو جو دنیا کا حریص تھا لکھا: اما بعد! تو دنیا کا حریص ہوگیا ہے اس کی خدمت میں لگا ہے جب کہ وہ تجھے اپنے اندر سے مختلف پریشانیوں، بیماریوں اور آفتوں کے ذریعہ سے نکال دینے والی ہے، ایسا لگتا ہے کہ تم نے روزی سے محروم حریص اور روزی یافتہ زاہد کو نہیں دیکھا۔
کسی حکیم کا قول ہے: اکثر غم و حزن میں رہنے والا حاسد ہوتا ہے، سب سے آرام کی زندگی قناعت پسندی کی ہوتی ہے، سب سے زیادہ تکلیف برداشت کرنے والا حریص ہوتا ہے، سب سے ہلکی پھلکی زندگی اس کی ہوتی ہے جو دنیا سے مستغنی ہو، سب سے زیادہ ندامت اٹھانے والا افراط پسند عالم ہے۔
(ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 27)
شاعر کہتا ہے:
الحرص داء قد أضر بمن تری إلا قلیلا
’’حرص ایسی بیماری ہے جس نے اکثر لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے۔‘‘
کم من حریص طامع و الحرص صیرہ ذلیلا
(ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 27)
’’بہت سارے لالچی حریصوں کو حرص نے رسوا کردیا ہے۔‘‘
شاعر محمود وراق کہتا ہے:
و نازح الدار لا ینفک مغتربا من الأحبۃ لا یدرون بالحال
’’رزق کی تلاش میں گھر سے دور رہنے والا دوست و احباب سے مسلسل دور رہتا ہے، وہ اس کے حالات سے واقف نہیں ہوپاتے۔‘‘
بمشرق الأرض طورا ثم مغربہا لا یخطرالموت من حرص علی بال
’’کبھی مشرق میں ہوتا ہے کبھی مغرب میں، حرص کے باعث موت کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔‘‘
و لو قنعت أتاک الرزق فی دعۃ إن القنوع الغنی لا کثرۃ المال
’’اگر تمھیں قناعت حاصل ہوجائے تو تمھارے پاس روزی بڑے سکون و اطمینان سے آئے گی، بلاشبہ قناعت ہی اصل مالداری ہے نہ کہ مال کی کثرت۔‘‘
نیز کہتا ہے:
أیہا المتعب جہدا نفسہ یطلب الدنیا حریصا جاہدا
’’اے وہ شخص جو بڑی حرص اور محنت سے دنیا حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو تھکا رہا ہے۔‘‘
لا لک الدنیا و لا أنت لہا فاجعل الہمین ہما واحدا
(ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 29)
’’ہمیشہ کے لیے نہ تو دنیا تمھاری ہے اور نہ تم دنیا کے ہو، اس لیے (دنیا و آخرت کے) دو غموں کو (آخرت کا) ایک غم بنا دو۔‘‘
حرص مال کی دوسری قسم یہ ہے کہ پہلی قسم میں مذکور چیزوں سے آگے بڑھ کر مال کو حرام طریقوں سے حاصل کرے، واجب حقوق نہ ادا کرے، ایسا کرنا مذموم حرص ہے، فرمان الہٰی ہے:
وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞ (سورۃ التغابن آیت 16)
ترجمہ: اور جو لوگ اپنے دل کی لالچ سے محفوظ ہوجائیں، وہی فلاح پانے والے ہیں۔
سنن ابی داؤد میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
اِتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، أَمْرَہُمْ بِالْقَطِیْعَۃِ فَقَطَعُوْا وَ أَمَرَہُمْ بِالْبُخْل فَبَخِلُوْا وَ أَمَرَہُمْ بِالْفُجُوْرِ فَفَجَرُوْا۔
(سنن أبی داؤد: جلد 2 صفحہ 324، رقم: 1698، البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)
’’حرص سے بچو، حرص نے تم سے پہلے کے لوگوں کو ہلاک کردیا، انھیں قطع تعلق کا حکم دیا تو وہ قطع تعلق کر بیٹھے، انھیں بخیلی کا حکم دیا تو وہ بخیلی کرنے لگے، انھیں برائی کا حکم دیا تو وہ برائی کرنے لگے۔‘‘
بہت سارے علماء کا قول ہے: شح وہ شدید حرص ہے جو حریص کو اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ چیزوں کو لے لیا کرے چاہے وہ حرام ہی کیوں نہ ہوں اور ان میں جو حقوق عائد ہوتے ہیں انھیں وہ ادا نہ کرے،
(ما ذئبان جائعان: صفحہ 31)
اور بخل یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود چیزوں کو خرچ نہ کرے، شح میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انسان دوسرے کے مال وغیرہ کو ظلم و زیادتی سے لے لے، یہاں تک کہ شح کو تمام گناہوں کی جڑ کہا گیا ہے۔ سلف میں سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ نے شح اور بخل کی یہی تفسیر کی ہے۔
(ما ذئبان جائعان: صفحہ 31)
کبھی شح بخل کے معنیٰ میں اور بخل شح کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن اصل دونوں میں فرق کرنا ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔
جب مال کی حرص اس درجے کو پہنچ جائے تو اس سے دین وایمان میں نمایاں نقص پیدا ہوتا ہے، بلاشبہ حقوق کے روکنے اور حرام چیزوں کو لینے سے دین و ایمان میں اس حد تک کمی آ جاتی ہے کہ اس کا تھوڑا سا حصہ باقی رہتا ہے۔
(ما ذئبان جائعان: صفحہ 31)
دنیاوی عزو جاہ کی حرص مال کی حرص سے بھی زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ دنیاوی عزو جاہ اور ترقی، سرداری اور سربلندی کی چاہت، بندے کے حق میں مال کی چاہت سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے، اس سے کنارہ کشی بہت مشکل ہے۔ عز و جاہ کی حرص دو قسم کی ہے:
1۔ حکومت و سلطنت اور مال کے ذریعہ سے عزوجاہ کی چاہت، یہ بڑی خطرناک چیز ہے، یہ چیز اکثر آخرت کی بھلائی، اور عزت وجاہ سے محروم کر دیتی ہے، فرمان الہٰی ہے:
تِلۡكَ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِيۡنَ لَا يُرِيۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فَسَادًا وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ۞ (سورۃ القصص آیت 83)
ترجمہ: وہ آخرت والا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں نہ تو بڑائی چاہتے ہیں، اور نہ فساد، اور آخرت انجام پرہیزگاروں کے حق میں ہوگا۔
حکومت و امارت طلب کر کے جو دنیا کی سرداری کا حریص ہوتا ہے اسے توفیق الہٰی حاصل نہیں ہوتی بلکہ اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:
یَا عَبْدَالرَّحْمٰنِ لَا تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِیْتَہَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِّلْتَ إِلَیْہَا وَ إِنْ أُعْطِیْتَہَا مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْہَا۔
(صحیح البخاری: رقم: 6622)
’’اے عبدالرحمٰن! امارت مت طلب کرنا، اگر یہ چیز طلب کرنے پر تمھیں ملے گی تو تمھیں اس امارت کے ساتھ اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور اگر بغیر مانگے ملے گی تو اس سلسلے میں تمھاری مدد کی جائے گی۔‘‘
تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ عزو جاہ کی حرص، عزو جاہ کے حصول سے پہلے، اس کے اسباب کی کوشش کے وقت، اور اس کے حصول کے بعد، ظلم و تکبر وغیرہ جیسے مفاسد کے ارتکاب کے وقت… بہت بڑے نقصان کو مستلزم ہوتی ہے۔
(ما ذئبان جائعان: صفحہ 35، 43)
2۔ دوسری قسم دینی امور جیسے علم و عمل اور زہد کے ذریعہ سے عز و جاہ اور لوگوں پر فوقیت کی طلب، یہ پہلی قسم سے زیادہ قبیح، مفسد اور خطرناک ہے، علم و عمل اور زہد کے ذریعہ سے تو اللہ کا قرب اور اس کے پاس اونچے درجات اور ابدی نعمتوں کو طلب کیا جاتا ہے۔
(ما ذئبان جائعان: صفحہ 47)
مذموم حرص کا علاج زہد سے ہوسکتا ہے اس کے بہت سارے وسائل ہیں، بعض درج ذیل ہیں:
بندہ حکومت و امارت جس کے اخروی حقوق کو ادا نہ کیا جائے، کے ذریعہ سے دنیاوی عزو جاہ کے حصول کے برے انجام کو دیکھے۔
بندہ ظالموں، متکبروں اور کبریائی میں اللہ سے ٹکرانے والو ں کی سزا پر غور کرے۔
بندہ اخروی سربلندی کے لیے دنیا میں اللہ کے واسطے خاکساری کرنے والوں کے ثواب کو دیکھے، بلاشبہ جو اللہ کے واسطے (دنیا میں) خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے (آخرت میں) سربلندی سے نوازے گا۔
اخروی سربلندی بندے کے بس میں نہیں، بلکہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے، اسے دنیا میں نہ دے کر اس کے عوض اللہ تعالیٰ اپنے زاہد بندوں کو دنیا میں تقویٰ کے شرف، ظاہر میں ان کے لیے لوگوں کے دلوں میں ہیبت، اور باطن میں معرفت الہٰی، ایمان اور اطاعت کی مٹھاس سے نوازتا ہے، اور یہی وہ بہترین زندگی ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس مومن مرد و عورت سے کیا ہے جو عملِ صالح کرتا ہے، دنیا میں یہ بہترین زندگی بادشاہوں اور اصحاب سلطنت کو نصیب نہیں ہوتی۔
عزو جاہ کی حرص کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ہماری زندگی کی حقیقت سے اگربادشاہ اور شہزادے واقف ہوجائیں تو اسے ہم سے چھیننے کے لیے ہم سے تلواروں سے جنگ کریں، جسے بھی منجانب اللہ یہ زندگی نصیب ہوجاتی ہے وہ اسے پاکر ختم ہوجانے والے عزوجاہ اور فنا ہوجانے والی سلطنت کی طلب سے مستغنیٰ ہوجاتا ہے۔
(ما ذئبان جائعان: 75، 76)
فرمانِ الہٰی ہے:
وَلِبَاسُ التَّقۡوٰى ذٰلِكَ خَيۡرٌ ۞ (سورۃ الأعراف آیت 26)
ترجمہ: اور تقوی کا جو لباس ہے وہ سب سے بہتر ہے۔
مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ جَمِيۡعًا۞ (سورۃ فاطر آیت 10)
ترجمہ: جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو، تو تمام تر عزت اللہ کے قبضے میں ہے۔
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ہمیں مذموم حرص سے ڈراتے ہوئے کہا ہے:
’’حرص نفس کی دشمن ہے، اسی کے باعث آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے۔‘‘
(علموا أولادکم حب آل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم: صفحہ 131)