حرص - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حرص

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول: حرص نفس کا دشمن ہے، اسی کے باعث آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے:

فرمان نبویﷺ ہے:

مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِیْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَہَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْئِ عَلَی الْمَالِ وَ الشَّرَفِ لِدِیْنِہِ۔

(الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: رقم: 3218 حدیث حسن صحیح ہے۔)

’’انسان کے دین کو مال کی حرص اور عز و جاہ کی چاہت جتنا نقصان پہنچاتی ہے اتنا نقصان ایسے دو بھوکے بھیڑیے نہیں پہنچاتے جنھیں بکریوں میں چھوڑ دیا گیا ہو۔‘‘

یہ بڑی عظیم مثال ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتلانے کے لیے بیان کیا کہ مسلمان کا دین مال کی حرص اور دنیاوی عز و جاہ کی چاہت سے برباد ہو جاتا ہے، ان کے ذریعہ سے دین کی بربادی بکریوں کی اس بربادی سے کم نہیں جسے وہ دو خونخوار بھوکے بھیڑیے انجام دیتے ہیں، جنھیں ان بکریوں میں چھوڑ دیا گیا ہو اور ان کے چرواہے رات بھر وہاں سے غائب رہے ہوں، وہ بکریوں کو پھاڑ کھاتے رہیں گے اور ایسی صورت میں ان دونوں بھیڑیوں سے بہت کم بکریاں بچ پائیں گی، اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتلایا کہ مال اور عز و جاہ کی حرص انسان کے دین کو جتنا برباد کرتی ہے وہ بربادی اس سے کم نہیں جو دونوں بھیڑیے بکریوں میں پھیلاتے ہیں، وہ بربادی یا تو برابر ہوگی یا زیادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ مال اور عزو جاہ کی حرص کے ساتھ مسلمان کا دین بہت کم محفوظ رہتا ہے، یہ عظیم مثال مال اور دنیاوی عزو جاہ کی حرص کی خرابی سے واضح طور پر آگاہ کر رہی ہے، مال کی حرص دو قسم کی ہوتی ہے:

پہلی قسم: مال کی شدید محبت ہو، اس کے حصول کے لیے تمام تر مباح ذرائع استعمال کیے جائیں اور اس کے حصول کی مبالغہ کی حد تک شدید خواہش ہو، پوری مشقت و پریشانی کے ساتھ مختلف ذرائع سے اس کے حصول کی کوشش کی جائے، حدیث کا شانِ ورود ایسے بعض واقعات کا وقوع ہے، جیسا کہ امام طبرانیؒ (المعجم الأوسط: جلد 1 صفحہ 470، رقم: 855) 

نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے وہ کہتے ہیں: میں نے خیبر کے حصوں میں سے سو حصے خرید لیے، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپﷺ نے فرمایا: دو خونخوار بھیڑیے جو بکریوں کے ایسے ریوڑ میں پہنچ جائیں جنھیں ان کے مالک نے کھو دیا ہو، تو وہ انھیں اتنا نقصان نہیں پہنچا پائیں گے جتنا کہ مال اور عز و جاہ کی حرص مسلمان کے دین کو پہنچاتی ہے۔

(الإحسان فی تقریب صحیح ابن حبان: رقم: 3318، اس کی سند حسن صحیح ہے۔)

امام ابن رجب رحمۃاللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’مال کی حرص میں اچھی عمر ایسی چیز کے لیے ضائع ہوجاتی ہے جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ہے، جب کہ صاحبِ عمر اسے بلند درجات اور ابدی نعمتوں کے حصول میں خرچ کر سکتا ہے، لیکن وہ اسے اس مقسوم و مقدر رزق کے حصول کی حرص میں ضائع کر دیتا ہے، جو اتنا ہی حاصل ہوگا جتنا انسان کے لیے مقدر ہے، پھر اس سے خود مکمل فائدہ بھی نہیں اٹھاتا بلکہ دوسروں کے لیے چھوڑ کر راہی ملک عدم بن جاتا ہے، اس کا حساب اس کے ذمہ ہو جاتا ہے جب کہ فائدہ دوسرے اٹھائیں گے، اس طرح وہ مال ایسے لوگوں کے لیے جمع کرتا ہے جو اس کا شکریہ بھی نہیں ادا کریں گے، یہ چیز حرص کے مذموم ہونے کے لیے کافی ہے۔‘‘

حریص اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے، ایسے مال کے جمع کرنے کے لیے جس سے دوسرے فائدہ اٹھائیں گے، سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ہے، بہت سارے خطرات مول لیتا ہے، جیسا کہ شاعر کہتا ہے:

و من ینفق الأیام فی جمع مالہ مخافۃ فقر فالذی فعل الفقر

(ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 23)

’’جو فقیری کے ڈر سے مال جمع کرنے میں اپنی عمر خرچ کرتا ہے تو حقیقت میں اس کا یہ فعل فقیری ہے۔‘‘

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

’’یقین یہ ہے کہ اللہ کو ناراض کرکے لوگوں کو خوش نہ کرو، اللہ کے رزق پر کسی سے حسد نہ کرو، جو اللہ نے تمھیں نہیں دیا ہے اس پر کسی کو ملامت نہ کرو، حریص کی حرص نہ تو روزی لاسکتی ہے اور نہ ہی کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیدگی اسے روک سکتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اطمینان و خوشی یقین و رضا میں رکھی ہے، اور حزن و ملال شک و عدم رضا میں رکھا ہے۔‘‘

(ماذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 26)

عبدالواحد بن زید رحمۃ اللہ علیہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے تھے: میرے نزدیک آدمی کے لیے دنیا کی حرص اس کے سخت ترین دشمن سے بھی زیادہ خوفناک ہے، اور کہا کرتے تھے: بھائیو! مال و دولت اور بڑی تجارت کے باعث کسی حریص پر رشک نہ کرو، اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھو، اس لیے کہ وہ اس وقت ایسی چیز میں مشغول ہے جو کل قیامت میں اس کے لیے نقصان دہ ہے، اس کے باوجود وہ تکبر کرتا ہے۔ نیز کہا کرتے تھے:

حرص دو طرح کی ہے: (1) پریشان کن حرص

(2) نفع بخش حرص۔ نفع بخش حرص یہ ہے کہ انسان اطاعت الہٰی کا حریص ہو اور پریشان کن حرص یہ ہے کہ انسان دنیا کا حریص ہو۔

(ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 26)

کسی حکیم نے اپنے بھائی کو جو دنیا کا حریص تھا لکھا: اما بعد! تو دنیا کا حریص ہوگیا ہے اس کی خدمت میں لگا ہے جب کہ وہ تجھے اپنے اندر سے مختلف پریشانیوں، بیماریوں اور آفتوں کے ذریعہ سے نکال دینے والی ہے، ایسا لگتا ہے کہ تم نے روزی سے محروم حریص اور روزی یافتہ زاہد کو نہیں دیکھا۔

کسی حکیم کا قول ہے: اکثر غم و حزن میں رہنے والا حاسد ہوتا ہے، سب سے آرام کی زندگی قناعت پسندی کی ہوتی ہے، سب سے زیادہ تکلیف برداشت کرنے والا حریص ہوتا ہے، سب سے ہلکی پھلکی زندگی اس کی ہوتی ہے جو دنیا سے مستغنی ہو، سب سے زیادہ ندامت اٹھانے والا افراط پسند عالم ہے۔

(ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 27)

شاعر کہتا ہے:

الحرص داء قد أضر بمن تری إلا قلیلا

’’حرص ایسی بیماری ہے جس نے اکثر لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے۔‘‘

کم من حریص طامع و الحرص صیرہ ذلیلا

(ما ذئبان جائعان لابن رجب: صفحہ 27)

’’بہت سارے لالچی حریصوں کو حرص نے رسوا کردیا ہے۔‘‘

شاعر محمود وراق کہتا ہے:

و نازح الدار لا ینفک مغتربا من الأحبۃ لا یدرون بالحال

صفحہ 1 از 3