Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جہاد فی سبیل اللہ

  علی محمد الصلابی

اگر ہم خلافت صدیقی کے آغاز سے خلافت فاروقی تک کے امراء و گورنران پر ایک سرسری نظر ڈالیں تو فتوحات میں ان کا کردار واضح نظر آتا ہے، بلکہ وہ لوگ اپنے امرائے لشکر فوجی کمانڈروں کو ان علاقوں کی طرف توجہ دلاتے تھے جو اب تک فتح نہ ہوئے تھے۔ وہ لوگ وہاں جاتے اور اسے فتح کرتے اور پھر اس کی تنظیم و تنسیق کرتے، مثلاً شام کے فوجی کمانڈروں میں حضرت ابو عبیدہ، عمرو بن عاص، یزید بن ابوسفیان اور شرحبیل بن حسنہ رضوان اللہ علیہم اجمعین قابل ذکر ہیں۔ جب کہ عراق کے کمانڈروں میں مثنی بن حارثہ، خالد بن ولید اور عیاض بن غنم وغیرہ رضی اللہ عنہم ہیں۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 71) خلفائے راشدینؓ کے عہد کے گورنران کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنی ریاستوں کے نظم و نسق کی ذمہ داریوں کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ دشمن کی جانب مجاہدانہ پیش رفت میں بھی شرکت کرتے تھے اور ریاست کی دیگر ذمہ داریاں اس سے مانع نہ ہوتی تھیں۔ چنانچہ مجاہدانہ تحریک کو مضبوط بنانے میں گورنروں کے جن اہم کارناموں کا تاریخی مصادر میں ثبوت ملتا ہے ان میں سے چند ایک کو یہاں ذکر کیا جا رہا ہے