Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جود و سخا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمانِ غنیؓ امتِ اسلامیہ کے سخی ترین انسان تھے، آپؓ کی جود و سخا اور فیاضی کے مختلف مواقف اور واقعات اسلامی تاریخ کی پیشانی پر روشن نشان ہیں۔ اس سے قبل غزوۂ تبوک کے موقع پر آپؓ کی فیاضی، بئرِ رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کرنا، عہدِ نبویﷺ‏ میں مسجدِ نبوی کی توسیع، اور عہدِ صدیقیؓ میں غلہ سے لدے ہوئے قافلے کو صدقہ کر دینے کے واقعات گزر چکے ہیں۔ آپؓ ہر جمعہ کو جب سے اسلام قبول کیا تھا اللہ کی راہ میں ایک غلام آزاد کرتے، آپؓ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد تقریباً دو ہزار چار سو تک پہنچتی ہے۔

(الصواعق المحرقۃ، ابنِ حجر الہیثمی: جلد، 1 صفحہ، 327)

مروی ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ذمہ جو خود جود و سخا کے مالک تھے آپؓ کے پچاس ہزار تھے۔ ایک دن حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا آپؓ کا مال حاضر ہے لے لیجیے۔ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: وہ تمہاری مروت کی خاطر تمہارے لیے ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 227)

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور فیاضی آپؓ کی منفرد شخصیت کی اصلی صفت تھی، آپؓ نے اپنے مال کو خدمتِ دین کے لیے وقف کر رکھا تھا، چنانچہ اسلامی سلطنت کی تاسیس، جہاد فی سبیل اللہ اور اسلامی معاشرہ کی خدمت میں کبھی بخیلی نہیں کی، ان سب سے مقصود اللہ کی رضا و خوشنودی کا حصول تھا۔