اسلامی افواج
علی محمد الصلابیسالار اعظم: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
بلاد شام کے جنگی اکھاڑوں کے کمانڈر جنرل: حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ
حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے دمشق سے لے کر بیسان تک کے راستوں پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے مناسب فوج کے ساتھ جس کی تعداد بالضبط نہیں بتائی جا سکتی دس کمانڈروں کو روانہ کیا اور ان سب کا اعلیٰ جنرل ابوالاعور السلمی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، گزشتہ زمانے کا بیسان آج ’’فحل کے کھنڈر‘‘ سے جانا جاتا ہے۔
حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کئی فوجی دستے بنا کر علقمہ بن حکیم اور مسروق رضی اللہ عنہما کی قیادت میں فلسطین کی سمت میں الگ الگ مقامات پر انہیں متعین کر کے مغرب اور جنوب سے رومی کارروائی کے خطرات سے خود کو محفوظ کر لیا۔
(الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 189)
حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے ذوالکلاع کی قیادت میں ایک فوجی دستہ دے کر انہیں شمالی دمشق میں حمص اور دمشق کو جوڑنے والی سڑک کی نگرانی پر مامور کیا، تاکہ یہ علاقہ دشمن کے خطرات سے محفوظ ہو جائے اور روم کی طرف سے کوئی امدادی فوج دمشق میں نہ آسکے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 258، الہندسۃ العسکریۃ، صفحہ 189)
جنگ یرموک کے بعد اسلامی فوج کی تعداد کل چالیس ہزار (40،000) تھی۔ یہ نہایت منظم فوج تھی اور یرموک کی فتح یابی کے بعد خوب اچھی طرح روحانی قوت سے مسلح ہوچکی تھی۔
(الیرموک وتحریر دیار الشام: شاکر محمود: صفحہ 103)
بیس ہزار (20,000) اسلامی افواج نے دمشق کا محاصرہ کیا اور باقی بیس ہزار (20,000) ’’فحل‘‘ بھیج دی گئی تاکہ اس علاقہ سے دشمن کی در اندازی روکی جا سکے، اور ضرورت پڑنے پر انہیں ’’فحل‘‘ سے بلا کر دمشق کے محاذ پر بھی لگایا جا سکے۔
(الہندسۃ العسکریۃ: صفحہ 189)