تیسواں مسئلہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہحضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ منسوب کیا گیا جو عقلاً و نقلاً قابلِ تسلیم نہیں وہ یہ ایک عورت جنگل میں اکیلی جا رہی تھی اس کو سخت پیاس لگی ایک اعرابی سے پانی مانگا اس نے کہا ایک شرط پر پانی دیتا ہوں کہ مجھ سے ہم بستر ہو مجبوراً عورت نے مان لیا اعرابی نے منہ کالا کیا عورت امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کے دربار میں آ کر اقبالی ہوئی آپؓ نے سنگ ساری کا حکم دیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کوئی جرم نہیں ہوا عورت کی رضامندی سے یہ فعل ہوا بس یہ نکاح ہو گیا چلو چھٹی ہو گئی چنانچہ فروعِ کافی: جلد 2 صفحہ 190 میں ہے:
عَنْ أَبِی عَبْدِاللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ جَائَتَ اِمْرَأةٌ إلىَ عُمَرَ فَقَالَتْ اِنِىْ زَنَيْتُ فَطهَِرِنِىْ فَامَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ فَاُخْبِرَ بِذٰلِکَ اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِينَ صلوٰۃُ اللّٰهِ عَلَيْهِ قَالَ كَيْفَ زَنَيْتِ فَقَالَتْ بِالبَادِيِةِ فَاَصَابَنِى عَطْشٌ شَدِيْدٌ فَاسْتَقَيْتُ اَعْرَابِيًا فَاَبىٰ أَنْ يَسْقِينِىْ إِلَّا أَنْ اُمَكِنَّهٗ مِنْ نَفْسِىْ فَلَمَّا اَجْهَدَ فِى العَطْشُ وَخِفْتُ عَلَىَّ فاَمَكَنْتُه مِنْ نَفْسِىْ فَقَالَ اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِينَ تَزويجٌ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ۔
ترجمہ: سیدنا صادقؒ سے روایت ہے کہ ایک عورت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا میں نے زنا کیا ہے آپؓ مجھے پاک کیجیے آپؓ نے سنگساری کا حکم دیا سیدنا علیؓ کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ آپؓ نے عورت سے پوچھا تو نے کس طرح زنا کیا اس نے کہا میں جنگل میں جا رہی تھی مجھے سخت پیاس لگی ایک اعرابی سے پانی مانگا اس نے کہا مجھ سے ہمبستری کر لو تو پانی دوں گا جب پیاس نے مجھے بیتاب کیا اور مر جانے کا اندیشہ ہوا تو میں نے اسے اپنے نفس پر قابو دیا سیدنا علیؓ نے فرمایا باخدا یہ تو نکاح ہو گیا ہے۔
جاۓ غور ہے کہ متعہ تو شیعہ کے ہاں مروج تھا ہی، اس روایت پر عمل کیا جائے نہ تو زنا کا نام بھی دنیا سے نا اٹھ جائے بازاری عورتوں سے جو لوگ زنا کا ارتکاب کرتے ہیں اس میں بھی عورت و مرد باہم راضی ہو جاتے ہیں یہاں تو صرف پانی پلایا گیا وہاں روپیہ بھی دیا جاتا ہے اور یہاں پیاس کی مجبوری تھی وہاں بھوک ستاتی ہے پھر وہ بطریقِ اولىٰ جائز ہو گیا زنا نہ رہا تعجب ہے کہ ارکانِ نکاح دو گواہ ایجاب و قبول میں ایک بات بھی نہ ہوئی عورت مجبوری سے بدکاری پر راضی ہو گئی اس کانشنس نے اسے شرمندہ کیا وہ سمجھتی تھی کہ میں نے خلافِ شرع زنا کا ارتکاب کیا ہے خوفِ عقبیٰ سے دربارِ شریعت میں گئی تاکہ سزا ہو کر اور عفو جرم ہو امیر المؤمنین نے حکم دے دیا سزا کی ضرورت ہی نہیں بلکہ یہ تو نکاح میں داخل ہو گیا یہ کس قدر بہتان امیرؓ پر ہے مخالفِ اسلام یہ واقعہ سن لے تو وہ کیا کچھ بکواس کرے شیعیانِ علی ہیں جو آپ کو یوں مطعون کرتے ہیں۔
من از بیگا نگاں ہرگز ننالم
کہ بامن ہرچہ کرد آں آشنا کرد
کسی نے سچ کہا ہے دشمن دانا بہ از نادان دوست۔