بر تقدیر تسلیم
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہیہ بھی تسلیم کر لیں کہ آیتِ تطہیر کے مصداق ازواج نہیں بلکہ چارے اصحابؓ کساء ہیں تو بھی شیعہ اس سے عصمتِ جناب امیرؓ اور امامت پر استدلال نہیں کر سکتے کیونکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیتؓ تمہارے رجس (گناہ) دور کر دے اگر پہلے ہی سے معصوم تھے تو رجس کا ازالہ بے معنیٰ ہوگا جب ایک چیز کا وجود ہی نہ ہو تو اس کے دور کرنے کا ارادہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر رب العباد کو آیت میں عصمت کی خبر دینی مطلوب ہوتی تو بجائے مضارع کے ماضی کا صیغہ مستعمل ہوتا یعنی
اَذْھَبَ الرِّجْسَ عَنْکُمْ وَطَھَرَکُمْ تَطْھِیْرًا (خدا نے تم سے رجس کو دور کر دیا ہے اور تمہیں کلی طور پر پاک کر دیا ہے) مضارع کا صیغہ استعمال ہونا اس امر کی صاف دلیل ہے کہ پہلے عصمت نہ تھی۔
دوم:
اگر یا دلیل عصمت (اس کے جواب میں علماء شیعہ صحیح مسلم میں زید بن ارقم والی روایت پیش کرتے ہیں جس کے آخری الفاظ یہ ہیں: فقلنا من اھل بیته نساءہ قال لا ايم الله ان المرأة تکون مع الرجل العصر من الدھر ثُمَّ یطلقھا فترجح الیٰ ابیھا وقومھا اھل بیتهٖ اصٖله وعصبتهٗ والذین حر مو الصدقة بعدهٗ۔ ترجمہ: حضرت زید بن ارقمؓ سے ہم نے پوچھا کہ حضورﷺ کے اہلِ بیتؓ کون ہیں؟ کیا حضورﷺ کی ازواج اہلِ بیتؓ ہیں تو آپ نے فرمایا نہیں خدا کی قسم عورت زمانے کا ایک حصہ شوہر کے ساتھ ہوتی ہے پھر وہ اس کو طلاق دے دیتا ہے پس وہ اپنے باپ اور قوم کی طرف واپس چلی جاتی ہے حضورﷺ کے اہلِ بیت آپﷺ کے اصل اور عصبہ ہیں جو آپ کے بعد صدقہ سے محروم کیے گئے الخ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت زید بن ارقمؓ ازجہت نصب و ولادت ازواجِ مطہراتؓ کو اہلِ بیتؓ سے خارج فرما رہے ہیں نہ مطلقاً اور مناسب مقام یہی تھا کہ کیونکہ حضرت زیدؓ یہاں ان اہلِ بیتؓ کا محترم و مکرم ہونا ثابت کر رہے ہیں جو کہ سلاطین بنو امیہ نے ان صدقات سے محروم کر دیا تھا جو عہدِ نبویﷺ اور عہدِ خلفاءِ اربعہؓ میں ان پر تقسیم ہوا کرتے تھے، ورنہ حضرت زیدؓ سے صیحح مسلم کی دوسری روایت میں ازواجِ رسولﷺ کا اہلِ بیتؓ سے ہونے کا اعتراف صریحاً ثابت ہے اس روایت کے آخری الفاظ یہ ہیں: ثم قال واھل بیتی ازکرکم الله فی اھل بیتی فقال له حصین ومن واھل بیت یا زید قال نساءہٗ من واھل بیتهٖ ولٰکن اھل بیتهٖ من حرم الصدقة بعدهٗ قال ومن ھم قال ھم اٰل علیؓ و اٰل عقیلؓ واٰل جعفرؓ واٰل عباسؓ قال کل ھؤُلاءِ حرموا الصدقة قال نعم۔
(صیحح مسلم کتاب الفضائل)
ترجمہ: پھر آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ دوسری چیز میرے اہلِ بیتؓ ہیں میں تم کو اپنے اہلِ بیتؓ کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں پس حسین نے زید سے پوچھا اے زید حضرت محمدﷺ کے اہلِ بیتؓ کون ہیں؟ حضورﷺ کی ازواج آپﷺ کے اہلِ بیتؓ سے نہیں زید نے فرمایا حضورﷺ کی ازواج آپﷺ کے اہلِ بیتؓ میں سے ہیں لیکن آپﷺ کے اہلِ بیتؓ وہ ہیں جو آپﷺ کے بعد صدقے سے محروم کیے گئے اس کے بعد حسین نے کہا وہ کون ہیں زید نے جواب دیا وہ آلِ علیؓ اور آلِ عقیلؓ اور آلِ جعفرؓ اور آلِ عباسؓ ہیں فرمایا کیا وہ سب صدقے سے محروم کیے گئے زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں۔
معلوم ہوا کہ پہلی روایت میں از جہتِ نسب ازواجِ رسولﷺ کے لیے اہلِ بیتؓ ہونے کی نفی کی گئی ہے لہٰذا دونوں میں کوئی تعرض نہ رہا، علاوہ ازیں ہم کہتے ہیں کہ دوسری روایت بوجہ نصوص قرآنی کے موافق ہونے کے راحج ہے اور بااعتبار اسناد میں بھی اس سے قوی ہے کیونکہ پہلی روایت کے اسناد میں احسان بن ابراہیم آتا ہے جس کی نسبت میزان الاعتدال میں ہے
قال النسائی لیس بالقوی وقال ابن عدی حدث بافراداتٍ کثیرةٍ وھو من اھل الصدق الا انه یغلط۔
ترجمہ: یعنی نسائی نے کہا کہ احسان بن ابراہیم قوی نہیں، اور ابنِ عدی نے کہا کہ اس نے بہت سی مفرادات روایت کی ہیں، اور وہ اہلِ صدق میں سے ہے لیکن غلطی کرتا ہے لہٰذا پہلی روایت کے مقابلہ میں دوسری روایت بہرحال قابلِ حجت ہوگی) ایک جناب امیرؓ اور ان کی امامت کی ہے تو پھر وہ آیت جو اصحاب بدر کی شان میں نازل ہوئی ہیں:
وَّلٰـكِنۡ يُّرِيۡدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَ لِيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ الخ۔
(سورۃ المائدہ: آیت 6)
ترجمہ: لیکن خدا چاہتا ہے تم کو پاک کر دے اور اپنی نعمتوں کا تم پر اتمام کرے۔
(حضرت علیؓ نے خود بھی اپنے غیر معصوم ہونے کا اعتراف فرمایا ہے چنانچہ جنگِ صفین میں حاکم رعایا کے حقوق کے بیان فرماتے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: فلا تکفوا عن مقالةٍ بحق او مشورة بعدالٍ فانی لست فی نفسی بفوق من ان اُخطیُ ولا امن ذلک من فعلی الا ان یکفی اللّٰه من نفسی ماھوا املک منی۔
(نہج البلاغت مطبوعہ بیروت جزو اول: صفحہ، 240 مطبوعہ ایران: صفحہ، 344، فروعِ کافی: کتاب الروضہ: صفحہ، 165)
ترجمہ: پس تم سچ بات کہنے یا عدل کے ساتھ مشورہ دینے سے باز نہ رہو، کیونکہ میں بذاتِ خود خطا کرنے سے برتر نہیں ہوں اور نہ اپنے فعل میں خطا سے محفوظ ہوں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ میری ذات کے لیے ایسا کام بنا دے جس سے وہ میری نسبت زیادہ مالک ہے الخ۔
دوسری جگہ ہے:
وَيُذۡهِبَ عَنۡكُمۡ رِجۡزَ الشَّيۡطٰنِ الخ۔
(سورۃ الانفال: آیت 11)
ترجمہ: اور دور کر دے شر شیطان کو۔
سو یہ آیت اصحابِ بدر (جن میں اصحابِ ثلاثہؓ بھی داخل ہیں) کی عصمت کی بھی دلیل ہونی چاہیے ایک ہی قسم کے الفاظ دونوں جگہ ہیں بلکہ اصحاب کی نسبت تمام نعمت کا مضمون مزید براں ہے اگر اصحابِ بدر (بلکہ سورۃ مائدہ رکوع 6 میں وضو و غسل کرنے والوں کی نسبت بھی اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں:
مَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّلٰـكِنۡ يُّرِيۡدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَ لِيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ
(سورۃ المائدہ آیت 6)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی تنگی کریں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم کو پاک کریں، اور نعمت تم پر قائم کریں، تاکہ تم شکر کرو، تو کیا اس آیت میں لِيُطَهِّرَكُمۡ کے الفاظ سے ہر وضو اور غسل کرنے والے کی عصمت پر بھی استدلال کیا جائے گا؟ (احقر مظہر حسین غفرلہٗ)
کی عصمت باوجود ان آیات کے نہیں مانی جاتی تو اصحابِ کساء کی کیوں مانی جائے بہرحال اس آیت سے شیعہ کا استدلال کسی طرح بھی درست نہیں ہو سکتا۔