اسلام لانے کا واقعہ
علی محمد الصلابیابن اسحاق کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی بن ابی طالب نبی کریمﷺ کے پاس آئے، اس وقت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اسلام لاچکی تھیں، دیکھا تو دونوں نماز پڑھ رہے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کیا معاملہ ہے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
دِیْنَ اللّٰہِ اصْطَفَاہٗ لِنَفْسِہٖ، وَ بَعَثَ بِہٖ رُسَلَہٗ، فَأَدْعُوْکَ إِلَی اللّٰہِ وَحْدَہٗ وَ إِلَی عِبَادِتِہٖ، وَ تَکْفُرُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّی۔
’’یہ اللہ کا دین ہے جسے اس نے اپنے لیے پسند کیا اور اسی کے لیے انبیاء کو مبعوث کیا ہے، میں تمہیں بھی اللہ واحد اور اس کی عبادت کی طرف بلاتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ لات اور عزیٰ کو معبود ماننے سے انکار کر دو۔‘‘
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ وہ بات ہے جسے میں نے پہلے کبھی نہیں سنا اور جب تک میں ابوطالب سے ذکر نہ کر لوں کچھ فیصلہ نہیں کر سکتا، جب کہ رسول اللہﷺ کی منشا تھی کہ جب تک اسلام کی اعلانیہ دعوت کا آغاز نہ ہو یہ راز فاش نہ ہو، چنانچہ آپﷺ نے فرمایا:
یَا عَلِیُّ إِذَا لَمْ تُسْلِمْ فَاکْتُمْ
’’اے علی! اگر تم ایمان نہیں لاتے ہو تو اس کو ابھی پوشیدہ رکھنا۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ اس رات خاموش رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی، صبح سویرے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: آپ نے مجھے کل کیا دعوت دی تھی؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
تَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَتَکْفُرْ بِاللَّاتِ وَ الْعُزّٰی وَتَبَرَّأْ مِنَ الْاَنْدَادِ۔
’’اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور لات و عزیٰ کو معبود ماننے سے انکار کر دو، اور کسی کو اس کا شریک ٹھہرانے سے برأت کا اظہار کرو۔‘‘
چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا، پھر اسلام لے آئے اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں ابوطالب سے چھپ چھپا کر آیا کرتے اور اپنے اسلام کو ان پر ظاہر نہ کرتے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 3 صفحہ 4)