حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ
ان آٹھ لوگوں میں سے ہیں، جو پہلے پہل اسلام لائے، اور ان پانچ لوگوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
(الاصابہ: جلد، 2 صفحہ، 229)
غزوہ احد میں سرکار دوعالمﷺ کا اپنی جان کے ذریعہ بچاؤ کیا، تیر اپنے ہاتھوں پر روکتے تھے، اس کی وجہ سے انگلیاں شل ہو گئی تھیں، اس دن حضورﷺ نے ان کو ”طلحة الخیر“ کا لقب دیا، اور بیعتِ رضوان کے موقع سے ”طلحة الجود“ کا لقب دیا اورغزوہ تبوک کے موقع سے ”طلحة الفیاض“ کے لقب سے نوازا۔ آپ نے ان چار عورتوں سے نکاح کیا، جن کی ایک ایک بہن حضورﷺ کے نکاح میں تھیں۔حضرت طلحہؓ کو دربارِ رسالت مآبﷺ میں کتابت کا شرف حاصل ہوا، اس کی صراحت ابن مسکویہ، ابن سیدالناس، عراقی، اور انصاری وغیرہ نے کی ہے۔
(حوالے کے لیے دیکھیے: الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 220
اسد الغابہ: جلد2 صفحہ 92
تجارب الامم: جلد 1 صفحہ 291
عیون الاثر: جلد،2 صفحہ 316
العجالہ السنیہ: صفحہ 246
المصباح المضئی: صفحہ، 29 بحوالہ ”نقوش“ جلد 7 صفحہ 62 ، 63)