مال کی قربانی
علی محمد الصلابیجہاد بالنفس، جہاد بالمال کے ساتھ لگا ہوا ہے، اور بسا اوقات جہاد بالمال کو جہاد بالنفس پر مقدم رکھا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَا يَسۡتَوِى الۡقَاعِدُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ غَيۡرُ اُولِى الضَّرَرِ وَالۡمُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ فَضَّلَ اللّٰهُ الۡمُجٰهِدِيۡنَ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ عَلَى الۡقٰعِدِيۡنَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى وَفَضَّلَ اللّٰهُ الۡمُجٰهِدِيۡنَ عَلَى الۡقٰعِدِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞
(سورۃ النساء: آیت 95)
ترجمہ: جن مسلمانوں کو کوئی معذوری لاحق نہ ہو اور وہ (جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں) بیٹھ رہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہیں۔ جو لوگ اپنے مال و جان سے جہاد کرتے ہیں ان کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے۔ اور اللہ نے سب سے اچھائی کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اور اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دے کر بڑا ثواب بخشا ہے۔
بہت سی آیات کے اندر مال کو جان کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے لہٰذا جو شخص اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتا ہے وہ مجاہد اور بہادر ہے۔ سیدنا عثمانِ غنیؓ نے اللہ کی راہ میں بہت کچھ خرچ کیا ہے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ نے اس پر آپؓ سے خوش ہو کر فرمایا:
ما ضر عثمان ما عمل بعد الیوم
(سنن الترمذی: حدیث، 3785)
ترجمہ: آج کے بعد عثمان کو کوئی عمل نقصان نہیں پہنچائے گا۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بہادر تھے موت سے بالکل نہیں ڈرتے تھے، انتہائی جری تھے، باطل کا کھلے چیلنج کے ساتھ مقابلہ کرتے، انتہائی حلیم و بردبار تھے۔ کسی بے وقوف ترین انسان پر بھی یہ مخفی نہیں۔
(جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ، 304)