یوم ارماث
علی محمد الصلابیمعرکہ قادسیہ کے پہلے دن کو ’’یوم ارماث‘‘ کہا جاتا ہے، یوم ارماث کے موقع پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے اسلامی لشکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’اپنی اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو، اس وقت تک آگے نہ بڑھنا جب تک ظہر کی نماز نہ پڑھ لو، اور جب ظہر کی نماز سے فارغ ہو جاؤ گے تو میں تکبیر کہوں گا، تم بھی تکبیر کہنا اور تیاری شروع کر دینا۔ جان لو کہ نعرہِ تکبیر کی نعمت تم سے پہلے کسی امت کو نہیں ملی، یہ تکبیر تمہیں اللہ کی طرف سے نصرت و تائید میں ملی ہے اور جب میں دوسری تکبیر کہوں گا تو تم بھی تکبیر کہنا اور اپنی تیاریاں مکمل کر لینا اور جب تیسری تکبیر کا نعرہ ماروں گا تو تم بھی تکبیر کہنا۔ شہ سواروں کو چاہیے کہ اس موقع پر لوگوں کو پر جوش اور پھرتیلا بنا دیں تاکہ دشمن کو دعوت مبارزت دیں اور انہیں پیچھے دھکیل سکیں، پھر جب چوتھی تکبیر کہوں گا تو تم سب دشمن پر ٹوٹ پڑو اور ان میں گتھم گتھا ہو جاؤ اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ پڑھتے رہو۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 361) جب سعدؓ ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کی خدمت پر مامور غلام کو جو قاریوں میں سے تھا حکم دیا کہ سورہ جہاد یعنی سورہ انفال کی تلاوت کرے۔ اس نے اپنے قریب کے فوجی حصے میں سورہ انفال کی تلاوت کی اور پھر ہر حصے میں اس سورت کی تلاوت کی گئی۔ اس سورت کا سننا تھا کہ مسلمانوں کے دل کشادہ ہو گئے، آنکھیں چمک اٹھیں اور قلبی سکون سے مالا مال ہو گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 362)
جب حفاظ و قراء تلاوت سے فارغ ہو گئے تو حضرت سعدؓ نے تکبیر کہی، جو لوگ ان سے قریب تھے انہوں نے تکبیر کہی اور پھر پوری فوج تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھی۔ لوگ حرکت میں آ گئے اور جب دوسری تکبیر کہی تو تمام لوگوں نے تیاری مکمل کر لی پھر تیسری تکبیر کہی تو مسلمانوں کے چند جانباز آگے بڑھے اور دشمن کو دعوت مبارزت دی، اہل فارس سے بھی چند نامور سپاہی نکلے، پھر دونوں نے تلوار زنی و نیزہ بازی میں ایک دوسرے سے دو دو ہاتھ کیے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 362)
غالب بن عبداللہ اسدی، عاصم بن عمرو تیمی، عمرو بن معدیکرب زبیدی اور طلیحہ بن خویلد اسدی جیسے مسلم جانبازوں نے اس میدان مبارزت میں دشمن کو بری طرح شکست دی، اس کے کئی نامور بہادر اس میں قتل کیے گئے اور کئی ایک کو قیدی بنایا گیا، جب کہ مذکورہ مسلم جانبازوں میں سے کسی نے جان نہ گنوائی۔ درحقیقت مبارزت، جنگ کے ان مشکل ترین فنون میں سے ایک فن ہے جس پر بڑے بڑے بہادر جانباز ہی قدرت رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسا جنگی فن ہے جس میں فتح یاب ہونے والوں کی شان بلند ہوتی ہے اور ان کے جذبات و احساسات کو قوت ملتی ہے جبکہ شکست خوردہ جماعت کی اہمیت گھٹ جاتی ہے اور اس کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں۔ ابتدائی دور کے مسلمان اس فن میں ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے اور اس کے ظاہری و معنوی اثرات سے فائدہ اٹھاتے رہے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 10 صفحہ 445)
ابھی لوگ چوتھی تکبیر کا انتظار کر ہی رہے تھے کہ بنو نہد قیس بن حذیم بن جرثومہ کے پیدل فوجیوں پر جو ذمہ دار مقرر تھے، وہ جوش میں آ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے بنو نہد! جوانمردی کے جوہر دکھاؤ اور خود کو اسم بامسمّٰی ثابت کرو۔ حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ نے ان کی جلدی کو دیکھ کر کہا: خبردار! خاموش رہو ورنہ تمہاری جگہ دوسرے کو ذمہ دار بنا دوں گا۔ چنانچہ وہ خاموش ہو گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 363)