طلیحہ بن خویلد اسدی
علی محمد الصلابیمعرکے کے تیسرے دن، جنگ دیر گئے رات تک جاری تھی کہ حضرت طلیحہ بن خویلد اسدیؓ کی آواز نے دشمن کی فوج میں اچانک سناٹا پیدا کر دیا، وہ فارسی فوج کے پیچھے پہنچ چکے تھے۔ فارسی فوج یہ صورت حال دیکھ کر گھبرا گئی اور مسلمان تعجب میں پڑ گئے، صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے دونوں افواج نے کچھ دیر کے لیے جنگ بند کر دی۔ دراصل طلیحہ بن خویلد اسدی کو چند لوگوں کے ساتھ وہاں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے بھیجا تھا کہ اس جگہ پر قبضہ جما لیں، کیونکہ ادھر سے دشمن مسلمانوں پر حملہ کر سکتا تھا، لیکن طلیحہ کو سعدؓ کی جس قدر رہنمائی ہوئی تھی انہوں نے اسی پر بس نہ کی، بلکہ دو قدم آگے بڑھ کر فارسی فوج کے پیچھے پہنچ گئے اور بلند آواز سے تین مرتبہ اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 382)
طلیحہ کی اس کارروائی کا یہ فائدہ ہوا کہ جنگ تھوڑی دیر کے لیے بند ہو گئی اور جدید صف بندی و نئی تیاری کا موقع مل گیا۔