فتح افریقہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتح افریقہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے افریقہ کی طرف اپنا سفر جاری رکھا اور ہر سمت اطلاعی دستے اور جاسوس روانہ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا لشکر امن و امان کے ساتھ سبیطلہ پہنچ گیا، اور وہاں اسلامی لشکر عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اور حاکم افریقہ جرجیر کا لشکر ایک دوسرے کے مقابلہ میں آ گئے۔ حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ اور جرجیر کے درمیان اتصال جاری رہا، خط و کتابت ہوتی رہی، جرجیر پر اسلام کی دعوت پیش کی گئی کہ اللہ کے حکم کو مانتے ہوئے اسلام میں داخل ہو جائے یا اسلام کی سیادت کو تسلیم کرتے ہوئے جزیہ ادا کرے اور اپنے دین پر قائم رہے، لیکن وہ اپنے کبر و غرور میں مبتلا رہا، ایک نہ مانی اس صورت حال میں مسلمانوں کو اس پر حملہ کرنا پڑا، دونوں کے درمیان جنگ شروع ہو گئی اور کئی دن تک گھمسان کی جنگ چلتی رہی، یہاں تک کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مدینہ سے مدد پہنچی اور انہی کے ہاتھوں جرجیر متکبر کا خاتمہ ہوا۔

(الشرف والتسامی بحرکۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 193، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 158)

جب ساحل پر موجود رومیوں نے جرجیر اور سبیطلہ کے لوگوں کا انجام دیکھا تو ان کے دل بیٹھ گئے، اور وہ اکٹھا ہونے اور ایک دوسرے سے حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے جنگ کے بارے میں خط و کتابت کرنے لگے، لیکن سب خوفزدہ ہو گئے اور آخرکار ان لوگوں نے حضرت عبداللہ بن سعدؓ سے مصالحت کی پیش کش اور تین سو قنطار سونا یا بعض روایات کے مطابق سو قنطار سونا سالانہ جزیہ دینے کا وعدہ کیا اور مسلمانوں کو واپس جانے کے لیے کہا۔ حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے اس پیش کش کو قبول کر لیا اور مال لے لیا۔ صلح کی شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ صلح سے قبل مسلمانوں کے ہاتھ جو کچھ آیا ہے وہ مسلمانوں کا ہے، اور صلح کے بعد جو کچھ لیا ہے وہ واپس کر دیا جائے گا۔ اس صلح کے بعد آپ مصر واپس ہو گئے، اس طرح حضرت عبداللہ بن سعدؓ افریقہ میں ایک سال تین ماہ یا ایک سال ایک ماہ رہے۔

(الشرف و التسامی بحرکۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 193)

جب حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ طرابلس پہنچے تو وہاں کشتیاں تیار ملیں، ان پر لشکر کا ساز و سامان لاد دیا اور امن و سلامتی کے ساتھ مصر کا رخ کیا، اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خمس وغیرہ مال روانہ فرمایا۔ راجح بات یہ ہے کہ جو کشتیاں آپ کو طرابلس میں تیار ملیں وہ کشتیاں مسلمانوں نے سوریہ اور اسکندریہ میں بطور غنیمت حاصل کی تھیں، کیوں کہ ’’اِرشیبالد‘‘ بیان کرتا ہے کہ اسکندریہ اور سوریہ میں کار خانوں پر صحیح و سالم حالت میں مسلمانوں کے قبضہ کی وجہ سے جو جنگی کشتیاں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں، وہ یا تو تیار شکل میں تھیں یا ان کا تیار کرنا ان کے لیے سہل تھا۔ (لیبیا من الفتح العربی حتی انتقال الخلافۃ الفاطمیۃ الی مصر: صفحہ 46)

یاد رہے کہ یہ ایسی روایات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مصر واپس آنے کے بعد حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے پھر دوبارہ اس وقت افریقہ کا رخ کیا جب 33ھ میں ان لوگوں نے مصالحت کے معاہدہ کو توڑ دیا۔ حضرت عبداللہ بن سعدؓ کو ان پر غلبہ حاصل ہوا، پھر آپ نے وہاں اسلامی نظام کو مستحکم کیا اور وہاں کے باشندوں کو اسلام یا جزیہ پر باقی رکھا۔

(الشرف و التسامی بحرکۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 193)


صفحہ 2 از 2